حیاتیاتی گھڑی اور انسانی زندگی
انسان کی زندگی میں وقت ہمیشہ ایک بنیادی قوت رہا ہے۔ سورج کا طلوع و غروب، دن اور رات کا تسلسل اور موسموں کی آمد و رفت ہماری حیات کے دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔ مگر وقت صرف باہر نہیں، ہمارے اندر بھی دھڑکتا ہے۔ جسم کے اندر ایک ایسی گھڑی موجود ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ کب جاگنا ہے، کب سونا ہے، کب بھوک لگنی ہے اور کب توانائی کے چشمے پھوٹنے ہیں۔ اسی کو سائنس کی زبان میں سرکیڈین ردھم یا حیاتیاتی گھڑی کہا جاتا ہے۔ یہ گھڑی دماغ کے ایک حصے میں موجود دماغی حیاتیاتی گھڑی کا مرکز ہے، جو روشنی اور اندھیرے کے اشاروں سے پورے جسم کو ہدایت دیتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں "میلاٹونن" نامی ہارمون بڑھتا ہے اور ہمیں نیند آنے لگتی ہے، صبح کے وقت "کارٹیسول" زیادہ ہوتا ہے جو دن کے آغاز کے لیے توانائی بخشتا ہے۔ جسم کا درجہ حرارت دن میں بلند اور رات کو کم ہو جاتا ہے، اور ہاضمہ بھی اسی تال کے مطابق چلتا ہے۔ یہ اندرونی نظام اگر بگڑ جائے تو نیند کی کمی، یادداشت کی کمزوری، موٹاپا، ذیابیطس اور ڈپریشن جیسی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان اس نظام کو سمجھنے پر زور دیتے ہیں تاکہ انسان اپنی زن...