اشاعتیں

مئی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خندق سے ڈرون تک

تصویر
 "خندق سے ڈرون تک" جب پہلی بار خبر آئی کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے ہیں، تو دنیا بھر کے فوجی ماہرین نے ایک ہی عدد لکھا: 72 گھنٹے۔ ہر تجزیہ، ہر انٹیلی جنس رپورٹ اور ہر کمپیوٹر ماڈل یہی بتا رہا تھا کہ ایرانی فضائیہ غیر مؤثر ہو جائے گی، دفاعی نظام بکھر جائے گا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ عمومی تاثر یہی تھا کہ ایران زیادہ دیر تک دباؤ برداشت نہیں کر سکے گا۔ لیکن تاریخ کو محض حسابی ماڈلز میں قید کرنے والوں نے ایک اہم عنصر کو کم سمجھا: ایرانی دفاعی ذہنیت۔ وہی ذہنیت جس نے چودہ سو سال پہلے مدینہ کے گرد خندق کھودی، منگولوں کے خلاف برسوں مزاحمت کی، اور عراق کی آٹھ سالہ جنگ کو "مقدس دفاع" میں بدل دیا۔ قدیم تدابیر ہوں یا جدید مزاحمتیں، آج یہی سوچ میزائل، ڈرونز اور زیرِ زمین تنصیبات کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایران کا جغرافیہ ہمیشہ سے حملہ آوروں کے لیے مشکل ثابت ہوا ہے۔ سکندر اعظم سے لے کر عربوں، سلجوقوں، منگولوں اور تیموریوں تک، ہر ایک نے اس سرزمین کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مگر ایرانی دفاع کی گہرائی اور مزاحمت کی روایت نے ...

"آئی پی پیز" یعنی انکل کی بکری کا سالانہ منافع

تصویر
آج بات کریں گے ملک کے اُس نایاب نظام کی، جسے ہم پیار سے "آئی پی پیز" کہتے ہیں۔ ویسے تو انگریزی میں اس کا مطلب "Independent Power Producers" ہے، لیکن میں نے اس کا زیادہ مناسب ترجمہ دریافت کیا ہے:  "انکل کی پرانی پنشن"۔ سمجھ نہیں آئی؟ تو سنیے۔ فرض کیجیے آپ کے گھر میں ایک انکل ہیں۔ انھوں نے بیس سال پہلے گھر کے لیے ایک بکری خریدی تھی کہ دودھ دے گی۔ بکری کی قیمت کا ستر فیصد آپ نے اپنی جیب سے دیا، انکل نے صرف تیس فیصد لگایا۔ مگر معاہدہ یہ ہوا کہ بکری دودھ دے یا نہ دے، انکل کو دودھ کے پیسے ملتے رہیں گے۔ دودھ کی قیمت بھی ڈالر میں طے ہوگی۔ بکری بوڑھی ہو جائے، مر جائے، تب بھی ادائیگی جاری رہے گی۔ اور اگر کبھی آپ حساب مانگ بیٹھیں تو خاندان ناراض ہو جائے گا۔ یہ ہے پاکستان کا آئی پی پیز کا نظام۔  ایسا نظام جسے سمجھنے کے لیے معاشیات کی ڈگری سے زیادہ مضبوط اعصاب کی ضرورت پڑتی ہے۔ بات 1994 کی ہے۔ اُس وقت ملک میں بجلی کا بحران تھا۔ حکومت کے پاس وسائل کم تھے، اس لیے فیصلہ ہوا کہ نجی کمپنیوں کو بجلی پیدا کرنے کی دعوت دی جائے۔ پیشکش کچھ یوں تھی:  "آپ بجلی بنائیں، ہم ہر ح...