اشاعتیں

گندھارا کی دانش گاہ: پانینی سے چانکیہ تک علم کا سفر

تصویر
گندھارا کی دانش گاہ: پانینی سے چانکیہ تک علم کا سفر گندھارا اور ٹیکسلا صرف ماضی کے نام نہیں، یہ انسانی دانش کے وہ سرچشمے ہیں جہاں سے زبان نے سائنس سیکھی اور سیاست نے نظم سیکھی۔ یہ خطہ محض ہمارا جغرافیہ نہیں، بلکہ عالمی تہذیب کی مشترکہ وراثت ہے۔ گندھارا اور ٹیکسلا کا خطہ محض بدھ خانقاہوں یا مجسمہ سازی تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ انسانی فکر کی عظیم تجربہ گاہ تھا۔ یہاں زبان کو الگورتھم ملا، سیاست کو اصول ملے، اور علم کو سوال کرنے کی آزادی ملی۔ یہ خطہ تہذیبوں کا سنگم تھا جہاں وادیٔ سندھ، وسطی ایشیا، فارس اور گنگا کے میدان ایک دوسرے سے جڑتے تھے۔  ٹیکسلا دنیا کی اولین جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ جسے بعض محققین دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی قرار دیتے ہیں، جس کی بنیاد پانچویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی ۔ یہاں فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، سیاست اور لسانیات جیسے علوم پڑھائے جاتے تھے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان مکالمہ اور تنقید کی روایت عام تھی۔  پانینی کی پیدائش تقریباً 520 قبل مسیح میں شالاتورا نامی گاؤں میں ہوئی، جو موجودہ ضلع اٹک کے قریب دریائے سندھ اور کابل کے سنگم پر واقع تھا۔ پانینی ن...

ٹریڈ بزوکا، سامراج کا خطرناک معاشی ہتھیار

تصویر
  ٹریڈ بزوکا، سامراج کا خطرناک معاشی ہتھیار دنیا اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگیں اب صرف میدانِ جنگ میں نہیں  بلکہ منڈیوں، بندرگاہوں، بینکوں اور تجارتی راستوں پر لڑی جا رہی ہیں۔ توپ و تفنگ کی جگہ ٹیرف، پابندیاں اور معاشی دھمکیاں لے چکی ہیں۔ ریاستیں اب اپنی معاشی قوت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں. اسی تناظر میں ایک اصطلاح عالمی صحافت اور سیاسی تجزیے کا حصہ بن چکی ہے جیسے "ٹریڈ بزوکا" کہتے ہیں۔ بزوکا دراصل ایک بھاری جنگی ہتھیار ہے جو بیسویں صدی میں ٹینک شکن ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا۔ یہ کندھے پر رکھا جانے والا راکٹ لانچر ہوتا ہے جس کا مقصد دشمن کی مضبوط دفاعی لائن، بکتر بند گاڑی یا ٹینک کو ایک ہی وار میں ناکارہ بنانا ہوتا ہے۔ بزوکا عام ہتھیار نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے اُس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب عام گولی یا ہلکا ہتھیار بے اثر ہو جائے۔ اس کی خاصیت یہی ہے کہ یہ آخری، سخت اور فیصلہ کن وار کی علامت ہے۔ اسی تصور کو عالمی تجارت میں استعارے کے طور پر اپنایا گیا اور یوں ٹریڈ بزوکا کی اصطلاح وجود میں آئی۔ ٹریڈ بزوکا کوئی باضابطہ قانونی یا معاشی اصط...

معاشرے کی اصلاح کا جدید نسخہ

تصویر
  معاشرے کی اصلاح کا جدید نسخہ ہمارا معاشرہ ایک ایسا ڈرامہ تھیٹر  ہے، جہاں عقل کے نام پر حماقت، ترقی کے نام پر زوال، اور خوشحالی کے نام پر دکھ بیچا جا رہا ہے۔ ہر طرف شور ہے، ہر طرف دعوے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی ہی ایجادوں کے بوجھ تلے دب کر اب مزید چلنے کے قابل نہیں رہا۔ ایسے میں ضروری ہے کہ کوئی معقول تجویز دی جائے۔ ویسے بھی ہم من حیث القوم مفت مشورے بانٹنے کے عادی ہیں۔ اسلئے موقع سے فائدہ اٹھا کر کچھ مفت مشورے پیش خدمت ہیں۔ چونکہ پوری قوم موبائل فون  کے لت میں مبتلا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ ان سب کے دماغ کو براہِ راست موبائل سے کنکٹ کر دیا جائے۔ یوں نہ حکومت پر تنقید ہوگی، نہ جلسہ، نہ جلوس، نہ روزگار کی فکر، نہ روٹی کا غم۔ سب لوگ اپنی اسکرینوں میں گھسے رہیں گے، اور دنیا کے اصل مسائل محض "نوٹیفکیشن" کی صورت میں سامنے آئیں گے، جنہیں ایک کلک سے بند کیا جا سکے گا۔  اب بھوک کا علاج "فوڈ ایپ" ہوگی، بیماری کا علاج "ہیلتھ ٹریکنگ ایپ"، اور غربت کا علاج "فری وائی فائی"۔ کپڑوں اور مکان کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ ہر شخص اپنی پروفائل پکچر میں خوش...

سفید رومال اور نوبل کا میلہ

تصویر
  سفید رومال اور نوبل کا میلہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچاڈو نے جب صدر ٹرمپ کو اپنا نوبل امن انعام پیش کیا، تو یہ منظر بالکل اسی کسان کی یاد دلاتا ہے جسے کہیں سے ایک سفید رومال مل گیا تھا۔ وہ رومال کندھے پر رکھ کر گاؤں میں یوں پھرتا تھا جیسے تخت و تاج پا لیا ہو۔ چوھدری کو یہ اکڑ ایک آنکھ نہ بھاتی۔ اس نے میلے کا منصوبہ بنایا، شور شرابہ کیا، اور آخرکار رومال چھین لیا۔ کسان واپس آیا تو کہنے لگا: "میلہ کچھ نہیں تھا، بس میرے رومال کی چوری کے لیے اتنا بکھیڑا پھیلایا گیا تھا۔"  یہی بکھیڑا آج عالمی سیاست میں دہرایا جا رہا ہے۔ پورے وینزویلا میں فوجی کارروائیاں، صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا سب ایک رومال کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ سب ڈرامہ ایک رومال یعنی نوبل پرائز کے  گرد رچایا گیا۔ اور آخر میں صدر ٹرمپ کندھے پر رومال رکھ کر خوش ہیں۔ آج سفید رومال یا نوبل انعام  طاقت کا کھیل بن چکا ہے۔ اسے پیش کرنا، لینا یا دکھانا صرف ایک مظاہرہ ہے، حقیقت نہیں۔ کسان کی معصوم اکڑ اور صدر کی سیاسی اکڑ میں فرق صرف سطحی ہے۔ دونوں اپنی انا کو بچانے کے لیے علامت کو مقدس بنا لیتے ہیں۔ ایک ک...

ایران: مہذب معاشرہ، خوف زدہ ریاست اور بدلتے حالات

تصویر
  ایران: مہذب معاشرہ، خوف زدہ ریاست اور بدلتے حالات ایران کو عالمی سطح پر عموماً سیاسی تنازعات، پابندیوں اور مذہبی سخت گیری کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، مگر یہ تصویر مکمل نہیں۔ جو لوگ ایران کو قریب سے دیکھ چکے ہیں، ان کے لیے یہ ملک محض خبروں کی سرخیوں کا نام نہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی روایت، منظم شہری زندگی اور شائستہ سماجی رویوں کا حامل معاشرہ ہے۔ تہران جیسے بڑے شہر میں صفائی، شہری نظم و ضبط اور عوامی رویوں میں تہذیب نمایاں نظر آتی ہے۔ بازاروں، عوامی مقامات اور تعلیمی اداروں میں گفتگو کا سلیقہ اور عمومی اخلاقی سطح اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ ایران ایک غیر مہذب یا پسماندہ سماج ہے۔ اس کے باوجود، ایک چیز جو مسلسل محسوس ہوتی ہے وہ ہے لوگوں کے چہروں پر خوشی کی کمی، ایک ایسی خاموش اداسی جو کسی بھی حساس مبصر کی نظر سے اوجھل نہیں رہتی۔ یہ کیفیت محض انفرادی یا وقتی نہیں بلکہ ایک اجتماعی نفسیاتی کیفیت ہے۔ لوگ روزمرہ زندگی گزار رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور سماجی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب کچھ ایک اندرونی دباؤ کے تحت ہو رہا ہو۔ یہ دباؤ کسی ...

ریاستی یا سیاسی مفادات کے لیے مذہبی جذبات کا استعمال کرنا

تصویر
 ریاستی یا سیاسی مفادات کے لیے مذہبی جذبات کا استعمال کرنا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذہب ہمیشہ ایک  اہم اور طاقتور عنصر رہا ہے۔ اور تقریباً ہر  سیاسی پارٹی اور مختلف گروہوں نے اپنے مفادات کیلئے مذھب کارڈ کا  حتی الامکان استعمال کیا پے۔  مذہب کی سیاست صرف انتخابات جیتنے یا ووٹ بینک بنانے تک محدود نہیں۔  بلکہ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں عوامی جذبات، روایتی عقائد اور اخلاقی اصول سب ایک ہی وقت میں کھیل کے حصے بن جاتے ہیں۔ جب مذہبی اصول ریاستی فیصلوں یا سیاسی مقاصد کے تابع ہو جاتے ہیں، تو نہ صرف مذہبی وقار مجروح ہوتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کی بنیادیں بھی متزلزل ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں مذہب اور سیاست کا یہ تعلق قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں سے قائم رہا۔ ایک طرف عوام میں دینی شناخت اور عقائد کی مضبوطی تھی، اور دوسری طرف ریاست کو اپنے وجود کی حفاظت کے لیے ایک مربوط نظریاتی بنیاد کی ضرورت تھی۔ وقت کے ساتھ مذہبی جذبات کو جمہوری یا آمرانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا عمل معمول بن گیا۔ مذہبی جماعتیں سیاسی قوتوں کی پشت پناہی حاصل کر کے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتی رہیں۔...

پرما کرائسس پالیٹیکس یا مستقل بحران کی سیاست

تصویر
  پرما کرائسس پالیٹیکس یا مستقل بحران کی سیاست پرما کرائسس پالیٹیکس دراصل Permanent Crisis Politics کا مختصر اور صحافتی اظہار ہے۔ پرما پالیٹیکس ایک ایسا تصور ہے جو بظاہر سپیکٹرو پالیٹیکس سے ملتا جلتا دکھائی دیتا ہے۔ مگر در اصل یہ اس سے واضح طور پر مختلف ہے۔ اگر سپیکٹرو پالیٹیکس خوف کے سائے پیدا کرتی ہے تو پرما پالیٹیکس انہی سایوں کے نیچے پورا نظام چلا دیتی ہے۔ یہ وہ سیاست ہے جس میں بحران کوئی عارضی مرحلہ نہیں رہتا بلکہ ریاست اور سماج کی مستقل حالت بنا دیا جاتا ہے۔ پرما پالیٹیکس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں معمول نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ ہر دور کو غیر معمولی قرار دیا جاتا ہے، ہر وقت کو نازک کہا جاتا ہے اور ہر فیصلے کو ہنگامی ضرورت کے تحت جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔ عوام کو یہ احساس دیا جاتا ہے کہ ملک ہمیشہ ایک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ذرا سی لغزش سب کچھ برباد کر سکتی ہے۔ اس فضا میں نہ طویل المدتی منصوبہ بندی ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی پائیدار اصلاحات کی گنجائش نکلتی ہے۔ سپیکٹرو پالیٹیکس اور پرما پالیٹیکس کے درمیان فرق کو اگر مثال سے سمجھا جائے تو تصویر زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ سپیکٹرو پا...