وینزویلا کی جنگ: طاقت، تیل اور الزامات کا کھیل

 


وینزویلا کی جنگ: طاقت، تیل اور الزامات کا کھیل
دنیا کی سیاست اکثر شطرنج کی بساط سے مشابہ دکھائی دیتی ہے، جہاں بڑی طاقتیں اپنی چالوں سے چھوٹے اور کمزور ملکوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ وینزویلا کا حالیہ بحران اسی عالمی کھیل کی ایک واضح اور تلخ مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ امریکہ کی فوجی کارروائی، صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری، اور انہیں امریکہ منتقل کر کے مقدمات چلانے کا اعلان نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ پوری دنیا میں شدید تشویش اور ہلچل کا باعث بنا ہے۔
یہ واقعہ کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں دہائیوں پر محیط سیاسی کشیدگی، تیل کے ذخائر پر عالمی سیاست، اور منشیات کے کاروبار سے جڑے الزامات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔
وینزویلا دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جن کے پاس خام تیل کے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں۔ تاہم یہ تیل عام نوعیت کا نہیں بلکہ ہیوی کروڈ آئل ہے، جو گاڑھا اور بھاری ہونے کے باعث ریفائننگ کے عمل کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ کی کئی بڑی ریفائنریاں خاص طور پر اسی بھاری تیل کو صاف کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔ یہی حقیقت دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے تعلقات کو ابتدا ہی سے حساس اور پیچیدہ بناتی رہی ہے۔
ایک جانب امریکہ کو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے وینزویلا کے تیل پر انحصار رہا، تو دوسری جانب وہ وینزویلا کی حکومت پر غیر جمہوری طرزِ حکومت، بدعنوانی اور منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتا رہا۔ یہ تضاد دونوں ملکوں کے تعلقات میں مسلسل تناؤ کا سبب بنتا رہا۔ بعد ازاں جب امریکہ نے شیل آئل اور نسبتاً ہلکے تیل کی پیداوار پر توجہ دی تو ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا، کیونکہ موجودہ ریفائنریاں اس تیل کے لیے مکمل طور پر موزوں نہیں۔ نئی ریفائنریاں تعمیر کرنا ایک مہنگا اور طویل المدتی منصوبہ ہے، جس کے لیے بھاری سرمایہ درکار ہے۔ اسی تناظر میں وینزویلا کے بھاری تیل کے ذخائر امریکہ کے لیے ایک نسبتاً آسان اور فوری حل کے طور پر دیکھے جانے لگے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں طاقت، معیشت اور سیاست ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو جاتے ہیں۔ وینزویلا کی حکومت کو کمزور کرنا اور اس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا امریکہ کی اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل ہوتا چلا گیا۔ صدر مادورو پر منشیات اسمگلنگ اور “نارکو ٹیررازم” کے الزامات اسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی مؤقف کے مطابق وینزویلا کی ریاستی مشینری منشیات کے کارٹیلز کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور ملک کو ایک “نارکو اسٹیٹ” میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان الزامات کی بنیاد پر وینزویلا کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔
ماضی میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ ہوگو شاویز کے دور میں وینزویلا نے امریکی پالیسیوں کو کھلے عام چیلنج کیا اور تیل کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ شاویز کے بعد مادورو نے بھی اسی پالیسی کو آگے بڑھایا، تاہم اس دوران وینزویلا کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو گئی۔ افراطِ زر نے تمام حدیں عبور کر لیں، عوام بنیادی ضروریات سے محروم ہو گئے اور لاکھوں شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اس معاشی ابتری نے امریکہ کو وینزویلا کی حکومت کو ناکام اور غیر قانونی قرار دینے کا مزید جواز فراہم کیا۔
حالیہ فوجی کارروائی، جس کے نتیجے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا گیا، امریکی مداخلت کی ایک نئی اور خطرناک سطح کی نشاندہی کرتی ہے۔ امریکہ نے اس اقدام کو قانون اور انصاف کے نام پر درست قرار دیا، مگر ناقدین کے نزدیک یہ کھلا طاقت کا مظاہرہ ہے۔ یہاں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا اصول پوری شدت سے کارفرما نظر آتا ہے، جہاں طاقتور ریاست اپنی ضرورت اور مفاد کے تحت کمزور ملک کی قیادت کو ہٹا دیتی ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر وینزویلا کے عوام ہیں۔ ایک طرف وہ برسوں سے معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ان کے ملک کے وسائل پر بیرونی کنٹرول کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔ اگرچہ عبوری انتظامیہ نے مادورو کی رہائی کے لیے کمیشن قائم کرنے کی بات کی ہے، لیکن عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں چھوٹے ملکوں کی آواز اکثر دب کر رہ جاتی ہے۔
اس تنازعے کا مرکز و محور ایک بار پھر تیل ہی ہے۔ وینزویلا کے بھاری تیل کو صاف کرنے کے لیے امریکی ریفائنریاں پہلے سے تیار ہیں، جبکہ شیل آئل کے لیے نئی تنصیبات ایک مہنگا اور وقت طلب مرحلہ ہیں۔ اسی لیے وینزویلا کے وسائل پر کنٹرول کو امریکہ کے لیے ایک مختصر راستہ سمجھا جاتا ہے، مگر اس راستے کی قیمت وینزویلا کے عوام اپنی خودمختاری اور آزادی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
منشیات کے کاروبار سے متعلق الزامات بھی اس پوری کشمکش کا ایک اہم ہتھیار ہیں۔ امریکہ نے مادورو اور ان کے قریبی حلقے پر اربوں ڈالر کے منشیات کاروبار میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے، جن کی صداقت پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ تاہم یہ حقیقت واضح ہے کہ ان الزامات کو سیاسی اور عسکری اقدامات کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔
یہ بحران صرف وینزویلا اور امریکہ تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کے اثرات عالمی تیل منڈی، لاطینی امریکہ کے سیاسی استحکام اور بین الاقوامی طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی اسی تشویش کی عکاسی کرتا ہے، اگرچہ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے فورمز پر کمزور ریاستوں کے حق میں فیصلے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔
وینزویلا کا بحران عالمی سیاست کا ایک آئینہ ہے، جس میں اصول، قانون اور انصاف کے دعوے ثانوی جبکہ طاقت فیصلہ کن عنصر کے طور پر سامنے آتی ہے۔ وینزویلا کے عوام کے لیے یہ ایک المیہ ہے، اور دنیا کے لیے ایک واضح سبق کہ جب تک طاقت کا کھیل جاری رہے گا، کمزور قوموں کی تقدیر دوسروں کے ہاتھوں سے ہی لکھی جاتی رہے گی۔

ندیم احمد فاروقی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں