سفید رومال اور نوبل کا میلہ
سفید رومال اور نوبل کا میلہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچاڈو نے جب صدر ٹرمپ کو اپنا نوبل امن انعام پیش کیا، تو یہ منظر بالکل اسی کسان کی یاد دلاتا ہے جسے کہیں سے ایک سفید رومال مل گیا تھا۔ وہ رومال کندھے پر رکھ کر گاؤں میں یوں پھرتا تھا جیسے تخت و تاج پا لیا ہو۔ چوھدری کو یہ اکڑ ایک آنکھ نہ بھاتی۔ اس نے میلے کا منصوبہ بنایا، شور شرابہ کیا، اور آخرکار رومال چھین لیا۔ کسان واپس آیا تو کہنے لگا: "میلہ کچھ نہیں تھا، بس میرے رومال کی چوری کے لیے اتنا بکھیڑا پھیلایا گیا تھا۔" یہی بکھیڑا آج عالمی سیاست میں دہرایا جا رہا ہے۔ پورے وینزویلا میں فوجی کارروائیاں، صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا سب ایک رومال کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ سب ڈرامہ ایک رومال یعنی نوبل پرائز کے گرد رچایا گیا۔ اور آخر میں صدر ٹرمپ کندھے پر رومال رکھ کر خوش ہیں۔ آج سفید رومال یا نوبل انعام طاقت کا کھیل بن چکا ہے۔ اسے پیش کرنا، لینا یا دکھانا صرف ایک مظاہرہ ہے، حقیقت نہیں۔ کسان کی معصوم اکڑ اور صدر کی سیاسی اکڑ میں فرق صرف سطحی ہے۔ دونوں اپنی انا کو بچانے کے لیے علامت کو مقدس بنا لیتے ہیں۔ ایک ک...