پرما کرائسس پالیٹیکس یا مستقل بحران کی سیاست


 پرما کرائسس پالیٹیکس یا مستقل بحران کی سیاست

پرما کرائسس پالیٹیکس دراصل Permanent Crisis Politics کا مختصر اور صحافتی اظہار ہے۔ پرما پالیٹیکس ایک ایسا تصور ہے جو بظاہر سپیکٹرو پالیٹیکس سے ملتا جلتا دکھائی دیتا ہے۔ مگر در اصل یہ اس سے واضح طور پر مختلف ہے۔ اگر سپیکٹرو پالیٹیکس خوف کے سائے پیدا کرتی ہے تو پرما پالیٹیکس انہی سایوں کے نیچے پورا نظام چلا دیتی ہے۔ یہ وہ سیاست ہے جس میں بحران کوئی عارضی مرحلہ نہیں رہتا بلکہ ریاست اور سماج کی مستقل حالت بنا دیا جاتا ہے۔
پرما پالیٹیکس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں معمول نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ ہر دور کو غیر معمولی قرار دیا جاتا ہے، ہر وقت کو نازک کہا جاتا ہے اور ہر فیصلے کو ہنگامی ضرورت کے تحت جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔ عوام کو یہ احساس دیا جاتا ہے کہ ملک ہمیشہ ایک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ذرا سی لغزش سب کچھ برباد کر سکتی ہے۔ اس فضا میں نہ طویل المدتی منصوبہ بندی ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی پائیدار اصلاحات کی گنجائش نکلتی ہے۔
سپیکٹرو پالیٹیکس اور پرما پالیٹیکس کے درمیان فرق کو اگر مثال سے سمجھا جائے تو تصویر زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ سپیکٹرو پالیٹیکس میں عوام کو بتایا جاتا ہے کہ کوئی خطرہ موجود ہے، مگر وہ نظر نہیں آتا۔ دشمن کا نام واضح نہیں ہوتا، سازش کا نقشہ مکمل نہیں ہوتا، مگر خوف مسلسل موجود رہتا ہے۔ اس کے برعکس پرما پالیٹیکس میں خطرہ واضح ہوتا ہے، اعلان شدہ ہوتا ہے، مگر ختم نہیں ہوتا۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ معیشت ڈوب رہی ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ ریاست خطرے میں ہے، کبھی نظام کے بکھرنے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ خطرات بدلتے رہتے ہیں، مگر بحران برقرار رہتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں پرما پالیٹیکس کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ یہاں دہائیوں سے عوام نے ایک بھی ایسا دور نہیں دیکھا جسے مکمل طور پر معمول کا زمانہ کہا جا سکے۔ کبھی سیکیورٹی کا بحران، کبھی معاشی ایمرجنسی، کبھی سیاسی عدم استحکام اور کبھی ادارہ جاتی کشمکش۔ ہر دور میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ملک اس وقت کسی بڑے امتحان سے گزر رہا ہے، اس لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں اور سوال اٹھانا غیر ذمہ داری ہے۔
پرما پالیٹیکس کی ایک نمایاں علامت یہ ہے کہ ہر پالیسی عارضی ہوتی ہے مگر بحران مستقل۔ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ یہ اقدامات وقتی ہیں، یہ قربانیاں وقتی ہیں، یہ پابندیاں وقتی ہیں۔ مگر وقت گزرتا جاتا ہے اور وقتی فیصلے مستقل شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس اصلاحات، ادارہ سازی اور عوامی فلاح ہمیشہ مستقبل کے کسی غیر معین لمحے پر چھوڑ دی جاتی ہیں۔
اگر سپیکٹرو پالیٹیکس ذہنوں میں خوف پیدا کرتی ہے تو پرما پالیٹیکس ذہنوں میں تھکن بھر دیتی ہے۔ لوگ ڈر کے مارے نہیں بلکہ مسلسل دباؤ اور ناامیدی کے باعث سوال چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب عوام یہ مان لیتے ہیں کہ حالات کبھی بہتر نہیں ہوں گے، اس لیے جو چل رہا ہے اسی کو قبول کر لینا ہی دانشمندی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پرما پالیٹیکس سب سے زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے۔
مثال کے طور پر جب کسی ملک میں ہر سال بجٹ یہ کہہ کر پیش کیا جائے کہ حالات غیر معمولی ہیں، معیشت نازک ہے اور عوام کو قربانی دینی ہوگی، تو یہ پرما پالیٹیکس کی واضح شکل ہے۔ اسی طرح جب انتخابات، جمہوری عمل یا شہری آزادیوں کو بار بار یہ کہہ کر محدود کیا جائے کہ ملک بحران سے گزر رہا ہے، تو یہ بھی اسی سیاست کا حصہ بن جاتا ہے۔ بحران دلیل بن جاتا ہے اور دلیل کبھی ختم نہیں ہوتی۔
سپیکٹرو پالیٹیکس اور پرما پالیٹیکس کا ایک اور بنیادی فرق یہ ہے کہ سپیکٹرو پالیٹیکس خاموشی کو جنم دیتی ہے جبکہ پرما پالیٹیکس تاخیر کو جائز ٹھہراتی ہے۔ پہلی میں لوگ اس لیے نہیں بولتے کہ ڈرتے ہیں، دوسری میں لوگ اس لیے نہیں بولتے کہ انہیں لگتا ہے کہ بولنے سے کچھ بدلنے والا نہیں۔ یہ فرق معمولی نہیں بلکہ گہرا اور خطرناک ہے۔
پرما پالیٹیکس کا سب سے بڑا فائدہ حکمران طبقات کو یہ ہوتا ہے کہ احتساب ہمیشہ مؤخر رہتا ہے۔ جب ملک مستقل بحران میں ہو تو کارکردگی کا جائزہ لینا عیاشی سمجھا جاتا ہے۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ پہلے ملک کو بچا لیں، بعد میں حساب کتاب ہوگا۔ مگر بعد میں کبھی نہیں آتا، کیونکہ بحران کبھی ختم ہی نہیں ہونے دیا جاتا۔
اس طرزِ سیاست کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاستی ادارے مضبوط ہونے کے بجائے عارضی حل پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ نظام آگے بڑھنے کے بجائے کسی طرح چلتا رہتا ہے۔ پالیسی سازی ردِعمل پر مبنی ہو تی ہے، وژن پر نہیں۔ قوم مستقبل کی تعمیر کے بجائے حال کے بوجھ تلے دبی رہتی ہے۔
پرما پالیٹیکس دراصل ایک ایسی ذہنی قید ہے جس میں قوم کو یہ یقین دلا دیا جاتا ہے کہ غیر معمولی حالات ہی اس کی اصل پہچان ہیں۔ جب کوئی معاشرہ اس سوچ کو قبول کر لے تو پھر استحکام بھی جمود میں بدل جاتا ہے اور صبر بھی بے بسی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں آگے بڑھنا ہے تو اسے پرما پالیٹیکس کے اس دائرے کو توڑنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بحرانوں سے انکار کیا جائے، بلکہ یہ تسلیم کیا جائے کہ بحران مستقل نہیں ہو سکتے۔ سوال اٹھانا، منصوبہ بندی کرنا اور اصلاحات پر اصرار کرنا کسی بحران میں بھی غیر ذمہ داری نہیں بلکہ یہی واحد راستہ ہوتا ہے جو قوموں کو مستقل ایمرجنسی سے نکال کر معمول کی زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔
پرما پالیٹیکس ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اصل خطرہ بحران نہیں بلکہ اس بحران کو معمول بنا لینا ہے۔ جب غیر معمولی حالت ہی مستقل بن جائے تو ترقی، انصاف اور استحکام محض نعرے بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں قوموں کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ بحران کے ساتھ جینا چاہتی ہیں یا اس سے باہر نکلنے کی جدوجہد کرنا چاہتی ہیں۔
ندیم احمد فاروقی




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں