اشاعتیں

2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

850 روپے والا پاکستان کہاں گیا؟

تصویر
 "850 روپے والا پاکستان کہاں گیا؟" سوشل میڈیا کی لامتناہی بھیڑ میں، جہاں روزانہ ہزاروں تصاویر اور ویڈیوز نگاہوں سے گزرتی ہیں، گزشتہ دنوں ایک دوست نے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) لاہور کے ایک کلرک، محمد اشرف، کی 15 جون 1980ء کو جاری ہونے والی تنخواہ کی ایک زرد رسید شیئر کی۔ اس تاریخی رسید پر کل رقم درج تھی: ’’850 روپے فقط‘‘۔ اس میں 650 روپے بنیادی تنخواہ، 120 روپے مہنگائی الاؤنس، 60 روپے مکان کرایہ الاؤنس اور 20 روپے سفری بھتہ شامل تھا۔ یہ محض ایک پرانی دفتری رسید نہیں، بلکہ ہماری معاشی تاریخ کا ایک ایسا خاموش دستاویز ہے جو کئی دہائیوں پر محیط معاشی تبدیلیوں، پالیسیوں اور ترجیحات کی پوری داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ 1980ء کا یہ 850 روپیہ ایک عام سرکاری ملازم کے پورے مہینے کا سہارا بنتا تھا۔ اس سے گھر کا نظام چلتا تھا، بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے ہوتے تھے، روزمرہ ضروریاتِ زندگی باوقار انداز میں پوری کی جاتی تھیں اور اکثر کچھ نہ کچھ بچت بھی ممکن ہو جاتی تھی۔ معیشت کا اصل پیمانہ رقم کی مقدار نہیں بلکہ اس کی قوتِ خرید ہوتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ محمد اشرف کی تنخواہ 850 روپے...

عوام کی جائیداد، کارپوریٹ کی حکومت اور سوئی ہوئی پارلیمنٹ

تصویر
   "عوام کی جائیداد، کارپوریٹ کی حکومت اور سوئی ہوئی پارلیمنٹ " پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس ملک میں ارکانِ اسمبلی کی مراعات، تنخواہوں میں اضافے یا شاہی پروٹوکول کی بات آئی، تو ایوان میں موجود تمام نظریاتی اختلافات پلک جھپکتے میں غائب ہو گئے۔ گھنٹوں لڑنے والے سیاستدان ایک دوسرے کے گلے لگ گئے اور بل چند منٹوں میں، بغیر کسی بحث کے، متفقہ طور پر پاس کر دیا گیا۔ لیکن جب معاملہ ایک عام پاکستانی کے بنیادی حقوق، اس کی نجی املاک کے تحفظ اور اس کی جیب پر ڈاکے کا ہو، تو ہماری قومی اسمبلی ایک ایسی 'ربڑ اسٹیمپ' بن جاتی ہے جس کا کام صرف طاقتور حلقوں اور کارپوریٹ مافیا کی فائلوں پر انگوٹھا لگانا رہ جاتا ہے۔ حالیہ "پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026" اس مجرمانہ غفلت اور عوامی بیگانگی کی بدترین مثال ہے۔ قومی اسمبلی سے انتہائی خاموشی اور عجلت میں پاس کرایا جانے والا یہ بل کوئی عام قانون نہیں، بلکہ نجی ٹیلی کام کمپنیوں کو ایک عام شہری کے گھر، چھت اور جائیداد پر زبردستی قبضہ کرنے کا قانونی لائسنس ہے۔ بل کی شقیں پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اگر کوئی کمپنی آپ کے گھر ک...

"ایران۔امریکہ عبوری معاہدہ: امن کی پہلی کرن یا نئے طوفان سے پہلے کا سکوت؟"

تصویر
 "ایران۔امریکہ عبوری معاہدہ: امن کی پہلی کرن یا نئے طوفان سے پہلے کا سکوت؟" ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض حلقے اسے امن کی جانب پہلا قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ  کچھ ماہرین کے نزدیک یہ صرف ایک عارضی وقفہ ہے جو کسی بڑے تصادم سے پہلے کا سکوت بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے نے کئی ماہ سے جاری فوجی کشیدگی کو وقتی طور پر روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن بیشتر مبصرین اسے مستقل امن کی بجائے ایک عبوری جنگ بندی تصور کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ پائیدار امن کی بنیاد بنے گا یا ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوگا؟ اس معاہدے کا سب سے فوری اور مثبت پہلو فوجی کارروائیوں میں نمایاں کمی ہے۔ جس انداز سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا تھے، اس سے نہ صرف خلیجی ریاستیں بلکہ پوری عالمی معیشت خطرات سے دوچار ہو رہی تھی۔ معاہدے کے نتیجے میں تیل کی اہم بحری گزرگاہوں کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں نسبتاً استحکام آیا ہے۔ اسی طرح ایران کو اپ...

حیاتیاتی گھڑی اور انسانی زندگی

تصویر
 انسان کی زندگی میں وقت ہمیشہ ایک بنیادی قوت رہا ہے۔ سورج کا طلوع و غروب، دن اور رات کا تسلسل اور موسموں کی آمد و رفت ہماری حیات کے دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔ مگر وقت صرف باہر نہیں، ہمارے اندر بھی دھڑکتا ہے۔ جسم کے اندر ایک ایسی گھڑی موجود ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ کب جاگنا ہے، کب سونا ہے، کب بھوک لگنی ہے اور کب توانائی کے چشمے پھوٹنے ہیں۔ اسی کو سائنس کی زبان میں سرکیڈین ردھم یا حیاتیاتی گھڑی کہا جاتا ہے۔ یہ گھڑی دماغ کے ایک حصے میں موجود دماغی حیاتیاتی گھڑی کا مرکز ہے، جو روشنی اور اندھیرے کے اشاروں سے پورے جسم کو ہدایت دیتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں "میلاٹونن" نامی ہارمون بڑھتا ہے اور ہمیں نیند آنے لگتی ہے، صبح کے وقت "کارٹیسول" زیادہ ہوتا ہے جو دن کے آغاز کے لیے توانائی بخشتا ہے۔ جسم کا درجہ حرارت دن میں بلند اور رات کو کم ہو جاتا ہے، اور ہاضمہ بھی اسی تال کے مطابق چلتا ہے۔ یہ اندرونی نظام اگر بگڑ جائے تو نیند کی کمی، یادداشت کی کمزوری، موٹاپا، ذیابیطس اور ڈپریشن جیسی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان اس نظام کو سمجھنے پر زور دیتے ہیں تاکہ انسان اپنی زن...

آئی ایم ایف کا لگان

تصویر
  سنیما کی تاریخ میں کچھ مناظر صرف منظر نہیں رہتے، وہ معاشروں کی ذہنیت بن جاتے ہیں۔ فلم لگان کا وہ منظر آج بھی ایک زخم کی طرح یاد رہتا ہے، جہاں خشک سالی سے جلتے ہوئے گاؤں میں کسان امید کے آخری ٹکڑے کو بھون کے گرد جمع کر لیتے ہیں۔ زمین جل رہی ہے، کنویں مر چکے ہیں، آسمان جیسے زمین کے خلاف اعلانِ جنگ کر چکا ہے، اور اسی لمحے کپتان رسل محل کے جھروکے سے حکم دیتا ہے: "لگان دگنا دینا ہوگا!" یہ جملہ صرف ٹیکس نہیں تھا، یہ ایک تہذیب کا اعلان تھا۔ طاقت کے سامنے انسان کی بے بسی کا اعلان تھا۔ کسان ہاتھ جوڑتے ہیں، دہائیاں دیتے ہیں، مگر دربار میں گونج صرف ایک ہی ہے: حکم اوپر سے آیا ہے۔ اور حکم پر سوال نہیں ہوتا۔ اگر نجات چاہیے تو شرط سادہ ہے: غیر مساوی کھیل میں جیت کر دکھاؤ۔ آج جب مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش ہو رہا تھا، تو یوں لگا جیسے تاریخ نے خود کو ریبوٹ کر لیا ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب کپتان رسل گھوڑے پر نہیں آتا۔ اب وہ کسی جھروکے میں بھی نہیں بیٹھتا۔ اب وہ کہیں بہت دور، فائلوں، شرائط اور معاہدوں کے درمیان چھپا ہوتا ہے۔ اور یہاں نیچے اس کے فیصلوں کی گرد عام آدمی کے سانسوں میں اترتی ہے۔...

فٹبال ورلڈ کپ اور امن کا عالمی پیغام

تصویر
  دنیا اس وقت ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف جنگوں کی گھن گرج ہے، میزائلوں کی آوازیں ہیں، سیاسی اختلافات ہیں اور طاقت کی کشمکش ہے، تو دوسری طرف امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی میزبانی میں جاری فٹبال ورلڈ کپ میں دنیا کے مختلف ممالک ایک ہی میدان میں جمع ہیں۔ وہاں ہتھیار نہیں، گیند چلتی ہے؛ بارود نہیں، تالیوں کی گونج سنائی دیتی ہے؛ نفرت نہیں، کھیل کا جذبہ غالب آتا ہے۔ فٹبال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اور فیفا ورلڈ کپ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں انسانوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ یہ ایسا ایونٹ ہے جسے نسل، مذہب، زبان اور سیاست کی سرحدوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہے۔ اس بار کا عالمی کپ ایک اور وجہ سے بھی منفرد ہے کہ دنیا کے کئی ممالک باہمی سیاسی کشیدگی کے باوجود ایک ہی ٹورنامنٹ میں شریک ہیں۔ خاص طور پر ایران کی شرکت اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ کھیل بعض اوقات سفارت کاری سے بھی زیادہ طاقتور زبان بولتے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، مگر میدان میں کھلاڑی اپنے ملک کی نمائندگی کھیل کے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دنیا کو احساس ہوتا ہے کہ اختلاف کے باوجود رابطہ مم...

خندق سے ڈرون تک

تصویر
 "خندق سے ڈرون تک" جب پہلی بار خبر آئی کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے ہیں، تو دنیا بھر کے فوجی ماہرین نے ایک ہی عدد لکھا: 72 گھنٹے۔ ہر تجزیہ، ہر انٹیلی جنس رپورٹ اور ہر کمپیوٹر ماڈل یہی بتا رہا تھا کہ ایرانی فضائیہ غیر مؤثر ہو جائے گی، دفاعی نظام بکھر جائے گا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ عمومی تاثر یہی تھا کہ ایران زیادہ دیر تک دباؤ برداشت نہیں کر سکے گا۔ لیکن تاریخ کو محض حسابی ماڈلز میں قید کرنے والوں نے ایک اہم عنصر کو کم سمجھا: ایرانی دفاعی ذہنیت۔ وہی ذہنیت جس نے چودہ سو سال پہلے مدینہ کے گرد خندق کھودی، منگولوں کے خلاف برسوں مزاحمت کی، اور عراق کی آٹھ سالہ جنگ کو "مقدس دفاع" میں بدل دیا۔ قدیم تدابیر ہوں یا جدید مزاحمتیں، آج یہی سوچ میزائل، ڈرونز اور زیرِ زمین تنصیبات کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایران کا جغرافیہ ہمیشہ سے حملہ آوروں کے لیے مشکل ثابت ہوا ہے۔ سکندر اعظم سے لے کر عربوں، سلجوقوں، منگولوں اور تیموریوں تک، ہر ایک نے اس سرزمین کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مگر ایرانی دفاع کی گہرائی اور مزاحمت کی روایت نے ...

"آئی پی پیز" یعنی انکل کی بکری کا سالانہ منافع

تصویر
آج بات کریں گے ملک کے اُس نایاب نظام کی، جسے ہم پیار سے "آئی پی پیز" کہتے ہیں۔ ویسے تو انگریزی میں اس کا مطلب "Independent Power Producers" ہے، لیکن میں نے اس کا زیادہ مناسب ترجمہ دریافت کیا ہے:  "انکل کی پرانی پنشن"۔ سمجھ نہیں آئی؟ تو سنیے۔ فرض کیجیے آپ کے گھر میں ایک انکل ہیں۔ انھوں نے بیس سال پہلے گھر کے لیے ایک بکری خریدی تھی کہ دودھ دے گی۔ بکری کی قیمت کا ستر فیصد آپ نے اپنی جیب سے دیا، انکل نے صرف تیس فیصد لگایا۔ مگر معاہدہ یہ ہوا کہ بکری دودھ دے یا نہ دے، انکل کو دودھ کے پیسے ملتے رہیں گے۔ دودھ کی قیمت بھی ڈالر میں طے ہوگی۔ بکری بوڑھی ہو جائے، مر جائے، تب بھی ادائیگی جاری رہے گی۔ اور اگر کبھی آپ حساب مانگ بیٹھیں تو خاندان ناراض ہو جائے گا۔ یہ ہے پاکستان کا آئی پی پیز کا نظام۔  ایسا نظام جسے سمجھنے کے لیے معاشیات کی ڈگری سے زیادہ مضبوط اعصاب کی ضرورت پڑتی ہے۔ بات 1994 کی ہے۔ اُس وقت ملک میں بجلی کا بحران تھا۔ حکومت کے پاس وسائل کم تھے، اس لیے فیصلہ ہوا کہ نجی کمپنیوں کو بجلی پیدا کرنے کی دعوت دی جائے۔ پیشکش کچھ یوں تھی:  "آپ بجلی بنائیں، ہم ہر ح...

ہائڈ پارک سے ایکس تک — آزادیٔ اظہار یا "کی بورڈ واریئرز" کا ہجوم؟

تصویر
  " ہائڈ پارک سے ایکس تک — آزادیٔ اظہار یا "کی بورڈ واریئرز" کا ہجوم؟" لندن کے ہائڈ پارک میں ایک "اسپیکرز کارنر" ہوا کرتا تھا، جو کبھی جمہوریت اور آزادیٔ اظہار کا سب سے جاندار نمونہ سمجھا جاتا تھا۔ وہاں کی فضا میں ایک عجیب سا توازن تھا؛ بولنے والا ایک لکڑی کے کریٹ پر کھڑا ہوتا تھا تاکہ اس کا قد مجمع سے تھوڑا بلند نظر آئے، مگر اس کی حیثیت مجمع کے برابر ہی رہتی تھی۔ اس کی آزادی کی ایک قیمت تھی جو شاید آج کے "ڈیجیٹل انقلابیوں" کے لیے ناقابلِ فہم ہو۔ وہاں بولنے والے کو سامعین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی پڑتی تھی، اسے سامنے کھڑے لوگوں کے تیکھے سوالات، طنزیہ مسکراہٹوں اور کبھی کبھار سخت ردِعمل کو براہِ راست سہنا پڑتا تھا۔ وہاں الفاظ کا وزن کہنے والے کے کندھوں پر ہوتا تھا۔ اگر آپ کی دلیل میں جان نہیں تھی، تو مجمع کی خاموشی یا ایک بلند قہقہہ آپ کو اسٹیج سے اتارنے کے لیے کافی تھا۔ وہ جگہ صرف اظہار کی آزادی نہیں دیتی تھی، بلکہ انسان کو یہ سکھاتی تھی کہ اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جیا جاتا ہے۔ مگر پھر وقت نے کروٹ لی، اور ٹیکنالوج...

ایٹم بم: حفاظت یا ہلاکت؟

تصویر
  " ایٹم بم: حفاظت یا ہلاکت؟  "         دنیا نے جب ایٹمی توانائی کو دریافت کیا تو اسے انسانی ترقی کی معراج اور توانائی کے بحران کا حل سمجھا گیا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہی معراج ایک ایسا نوکیلا پہاڑ ہے جس کی چوٹی پر پہنچ کر انسان کے قدم ہمیشہ لرزتے رہتے ہیں۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو دشمن کے شہر کو لمحوں میں راکھ کے ڈھیر میں بدل سکتا ہے۔ مگر اس کی سب سے بڑی اور ہولناک سچائی یہ ہے کہ یہ صرف دشمن کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے بنانے والے کے لیے بھی ایک مستقل، خاموش اور ہمہ وقت موجود خطرہ ہے۔ ہم جسے اپنی ڈھال سمجھتے ہیں، وہ دراصل ایک ایسا دو دھاری تلوار ہے جس کا دستہ بھی اتنا ہی تیز ہے جتنا کہ اس کی دھار۔ 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے دنیا کو پہلی بار دکھایا کہ جنگ اگر اس سطح پر پہنچ جائے تو یہ صرف فوجی فتح یا شکست نہیں رہتی بلکہ انسانیت کی اجتماعی خودکشی بن جاتی ہے۔ وہ لاکھوں جانیں جو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بھاپ بن کر اڑ گئیں، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک ایسی بستی کے باسی تھے جہاں "ایٹم" نے اپنا پہلا رقص دکھانا تھا۔ مگر تباہی وہاں رکی نہ...

جنگ کے دہانے سے واپسی: ایک مہلت، ایک موقع

تصویر
 " جنگ کے دہانے سے واپسی: ایک مہلت، ایک موقع " دنیا ایک بار پھر اس مقام پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں ایک غلط فیصلہ یا ایک ضد پوری انسانیت کو ایسی آگ میں جھونک سکتی تھی جس کے شعلے نسلوں تک محسوس کیے جاتے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ فضا میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ نے خطرے کی گھنٹی اس شدت سے بجائی کہ دنیا کی سانسیں تھم سی گئیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا سخت الٹی میٹم محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دھمکی تھی جس کے پیچھے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کھڑی تھی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ، اور اس کے ساتھ “چند گھنٹوں میں تہذیب کی تباہی” جیسے الفاظ، اس بات کا اعلان تھے کہ معاملہ سفارتی دائرے سے نکل کر خطرناک عسکری تصادم کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا مرکز ہے۔ اس کی بندش یا اس پر کشیدگی کا مطلب صرف علاقائی بحران نہیں بلکہ عالمی اقتصادی زلزلہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران نے امریکی مطالبات کو مسترد کیا تو خطرہ کئی گنا بڑھ گیا۔ دنیا کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے ایک چنگاری پورے ج...

"مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: نقصان سب کا، فائدہ چند کے لیے "

تصویر
  "مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: نقصان سب کا، فائدہ چند کے لیے "   مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک مکمل جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم، جس میں اسرائیل ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، اب کسی “کشیدگی” یا “تنازع” کی حدوں سے نکل کر ایک کھلی اور ہمہ گیر جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سیاسی توازن کو شدید جھٹکے دے رہی ہے۔ ایران کے اندر صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بڑے شہروں کا انفراسٹرکچر تباہی کے دہانے پر ہے، اور ریاستی ڈھانچہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے نقصانات نے نہ صرف جنگی حکمتِ عملی کو متاثر کیا ہے بلکہ داخلی استحکام اور پہلے سے عالمی پابندیوں کے شکار معیشت کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل بھی اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اربوں ڈالر کے فوجی اخراجات، جدید اسلحے کا استعمال، اور مسلسل فوجی آپریشنز ان کی معیشت پر بوجھ بن رہے ہیں۔ خلیجی ممالک اس جنگ کے سب سے خطرناک دائرے میں آ چکے ہیں۔ سعودی عرب، قطر، کویت، بحری...

"نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں"

تصویر
  " نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں" اکیس مارچ کو ایشیاء کے ایک بڑے حصے میں ’نوروز‘ یعنی ’نیا دن‘ منایا جا رہا ہے۔ نوروز محض ایک تہوار یا مخصوص تاریخ نہیں، بلکہ تین ہزار سالہ قدیم انسانی تہذیب کا وہ استعارہ ہے جو نسل در نسل سینوں میں منتقل ہوتا آیا ہے۔ یہ جشنِ بہاراں کا وہ قصہ ہے جو بچپن کے تندور کی تپش سے شروع ہو کر وسطی ایشیا کی برفیلی شاموں اور آذربائیجان کے معطر دسترخوانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ نوروز کی جڑیں قبل از اسلام کی قدیم زرتشتی روایت اور ایرانی تاریخ کے اوراق میں پیوست ہیں۔ اسے خاص طور پر زرتشتیت سے جوڑا جاتا ہے، جہاں آگ، روشنی اور فطرت کی تجدید کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق، جب جمشید نے تخت سنبھالا تو اس دن سورج کی کرنیں پوری آب و تاب سے چمکیں، کائنات میں ایک توازن پیدا ہوا اور اس نے اس دن کو ’نوروز‘ قرار دیا۔ سائنسی طور پر یہ وہ وقت ہے جسے اعتدالِ ربیعی کہا جاتا ہے، جب دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جاتا ہے اور زمین کی کوکھ سے نئی زندگی پھوٹتی ہے۔ جدید فلکیات کے مطابق یہ لمحہ زمین کے محور کے جھکاؤ اور سورج کے گرد اس کے مدار کے ا...

" بچہ اسکول گیا، لغت بن کر واپس آیا "

تصویر
  " بچہ اسکول گیا، لغت بن کر واپس آیا " ہمارے ہاں بچے کی پیدائش پر خوشی تو بہت منائی جاتی ہے، مگر کوئی اس معصوم کو یہ نہیں بتاتا کہ میاں! تم کسی ملک میں نہیں بلکہ ایک “لسانی لیبارٹری” میں پیدا ہوئے ہو۔ یہاں تمہارا مقابلہ نصاب سے نہیں بلکہ چار زبانوں سے ہے، جو ایک دوسرے کے پیچھے لاٹھی لے کر دوڑ رہی ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ جب ایک پشتون بچہ پہلی بار اسکول کے گیٹ میں قدم رکھتا ہے تو وہ ایک ہنستا کھیلتا انسان ہوتا ہے۔ مگر جوں ہی کلاس روم میں بیٹھتا ہے، اس پر “لسانی بمباری” شروع ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلے انگریزی آتی ہے، جو ہمارے ہاں علم نہیں بلکہ شرافت اور ذہانت کا سرٹیفکیٹ سمجھی جاتی ہے۔ ٹیچر بڑے فخر سے کہتے ہیں: “بیٹا! بولو A for Apple۔” بچہ دل ہی دل میں سوچتا ہے: “یہ ایپل کیا بلا ہے؟ ہم تو اسے منڑہ کہتے ہیں۔” ابھی وہ “منڑے” اور “ایپل” کے درمیان کوئی رشتہ ڈھونڈ ہی رہا ہوتا ہے کہ اردو کی باری آ جاتی ہے۔ “نہیں بیٹا، اسے سیب کہتے ہیں۔” بچہ سر کھجاتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ چیز کھانے کی ہے یا اس کے نام یاد کرنے کی؟ اور اگر یاد ہی کرنا ہے تو تین تین نام کیوں؟ ابھی وہ اسی الجھن میں ہوتا ہے ک...

" پیٹرو ڈالر اور ہرمز کا بحران: عالمی معیشت کس سمت جا رہی ہے؟"

تصویر
  " پیٹرو ڈالر اور ہرمز کا بحران: عالمی معیشت کس سمت جا رہی ہے؟" جب دنیا کے اہم ترین تجارتی راستے بحران کی لپیٹ میں آ جائیں اور عالمی تجارت کی سب سے بڑی کرنسی اپنی بالادستی کو چیلنج ہوتے دیکھے تو یہ محض علاقائی کشیدگی نہیں رہتی بلکہ اس امر کا اشارہ بن جاتی ہے کہ عالمی معاشی نظام ایک بڑے تغیر کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیاں اور توانائی کی اہم گزرگاہوں پر منڈلاتے خطرات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ "تیل کی سیاست" دراصل "عالمی معیشت کی سیاست" ہے۔ جب توانائی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ گزشتہ نصف صدی سے عالمی اقتصادی نظام ایک خاص ڈھانچے کے تحت چلتا رہا ہے، جس کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ عالمی توانائی کی تجارت زیادہ تر ایک ہی کرنسی میں ہو، اور وہ کرنسی امریکی ڈالر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عام طور پر پیٹرو ڈالر اکانومی کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت دنیا کے بیشتر ممالک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر درکار ہوتا رہا، جس نے امریک...

" قبر ایک، بندے دو: ولی خان سے نیتن یاہو تک "

تصویر
  " قبر ایک، بندے دو: ولی خان سے نیتن یاہو تک " تاریخ خود کو دہراتی نہیں ہے، بلکہ کبھی کبھی تو بالکل "فوٹو کاپی" کر کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ 1977 میں جب فوجی مارشل لاء نافذ ہوا اور ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کو پابندِ سلاسل کیا، تو ڈرائنگ رومز میں بیٹھے دانشور کہتے تھے کہ "جی، کچھ مصلحت ہو جائے گی، بھٹو صاحب کسی خلیجی ملک چلے جائیں گے یا ضیاء صاحب پیچھے ہٹ جائیں گے"۔ مگر دور بینی نگاہ رکھنے والے خان عبدالولی خان اپنے جلسوں میں ایک ہی گردان کرتے تھے: "قبر ایک ہے اور بندے دو!" ولی خان جانتے تھے کہ جس نہج پر معاملات پہنچ چکے ہیں، وہاں اب دونوں کا بچنا ناممکن ہے۔ ایک کو تخت ملنا تھا اور دوسرے کو تختہ۔ جب دو متوازی طاقتیں ایک ہی دائرے میں سمونے کی کوشش کریں، تو تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بھٹو کی کرشماتی شخصیت اور ضیاء الحق کی خاموش مگر آہنی گرفت کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی تھی، اسے مٹانے کا کوئی درمیانی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ 1979 کی ایک منحوس رات نے ولی خان کی بات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ ولی خان کی وہ بصیرت کہ "قبر ایک ...

"ویزا، باڈی گارڈ اور 'آ بیل مجھے مار': عرب شیخوں کی تزویراتی کامیڈی!"

تصویر
  "ویزا، باڈی گارڈ اور 'آ بیل مجھے مار': عرب شیخوں کی تزویراتی کامیڈی!" دنیا کی سیاست بھی عجب تماشہ ہے، کبھی پلڑا ادھر تو کبھی ادھر۔ اصل میں ہوا یہ کہ عربوں نے دفاع کے نام پر "آ بیل مجھے مار" والا ایسا فارمولا اپنایا کہ تاریخ بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ ایک طرف ایران تھا جس نے 40 سال سوکھی روٹی کھائی لیکن اپنے ڈرونز اور میزائلوں کو "پیرو جوان" کر لیا۔ دوسری طرف ہمارے عرب شیخ تھے، جنہوں نے سوچا کہ خود محنت کون کرے، امریکہ کو "کرائے کا باڈی گارڈ" رکھتے ہیں اور اپنے ملک میں اس کے اڈے بنواتے ہیں۔ ایران کے میزائلوں نے جب انگڑائی لی، تو انہیں معلوم ہوا کہ واشنگٹن تو بہت دور ہے، لیکن پڑوس میں بنے امریکی اڈے تو بالکل "ہوم ڈلیوری" والے فاصلے پر ہیں۔ اب امریکہ بہادر دور سمندر پار بیٹھا صرف "بھاشن پہ بھاشن" دے رہا ہے، جب کہ میزائل ان کی زمین پر گر رہے ہیں جنہوں نے یہ اڈے سجائے تھے۔ امریکی تو اپنا بوریا بستر گول کر کے اڈوں سے نکل رہے ہیں، لیکن زمین تو عربوں کی ہے، وہ اسے اٹھا کر کہاں لے جائیں؟ اسے کہتے ہیں "شامتِ اعمال"۔...

​ایران، امریکہ اور اسرائیل: نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن

تصویر
" ​ ایران، امریکہ اور اسرائیل: "نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن   " آج کل ٹی وی آن کریں تو لگتا ہے دنیا کسی ایکشن فلم کے کلائمیکس پر کھڑی ہے۔ ایک طرف ایران ہے جو میزائل اور ڈرونز ایسے بانٹ رہا ہے جیسے محلے میں شادی کے لڈو تقسیم ہو رہے ہوں۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں جن کی حالت اس وقت ایسی ہے کہ "نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن"۔ یعنی نہ جنگ جیت سکتے ہیں، نہ ہار مان سکتے ہیں۔ بس بیچ میں کھڑے ہو کر حیرانی سے ڈرونز کی گنتی کر رہے ہیں۔ ادھر ہمارے پیارے پاکستان کا حال دیکھیں۔ ہم نے شروع کیا ہے "آپریشن محافظِ البحر"۔ یعنی سمندر میں اب ہماری نیوی ایسے پہرا دے رہی ہے جیسے عید کی نماز کے وقت جوتوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔ ہماری سب میرینز اور ڈرونز سمندر میں گھوم رہے ہیں، اور ہر گزرنے والے جہاز سے پوچھ رہے ہیں: "بھائی صاحب، آپ کے پاس اسرائیل کا سفیر تو نہیں؟ اگر ہے تو برائے مہربانی اپنا راستہ بدل لیں، ورنہ پڑوسی ناراض ہو جائے گا!" تیل کی قیمتوں کا تو پوچھیں ہی مت! اب تو گاڑی کی ٹنکی فل کروانے کے لیے بندے کو پہلے کڈنی سیل (Kidney Sale) کا اشتہار دینا پڑت...

سر درد، پیناڈول اور قوم کے مفت ڈاکٹر

تصویر
 ہماری قوم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں ماہرین کی کبھی کمی نہیں رہی۔ بس ایک مسئلہ ہے کہ ان ماہرین کی ڈگریاں کسی یونیورسٹی یا میڈیکل کالج سے جاری نہیں ہوتیں بلکہ زندگی کے تجربات، سنی سنائی باتوں اور محلے کی دانش گاہوں سے عطا ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کسی شادی بیاہ یا تعزیت کی محفل میں چند منٹ خاموش بیٹھے رہیں تو کچھ دیر بعد کوئی نہ کوئی ایسا موضوع چھیڑنا پڑتا ہے جس سے گفتگو کا دروازہ کھل جائے۔ سیاست بلاشبہ ہماری قوم کا سب سے پسندیدہ موضوع ہے، مگر اس میں ایک خطرہ بھی ہے۔ آپ نے اگر کسی رہنما کی تعریف کر دی تو ممکن ہے سامنے بیٹھا شخص اسے قوم کی سب سے بڑی مصیبت قرار دے دے۔ پھر گفتگو کی گاڑی اچانک بریک مار کر بحث کے گڑھے میں جا گرتی ہے۔ اس لیے میں نے ایک عرصے کے تجربے کے بعد سیاست پر گفتگو سے دور رہنے کا اصول بنا لیا ہے۔ اس مشکل کا حل میں نے ایک ایسا مجرب نسخہ ڈھونڈ لیا ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ محفل میں فوری گفتگو شروع بھی ہو جاتی ہے اور کسی کو ناراض بھی نہیں کرتی۔ نسخہ یہ ہے کہ میں خاموشی سے بیٹھے بیٹھے اچانک ایک جملہ چھوڑ دیتا ہوں: “یار، چند دن سے رات کو سر میں بڑا درد رہتا ہے۔” ب...

جب جنگ تماشا بن جائے اور انسانیت ہار جائے

تصویر
  پشتو کا ایک نہایت گہرا اور معنی خیز محاورہ ہے کہ "تماشائی کا نشانہ ہمیشہ ٹھیک بیٹھتا ہے"۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات لگتی ہے لیکن اس کے پسِ منظر میں وہ تمام تر انسانی رویے پوشیدہ ہیں جو عمل کے میدان سے دور رہ کر محض زبان کے چٹخارے لینے تک محدود رہتے ہیں۔ آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بارود کی بارش کو دیکھتے ہیں، تو یہ محاورہ ہمیں اپنے ہی عہد کے ان "ڈیجیٹل مجاہدین" کے چہروں پر ایک زوردار طمانچے کی صورت دکھائی دیتا ہے جو اس ہولناک آگ کو محض ایک تماشا سمجھ کر دیکھ رہے ہیں۔ انسانی تاریخ کا شاید یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ آج جنگیں محاذوں سے زیادہ سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز پر لڑی جاتی دکھائی دیتی ہیں، جہاں انسانی لہو کی قیمت محض چند پکسلز کی ویڈیو بن کر رہ گئی ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایک عجیب و غریب تماشہ یہ لگا ہے کہ وہ لوگ جو جنگ سے دور کسی دوسرے ملک کی پرسکون فضاؤں میں زندگی گزار رہے ہیں، کسی محفوظ گوشوں میں بیٹھ کر ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ ایران، لبنان اور غزہ کے لوگوں کو مفت مشورے بانٹ رہے ہیں۔ ان کے لیے ب...