جنگ کے دہانے سے واپسی: ایک مہلت، ایک موقع
" جنگ کے دہانے سے واپسی: ایک مہلت، ایک موقع " دنیا ایک بار پھر اس مقام پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں ایک غلط فیصلہ یا ایک ضد پوری انسانیت کو ایسی آگ میں جھونک سکتی تھی جس کے شعلے نسلوں تک محسوس کیے جاتے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ فضا میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ نے خطرے کی گھنٹی اس شدت سے بجائی کہ دنیا کی سانسیں تھم سی گئیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا سخت الٹی میٹم محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دھمکی تھی جس کے پیچھے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کھڑی تھی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ، اور اس کے ساتھ “چند گھنٹوں میں تہذیب کی تباہی” جیسے الفاظ، اس بات کا اعلان تھے کہ معاملہ سفارتی دائرے سے نکل کر خطرناک عسکری تصادم کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا مرکز ہے۔ اس کی بندش یا اس پر کشیدگی کا مطلب صرف علاقائی بحران نہیں بلکہ عالمی اقتصادی زلزلہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران نے امریکی مطالبات کو مسترد کیا تو خطرہ کئی گنا بڑھ گیا۔ دنیا کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے ایک چنگاری پورے ج...