"مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: نقصان سب کا، فائدہ چند کے لیے "


  "مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: نقصان سب کا، فائدہ چند کے لیے "

 

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک مکمل جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم، جس میں اسرائیل ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، اب کسی “کشیدگی” یا “تنازع” کی حدوں سے نکل کر ایک کھلی اور ہمہ گیر جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سیاسی توازن کو شدید جھٹکے دے رہی ہے۔

ایران کے اندر صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بڑے شہروں کا انفراسٹرکچر تباہی کے دہانے پر ہے، اور ریاستی ڈھانچہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے نقصانات نے نہ صرف جنگی حکمتِ عملی کو متاثر کیا ہے بلکہ داخلی استحکام اور پہلے سے عالمی پابندیوں کے شکار معیشت کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل بھی اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اربوں ڈالر کے فوجی اخراجات، جدید اسلحے کا استعمال، اور مسلسل فوجی آپریشنز ان کی معیشت پر بوجھ بن رہے ہیں۔

خلیجی ممالک اس جنگ کے سب سے خطرناک دائرے میں آ چکے ہیں۔ سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات مسلسل ایران کے ڈرون حملوں اور میزائلوں کی زد میں ہیں۔ ان کے تیل و گیس کی تنصیبات بار بار نشانہ بن رہی ہیں، جس سے نہ صرف ان ممالک کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

آبنائے ہرمز اس جنگ کا سب سے حساس نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اور اس میں معمولی سی رکاوٹ بھی عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اس وقت تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اور اس کے اثرات براہِ راست یورپ کی معیشت پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ خوراک، ٹرانسپورٹ اور صنعتی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، جس سے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو رہی ہے۔

یہ بحران ترقی پذیر ممالک کے لیے اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ پاکستان اور سارک کے دیگر ممالک پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ان کے لیے مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ اس جنگ کے اثرات ان معیشتوں کو مزید کمزور کر رہے ہیں جو پہلے ہی نازک حالت میں ہیں۔

دوسری جانب، اس جنگ میں کچھ ایسے فریق بھی ہیں جو براہِ راست میدان میں موجود نہیں مگر اس کے اثرات سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ روس تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے براہِ راست فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ وہ یورپ اور انڈیا سمیت دیگر ممالک کو اب اپنی شرائط پر تیل بیچ رہا ہے۔ جبکہ چین اس صورتحال کو ایک اسٹریٹجک موقع کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ وہ توانائی کے متبادل ذرائع اور علاقائی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کر سکے۔

چونکہ مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے اور تمام فریقین کو اسلحے کی ضرورت ہے، اس لیے اس جنگ کا سب سے نمایاں معاشی فائدہ امریکہ اور یورپ کی اسلحہ ساز صنعت کو بھی ہو رہا ہے۔ Lockheed Martin اور Raytheon Technologies جیسی امریکی کمپنیاں بڑے پیمانے پر دفاعی معاہدے حاصل کر رہی ہیں۔ اسی طرح BAE Systems (برطانیہ) اور Thales Group (فرانس) بھی اس عالمی اسلحہ منڈی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، اور جنگ کے ثمرات حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف روس اور چین کی دفاعی صنعتیں بھی اسلحے کی اس بڑھتی ہوئی طلب سے بالواسطہ فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

مالیاتی منڈیوں میں اس بحران کے اثرات بھی واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ جب غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف رخ کرتے ہیں، جیسے سونا اور Bitcoin۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عالمی سرمایہ ایک خاص سمت میں منتقل ہوتا ہے۔ خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ دار اپنے اثاثوں کو زیادہ محفوظ خطوں کی طرف منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ کوئی نیا رجحان نہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران بھی سوئٹزرلینڈ کے بینک عالمی سرمایہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گئے تھے، جہاں یورپ بھر سے دولت منتقل کی گئی۔ آج بھی اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو سرمایہ کا یہی بہاؤ ایک بار پھر دنیا کے مختلف محفوظ مالیاتی مراکز کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، جبکہ جنگ زدہ یا غیر مستحکم خطے سرمایہ کے انخلا کا دباؤ برداشت کرتے رہیں گے۔

یہ تمام صورتحال ایک تلخ حقیقت کو سامنے لاتی ہے: اس جنگ میں کوئی واضح فاتح نہیں ہے۔ ایران اپنی سرزمین، انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کا نقصان اٹھا رہا ہے، امریکہ اور اسرائیل مالی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہیں، خلیجی ممالک عدم تحفظ کے سائے میں جی رہے ہیں، اور عالمی معیشت غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے۔

جدید دنیا میں تنازعات صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ معیشت، توانائی اور عالمی سیاست کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام انسان کو ہو رہا ہے، جبکہ اس کا فائدہ ان قوتوں کو مل رہا ہے جو اس میں براہِ راست شامل نہیں۔ اگر عالمی برادری نے اس حقیقت کو نہ سمجھا تو یہ جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک طویل المدتی معاشی بحران کی بنیاد بن سکتی ہے۔

"جنگ کے شعلوں میں جلتی ہوئی دنیا کو شاید یہ احساس دیر سے ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ انسانیت کا ہی ہوتا ہے، جبکہ منافع کی گنتی خاموشی سے جاری رہتی ہے۔"


ندیم فاروقی 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں