اشاعتیں

سفید رومال اور نوبل کا میلہ

تصویر
  سفید رومال اور نوبل کا میلہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچاڈو نے جب صدر ٹرمپ کو اپنا نوبل امن انعام پیش کیا، تو یہ منظر بالکل اسی کسان کی یاد دلاتا ہے جسے کہیں سے ایک سفید رومال مل گیا تھا۔ وہ رومال کندھے پر رکھ کر گاؤں میں یوں پھرتا تھا جیسے تخت و تاج پا لیا ہو۔ چوھدری کو یہ اکڑ ایک آنکھ نہ بھاتی۔ اس نے میلے کا منصوبہ بنایا، شور شرابہ کیا، اور آخرکار رومال چھین لیا۔ کسان واپس آیا تو کہنے لگا: "میلہ کچھ نہیں تھا، بس میرے رومال کی چوری کے لیے اتنا بکھیڑا پھیلایا گیا تھا۔"  یہی بکھیڑا آج عالمی سیاست میں دہرایا جا رہا ہے۔ پورے وینزویلا میں فوجی کارروائیاں، صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا سب ایک رومال کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ سب ڈرامہ ایک رومال یعنی نوبل پرائز کے  گرد رچایا گیا۔ اور آخر میں صدر ٹرمپ کندھے پر رومال رکھ کر خوش ہیں۔ آج سفید رومال یا نوبل انعام  طاقت کا کھیل بن چکا ہے۔ اسے پیش کرنا، لینا یا دکھانا صرف ایک مظاہرہ ہے، حقیقت نہیں۔ کسان کی معصوم اکڑ اور صدر کی سیاسی اکڑ میں فرق صرف سطحی ہے۔ دونوں اپنی انا کو بچانے کے لیے علامت کو مقدس بنا لیتے ہیں۔ ایک ک...

ایران: مہذب معاشرہ، خوف زدہ ریاست اور بدلتے حالات

تصویر
  ایران: مہذب معاشرہ، خوف زدہ ریاست اور بدلتے حالات ایران کو عالمی سطح پر عموماً سیاسی تنازعات، پابندیوں اور مذہبی سخت گیری کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، مگر یہ تصویر مکمل نہیں۔ جو لوگ ایران کو قریب سے دیکھ چکے ہیں، ان کے لیے یہ ملک محض خبروں کی سرخیوں کا نام نہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی روایت، منظم شہری زندگی اور شائستہ سماجی رویوں کا حامل معاشرہ ہے۔ تہران جیسے بڑے شہر میں صفائی، شہری نظم و ضبط اور عوامی رویوں میں تہذیب نمایاں نظر آتی ہے۔ بازاروں، عوامی مقامات اور تعلیمی اداروں میں گفتگو کا سلیقہ اور عمومی اخلاقی سطح اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ ایران ایک غیر مہذب یا پسماندہ سماج ہے۔ اس کے باوجود، ایک چیز جو مسلسل محسوس ہوتی ہے وہ ہے لوگوں کے چہروں پر خوشی کی کمی، ایک ایسی خاموش اداسی جو کسی بھی حساس مبصر کی نظر سے اوجھل نہیں رہتی۔ یہ کیفیت محض انفرادی یا وقتی نہیں بلکہ ایک اجتماعی نفسیاتی کیفیت ہے۔ لوگ روزمرہ زندگی گزار رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور سماجی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب کچھ ایک اندرونی دباؤ کے تحت ہو رہا ہو۔ یہ دباؤ کسی ...

ریاستی یا سیاسی مفادات کے لیے مذہبی جذبات کا استعمال کرنا

تصویر
 ریاستی یا سیاسی مفادات کے لیے مذہبی جذبات کا استعمال کرنا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذہب ہمیشہ ایک  اہم اور طاقتور عنصر رہا ہے۔ اور تقریباً ہر  سیاسی پارٹی اور مختلف گروہوں نے اپنے مفادات کیلئے مذھب کارڈ کا  حتی الامکان استعمال کیا پے۔  مذہب کی سیاست صرف انتخابات جیتنے یا ووٹ بینک بنانے تک محدود نہیں۔  بلکہ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں عوامی جذبات، روایتی عقائد اور اخلاقی اصول سب ایک ہی وقت میں کھیل کے حصے بن جاتے ہیں۔ جب مذہبی اصول ریاستی فیصلوں یا سیاسی مقاصد کے تابع ہو جاتے ہیں، تو نہ صرف مذہبی وقار مجروح ہوتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کی بنیادیں بھی متزلزل ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں مذہب اور سیاست کا یہ تعلق قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں سے قائم رہا۔ ایک طرف عوام میں دینی شناخت اور عقائد کی مضبوطی تھی، اور دوسری طرف ریاست کو اپنے وجود کی حفاظت کے لیے ایک مربوط نظریاتی بنیاد کی ضرورت تھی۔ وقت کے ساتھ مذہبی جذبات کو جمہوری یا آمرانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا عمل معمول بن گیا۔ مذہبی جماعتیں سیاسی قوتوں کی پشت پناہی حاصل کر کے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتی رہیں۔...

پرما کرائسس پالیٹیکس یا مستقل بحران کی سیاست

تصویر
  پرما کرائسس پالیٹیکس یا مستقل بحران کی سیاست پرما کرائسس پالیٹیکس دراصل Permanent Crisis Politics کا مختصر اور صحافتی اظہار ہے۔ پرما پالیٹیکس ایک ایسا تصور ہے جو بظاہر سپیکٹرو پالیٹیکس سے ملتا جلتا دکھائی دیتا ہے۔ مگر در اصل یہ اس سے واضح طور پر مختلف ہے۔ اگر سپیکٹرو پالیٹیکس خوف کے سائے پیدا کرتی ہے تو پرما پالیٹیکس انہی سایوں کے نیچے پورا نظام چلا دیتی ہے۔ یہ وہ سیاست ہے جس میں بحران کوئی عارضی مرحلہ نہیں رہتا بلکہ ریاست اور سماج کی مستقل حالت بنا دیا جاتا ہے۔ پرما پالیٹیکس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں معمول نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ ہر دور کو غیر معمولی قرار دیا جاتا ہے، ہر وقت کو نازک کہا جاتا ہے اور ہر فیصلے کو ہنگامی ضرورت کے تحت جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔ عوام کو یہ احساس دیا جاتا ہے کہ ملک ہمیشہ ایک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ذرا سی لغزش سب کچھ برباد کر سکتی ہے۔ اس فضا میں نہ طویل المدتی منصوبہ بندی ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی پائیدار اصلاحات کی گنجائش نکلتی ہے۔ سپیکٹرو پالیٹیکس اور پرما پالیٹیکس کے درمیان فرق کو اگر مثال سے سمجھا جائے تو تصویر زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ سپیکٹرو پا...

وینزویلا کی جنگ: طاقت، تیل اور الزامات کا کھیل

تصویر
  وینزویلا کی جنگ: طاقت، تیل اور الزامات کا کھیل دنیا کی سیاست اکثر شطرنج کی بساط سے مشابہ دکھائی دیتی ہے، جہاں بڑی طاقتیں اپنی چالوں سے چھوٹے اور کمزور ملکوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ وینزویلا کا حالیہ بحران اسی عالمی کھیل کی ایک واضح اور تلخ مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ امریکہ کی فوجی کارروائی، صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری، اور انہیں امریکہ منتقل کر کے مقدمات چلانے کا اعلان نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ پوری دنیا میں شدید تشویش اور ہلچل کا باعث بنا ہے۔ یہ واقعہ کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں دہائیوں پر محیط سیاسی کشیدگی، تیل کے ذخائر پر عالمی سیاست، اور منشیات کے کاروبار سے جڑے الزامات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ وینزویلا دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جن کے پاس خام تیل کے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں۔ تاہم یہ تیل عام نوعیت کا نہیں بلکہ ہیوی کروڈ آئل ہے، جو گاڑھا اور بھاری ہونے کے باعث ریفائننگ کے عمل کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ کی کئی بڑی ریفائنریاں خاص طور پر اسی بھاری تیل کو صاف کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔ یہی حق...

ہم ہار چکے ہیں ۔ اور جنریشن زی انقلاب کے بعد وائی فائی ریفریش کر رہی ہے

تصویر
  ہم ہار چکے ہیں ۔ اور جنریشن زی انقلاب کے بعد وائی فائی ریفریش کر رہی ہے یہ اعلان ہو چکا ہے کہ ہم ہار گئے ہیں۔ نہ آدھے، نہ پورے، بلکہ مکمل طور پر ہارگئے۔ تاریخ کی میز پر بیٹھ کر فیصلہ صادر ہو گیا ہے کہ اب شعور، سچ، جرات، آنکھیں، کان، دماغ اور اخلاقیات سب جنریشن زی کے پاس ہیں۔ باقی نسلیں یا تو اندھی تھیں، یا ملی بھگت میں، یا پھر حب الوطنی کے سیمیناروں میں مصروف تھیں۔ ہم اس فیصلے کو کھلے دل سے قبول کرتے ہیں۔ آخر ہارنا بھی تو ایک تجربہ ہوتا ہے، خاص طور پر جب یہ ہار فیس بک پوسٹس، کالموں اور ٹائم لائنز میں فتح کے طور پر منائی جا رہی ہو۔ جنریشن زی واقعی کمال کی جنریشن ہے۔ یہ وہ واحد نسل ہے جو بیک وقت سب کچھ جانتی بھی ہے، سب کچھ سمجھتی بھی ہے، سب کچھ پہچانتی بھی ہے، اور پھر بھی مسلسل حیران رہتی ہے کہ نظام کیوں نہیں بدل رہا۔ اسے یقین ہے کہ اس سے پہلے سب لوگ یا تو بے وقوف تھے یا شریکِ جرم، اور تاریخ نے اصل آنکھیں اسی دن کھولیں جب وائی فائی آیا۔ ہم جنریشن ایکس والے ذرا سادہ لوگ تھے۔ ہمیں بچپن میں نہ انقلاب سمجھایا گیا، نہ شعور بیچا گیا۔ ہمیں بس یہ بتایا گیا کہ دودھ لانا ہے، پورا لا...

خالی پن: روحانیت کا بنیادی کاغذ

تصویر
  خالی پن: روحانیت کا بنیادی کاغذ روحانیت میں ہر اعلیٰ تجربے کی بنیاد خالی پن ہے۔ یہ وہ داخلی کیفیت ہے جو انسان کو اپنی انا، خواہشات، اور دنیاوی وابستگیوں سے آزاد کر کے روحانی تخلیق اور موجودگی کے لیے تیار کرتی ہے۔ خالی پن محض عدمیت نہیں، بلکہ تخلیقی اور استقبال کی طاقت ہے، جس پر سکون، مراقبہ، شعور اور روحانی روشنی کے رنگ بھرا جا سکتا ہے۔ تصور کریں کہ آپ کے اندر ایک خالی کمرہ ہے۔ یہ کمرہ نہ زیادہ روشن ہے نہ اندھیرا، نہ شور ہے نہ سناٹا۔ بس ایک خالی جگہ ہے، جو ہر لمحے، ہر خیال، اور ہر جذبے کو آنے اور جانے دیتی ہے۔ یہ داخلی کمرہ وہی خالی پن ہے جو روحانیت کے تمام تجربات کی بنیاد ہے۔ 1. بدھا اور شونیتا بدھا نے خالی پن کو "شونیتا" (Śūnyatā) کہا۔ شونیتا کا مطلب ہے کہ کوئی چیز مستقل اور علیحدہ وجود نہیں رکھتی۔ ہر شے تعلقات اور انحصار کے جال میں بندھی ہے۔ بدھا کے مطابق، زندگی کا ہر پہلو عارضی ہے۔ ہم جو چیزیں مستقل سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں وقت اور حالات کے تابع ہیں۔ یہی ادراک انسان کو اندرونی آزادی اور سکون فراہم کرتا ہے۔ شونیتا کا تجربہ انسان کو اپنی انا، خواہشات، اور دنی...