جب جنگ تماشا بن جائے اور انسانیت ہار جائے
پشتو کا ایک نہایت گہرا اور معنی خیز محاورہ ہے کہ "تماشائی کا نشانہ ہمیشہ ٹھیک بیٹھتا ہے"۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات لگتی ہے لیکن اس کے پسِ منظر میں وہ تمام تر انسانی رویے پوشیدہ ہیں جو عمل کے میدان سے دور رہ کر محض زبان کے چٹخارے لینے تک محدود رہتے ہیں۔ آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بارود کی بارش کو دیکھتے ہیں، تو یہ محاورہ ہمیں اپنے ہی عہد کے ان "ڈیجیٹل مجاہدین" کے چہروں پر ایک زوردار طمانچے کی صورت دکھائی دیتا ہے جو اس ہولناک آگ کو محض ایک تماشا سمجھ کر دیکھ رہے ہیں۔ انسانی تاریخ کا شاید یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ آج جنگیں محاذوں سے زیادہ سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز پر لڑی جاتی دکھائی دیتی ہیں، جہاں انسانی لہو کی قیمت محض چند پکسلز کی ویڈیو بن کر رہ گئی ہے۔
موجودہ صورتحال میں ایک عجیب و غریب تماشہ یہ لگا ہے کہ وہ لوگ جو جنگ سے دور کسی دوسرے ملک کی پرسکون فضاؤں میں زندگی گزار رہے ہیں، کسی محفوظ گوشوں میں بیٹھ کر ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ ایران، لبنان اور غزہ کے لوگوں کو مفت مشورے بانٹ رہے ہیں۔ ان کے لیے بارود کی یہ آگ محض ایک سنسنی خیز خبر ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاں آسمان سے موت برستی ہو وہاں کی تپش صرف وہی جانتے ہیں جن کے سروں پر چھت نہیں رہتی۔ یہ تماشائی بڑے اطمینان سے تجزیہ کرتے ہیں کہ کسے کب جوابی حملہ کرنا چاہیے تھا، کس کی میزائل ٹیکنالوجی میں کیا نقص رہ گیا اور کس کمانڈر کو کیا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود اس جنگ کی تپش سے کوسوں دور محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھے ہیں، لیکن دوسروں کے لیے موت اور تباہی کا راستہ چننا ان کے لیے ایک تفریحی مشغلہ بن چکا ہے۔
اس بھیانک کھیل میں صرف عام لوگ ہی نہیں بلکہ وہ یوٹیوبرز اور نام نہاد صحافی حضرات بھی پیش پیش ہیں جو محض اپنی ریٹنگز، "ویوز" اور ڈالرز کی ہوس میں جنگ کو ایک ایسی چکا چوند بنا کر پیش کر رہے ہیں جیسے یہ کوئی عالمی اسپورٹس ٹورنامنٹ ہو۔ ان کی ویڈیوز کے تھمب نیلز اور سنسنی خیز ٹائٹلز دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے انسانی جانوں کا ضیاع ان کے لیے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا۔ ریٹنگ کے چکر میں بیٹھے یہ لوگ محاذِ جنگ کی ہولناکیوں کو سنسنی خیز موسیقی کے ساتھ پیش کرتے ہیں، اور اس عمل میں وہ دراصل اس انسانی کرب کی توہین کر رہے ہوتے ہیں جو ملبے تلے دبا ہوتا ہے۔ جنگ کوئی کھیل نہیں ہے جس میں ہار جیت کا فیصلہ تالیوں سے ہو۔ یہاں تو جیت بھی لہو میں نہائی ہوئی ہوتی ہے اور فاتح بھی دراصل شکست خوردہ انسانیت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتا ہے۔
جدید دور کا ایک اور بڑا فتنہ "فیک نیوز" اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کا سیلاب ہے۔ اس ڈیجیٹل دور کے "مجاہدین" اپنی بات کو سچا ثابت کرنے اور زیادہ سے زیادہ اشتعال پھیلانے کے لیے اے آئی کی مدد سے ایسی ویڈیوز تخلیق کر رہے ہیں جن میں دھماکوں اور تباہی کو اتنا حقیقت پسندانہ دکھایا جاتا ہے کہ عام آدمی فرق نہیں کر پاتا۔ فیک نیوز کا یہ کاروبار جہاں ایک طرف سیاسی ایجنڈوں کو جلا بخشتا ہے، وہیں دوسری طرف یہ زمینی حقائق کو اس قدر دھندلا دیتا ہے کہ سچ کہیں ملبے تلے دفن ہو جاتا ہے۔ لوگ جذبات میں آ کر ایسی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، لیکن ان کے پیچھے چھپا ہوا مقصد صرف اور صرف بے چینی پھیلانا اور جنگی جنون کو ہوا دینا ہوتا ہے۔ یہ صحافتی اخلاقیات کا جنازہ ہے کہ بغیر تحقیق کے صرف ریٹنگ کی خاطر ایسی خبریں نشر کی جائیں جو لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیں۔
جنگ کبھی گلوری فائی کرنے کی چیز نہیں ہوتی، یہ تو سراسر تباہی، بربادی اور انسانیت کی تذلیل کا نام ہے۔ ان محفوظ فاصلوں پر بیٹھے لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب ایک بم گرتا ہے تو وہ کسی کے سیاسی نظریات، مذہبی فرقے یا جغرافیائی سرحدوں کو نہیں دیکھتا، وہ صرف زندگی کو ختم کرتا ہے۔ وہ معصوم بچے جن کے جسم بموں کی زد میں آ کر چیتھڑے بن جاتے ہیں، ان سوشل میڈیا مجاہدین کے لیے محض "ویوز" بڑھانے کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ یہ تماشائی جو دور بیٹھ کر نشانے لگا رہے ہیں، کیا انہوں نے کبھی سوچا ہے کہ اس بارود کی بو ان ماؤں کے نتھنوں میں کتنی دیر تک رچی رہتی ہے جنہوں نے اپنے بچوں کے لاشے اٹھائے ہوتے ہیں؟
بچے معصوم ہوتے ہیں، ان کا کوئی مذہب، کوئی ملک اور کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہوتا۔ چاہے وہ بچہ تہران کی کسی گلی میں کھیلتا ہو، غزہ کے کسی ملبے تلے سسک رہا ہو یا تل ابیب کی کسی زیرِ زمین پناہ گاہ میں سہم کر اپنی ماں سے لپٹا ہو، معصومیت کا کوئی رنگ یا سرحد نہیں ہوتی۔ بچوں کا خون ایک جیسا سرخ ہوتا ہے اور ان کی چیخیں ایک ہی زبان میں درد بیان کرتی ہیں۔
بچوں کے جنازے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ پوری دنیا کی سیاست کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔
ان معصوموں کی زندگیوں پر سیاست چمکانا یا ان کے وجود کے بکھرنے کو کسی "گریٹر گیم" کا حصہ قرار دینا درندگی کی بدترین شکل ہے۔ جو لوگ جنگ کی تمنا کرتے ہیں یا اسے ایک کھیل سمجھ کر اس پر تبصرے کرتے ہیں، وہ دراصل ان معصوموں کے قاتل کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہوتے ہیں۔
جنگ ایک ایسا ڈراؤنا خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔ جو لوگ جنگ سے دور بیٹھ کر "ایٹمی حملوں" کی باتیں کرتے ہیں، کیا وہ اس کے اثرات سے واقف ہیں؟ کیا انہیں معلوم ہے کہ بارود کی تپش جب کھال کو جلاتی ہے تو اس وقت کوئی سوشل میڈیا پوسٹ کام نہیں آتی؟ یہ "تماش بین" جو دوسروں کے لہو سے اپنے جذبات کی تسکین کر رہے ہیں، دراصل انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں ایک جگہ لگی آگ پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
کاش یہ تماشائی، یہ یوٹیوبرز اور یہ "ریٹنگ" کے بھوکے نام نہاد صحافی ایک لمحے کے لیے اس منظر کا تصور کر سکیں جہاں زندگی صرف ایک سانس کی دوری پر کھڑی ہو اور موت ہر طرف رقص کر رہی ہو۔ تب شاید ان کے مشوروں کے تیر اتنی آسانی سے کمان سے نہ نکلیں۔ جنگ کا راستہ روکنا ہی دراصل بہادری ہے، اسے ہوا دینا بزدلی اور کم عقلی ہے۔ انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ ہم جنگ کی ہولناکیوں کو کھیل سمجھنا بند کریں اور اس آگ کو بجھانے کی کوشش کریں جو معصوموں کے مستقبل کو راکھ بنا رہی ہے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب تماشائی حد سے بڑھ جائیں، تو پھر تماشہ گاہ کی چھت ان کے اپنے سروں پر بھی گر سکتی ہے۔
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں