اشاعتیں

مئی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

"آئی پی پیز" یعنی انکل کی بکری کا سالانہ منافع

تصویر
آج بات کریں گے ملک کے اُس نایاب نظام کی، جسے ہم پیار سے "آئی پی پیز" کہتے ہیں۔ ویسے تو انگریزی میں اس کا مطلب "Independent Power Producers" ہے، لیکن میں نے اس کا زیادہ مناسب ترجمہ دریافت کیا ہے:  "انکل کی پرانی پنشن"۔ سمجھ نہیں آئی؟ تو سنیے۔ فرض کیجیے آپ کے گھر میں ایک انکل ہیں۔ انھوں نے بیس سال پہلے گھر کے لیے ایک بکری خریدی تھی کہ دودھ دے گی۔ بکری کی قیمت کا ستر فیصد آپ نے اپنی جیب سے دیا، انکل نے صرف تیس فیصد لگایا۔ مگر معاہدہ یہ ہوا کہ بکری دودھ دے یا نہ دے، انکل کو دودھ کے پیسے ملتے رہیں گے۔ دودھ کی قیمت بھی ڈالر میں طے ہوگی۔ بکری بوڑھی ہو جائے، مر جائے، تب بھی ادائیگی جاری رہے گی۔ اور اگر کبھی آپ حساب مانگ بیٹھیں تو خاندان ناراض ہو جائے گا۔ یہ ہے پاکستان کا آئی پی پیز کا نظام۔  ایسا نظام جسے سمجھنے کے لیے معاشیات کی ڈگری سے زیادہ مضبوط اعصاب کی ضرورت پڑتی ہے۔ بات 1994 کی ہے۔ اُس وقت ملک میں بجلی کا بحران تھا۔ حکومت کے پاس وسائل کم تھے، اس لیے فیصلہ ہوا کہ نجی کمپنیوں کو بجلی پیدا کرنے کی دعوت دی جائے۔ پیشکش کچھ یوں تھی:  "آپ بجلی بنائیں، ہم ہر ح...