ہم ہار چکے ہیں ۔ اور جنریشن زی انقلاب کے بعد وائی فائی ریفریش کر رہی ہے


 



ہم ہار چکے ہیں ۔
اور جنریشن زی انقلاب کے بعد وائی فائی ریفریش کر رہی ہے

یہ اعلان ہو چکا ہے کہ ہم ہار گئے ہیں۔
نہ آدھے، نہ پورے، بلکہ مکمل طور پر ہارگئے۔
تاریخ کی میز پر بیٹھ کر فیصلہ صادر ہو گیا ہے کہ اب شعور، سچ، جرات، آنکھیں، کان، دماغ اور اخلاقیات سب جنریشن زی کے پاس ہیں۔ باقی نسلیں یا تو اندھی تھیں، یا ملی بھگت میں، یا پھر حب الوطنی کے سیمیناروں میں مصروف تھیں۔
ہم اس فیصلے کو کھلے دل سے قبول کرتے ہیں۔
آخر ہارنا بھی تو ایک تجربہ ہوتا ہے، خاص طور پر جب یہ ہار فیس بک پوسٹس، کالموں اور ٹائم لائنز میں فتح کے طور پر منائی جا رہی ہو۔
جنریشن زی واقعی کمال کی جنریشن ہے۔ یہ وہ واحد نسل ہے جو بیک وقت سب کچھ جانتی بھی ہے، سب کچھ سمجھتی بھی ہے، سب کچھ پہچانتی بھی ہے، اور پھر بھی مسلسل حیران رہتی ہے کہ نظام کیوں نہیں بدل رہا۔ اسے یقین ہے کہ اس سے پہلے سب لوگ یا تو بے وقوف تھے یا شریکِ جرم، اور تاریخ نے اصل آنکھیں اسی دن کھولیں جب وائی فائی آیا۔
ہم جنریشن ایکس والے ذرا سادہ لوگ تھے۔ ہمیں بچپن میں نہ انقلاب سمجھایا گیا، نہ شعور بیچا گیا۔ ہمیں بس یہ بتایا گیا کہ دودھ لانا ہے، پورا لانا ہے، اور اگر پانچ روپے بچ جائیں تو کسی کو بتانا نہیں۔ انہی پانچ روپے میں ہم نے کالے چنے خریدے، اور وہی ہماری پہلی مزاحمت تھی۔ نہ نعرہ، نہ کالم، نہ تھریڈ۔ بس نمک، مرچ اور زندگی سے وقتی صلح۔
جنریشن زی کو یہ سب براہِ راست ملا۔ اسے بتایا گیا کہ وہ خاص ہے، مختلف ہے، اور تاریخ کا رخ بدلنے آئی ہے۔ اس نے یہ بات مان لی، کیونکہ انٹرنیٹ نے کہا تھا، اور انٹرنیٹ جھوٹ نہیں بولتا، بس کبھی کبھار کنٹینٹ اپڈیٹ کرتا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ اب کوئی پرانی نسل کو نہیں سنتا۔ بالکل درست۔ مگر یہ اس لیے نہیں کہ پرانی نسل غلط تھی، بلکہ اس لیے کہ نئی نسل خود کو سننے میں بہت مصروف ہے۔ ہر رائے اہم ہے، ہر احساس انقلاب ہے، اور ہر ناراضگی ایک نظریہ ہے۔ اگر کسی بات پر اتفاق نہ ہو تو فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ سامنے والا یا تو مرا ہوا ہے یا اس بوسیدہ نظام کا حصہ ہے۔
جنریشن زی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ ہر سنجیدہ مسئلے کو میم بنا دیتی ہے اور پھر اسے اپنی جرات کا ثبوت کہتی ہے۔ جنگ ہو، پابندی ہو، بحران ہو، سب کچھ قابلِ مذاق ہے۔ یہ واقعی ذہانت ہے، مگر سوال یہ ہے کہ مذاق کے بعد کیا؟ میم کے بعد کیا؟
ہم پر الزام ہے کہ ہم نے نظام کو سہارا دیا۔ ممکن ہے۔ مگر اگر ہم نظام کو سہارا نہ دیتے تو آج کے انقلابی کس سسٹم پر بیٹھ کر سسٹم کو گالیاں دیتے؟ اگر سب کچھ پہلے ہی جلا دیا جاتا تو آج کی بغاوت کہاں لاگ ان ہوتی؟
جنریشن زی کو فائر وال سے مسئلہ ہے، ٹیکس سے مسئلہ ہے، ضابطوں سے مسئلہ ہے، اور ہر اس چیز سے مسئلہ ہے جو ذرا سی دیر مانگتی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس کیلئے بفرنگ ایک ذاتی حملہ ہے اور سست انٹرنیٹ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی۔ ہم نے بفرنگ میں پوری جوانی گزار دی تھی، مگر کبھی اقوامِ متحدہ نہیں گئے۔
کہا جا رہا ہے کہ نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں کیونکہ وہ تھک چکے ہیں۔ بالکل درست۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی ہر تھکی ہوئی نسل یہی کرتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے لوگ خاموشی سے جاتے تھے، اب اسے اخلاقی فتح بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ملک چھوڑنا اب ہجرت نہیں، اسٹیٹس اپڈیٹ ہے۔
جنریشن زی خود کو بہت حقیقت پسند سمجھتی ہے۔ اسے یقین ہے کہ وہ کسی فریب میں نہیں آ رہی۔ مگر یہ بھی وہی نسل ہے جو یہ مانتی ہے کہ انقلاب بغیر قیمت کے آ سکتا ہے، نظام بغیر ٹوٹے بدل سکتا ہے، اور ذمہ داری ہمیشہ کسی اور کی ہوتی ہے۔ یہ تضاد اتنا خوبصورت ہے کہ اس پر ہنسی نہ آئے تو واقعی ہم ہار چکے ہیں۔
ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ اب خیالات پر سینسر شپ نہیں لگ سکتی۔ شاید درست ہو۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ آج خیالات خود ہی اتنے جلدی بدل جاتے ہیں کہ سینسر شپ کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ جو بات آج انقلاب ہے، کل کرنج کنٹینٹ بن جاتی ہے۔
جنریشن زی واقعی باشعور ہے، مگر ابھی نوجوان ہے۔ اور نوجوانی کا سب سے بڑا فریب یہی ہوتا ہے کہ آدمی سمجھتا ہے کہ اس سے پہلے کسی نے کچھ نہیں سمجھا۔ یہ فریب ہم نے بھی پالا تھا، بس اس وقت ہمارے پاس اسے وائرل کرنے کے ذرائع کم تھے۔
سچ یہ ہے کہ ہر جنریشن کو لگتا ہے کہ شعور اسی کے ساتھ آیا ہے، اور اس کے بعد والی نسل برباد ہو جائے گی۔ جنریشن زی بھی اس روایت کو پوری ایمانداری سے آگے بڑھا رہی ہے۔ وہ بھی وقت کے ساتھ سیکھے گی کہ انقلاب کوئی ون ڈے ڈیلیوری نہیں، بلکہ ایک طویل، بور، اور اکثر مایوس کن عمل ہے، جس میں کالے چنوں جیسی چیزوں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔
اگر ہم واقعی ہار چکے ہیں تو ہمیں اس ہار پر کوئی افسوس نہیں۔ ہم بغیر اعلان کے ہارے، بغیر خود کو مرکز بنائے زندگی گزاری۔  ہم نے اپنی تھکن اور ناکامیوں  کو  نظریہ یا فلسفہ نہیں بنایا ۔
بس ایک آخری گزارش ہے۔ انقلاب کے اگلے سیزن سے پہلے چارجر ساتھ رکھ لیجیے گا۔
وائی فائی کا بل بھی دیکھ لیجیے گا۔ اور کبھی فرصت میں کالے چنے کھا کر سوچیے گا کہ شاید اصل مزاحمت اتنی شور مچانے والی نہیں ہوتی جتنی آپ کو لگتی ہے۔ باقی،
انقلاب جاری رکھئے۔
ہم سائیڈ پر بیٹھ کر مسکرا رہے ہیں۔
ہمیں ہارنے کی عادت ہے…
آپ کو شاید جیتنے کی۔

ندیم  فاروقی 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں