شدید ترین سینئر صحافی
" شدید ترین سینئر صحافی" صحافت ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا ہے۔ صحافی کا کام خبر دینا، حقائق کی چھان بین کرنا اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنا ہے۔ لیکن برصغیر میں صحافت نے بھی ارتقا کا ایک منفرد سفر طے کیا ہے۔ اب صحافی صرف صحافی نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا عہدہ بن گیا ہے جس میں ترقی کے کئی درجات ہیں۔ پہلے زمانے میں صرف "صحافی" ہوا کرتا تھا۔ پھر "سینئر صحافی" پیدا ہوا۔ اس کے بعد "سینئر ترین صحافی" نمودار ہوا۔ پھر شاید کسی کو لگا کہ ابھی ترقی کی گنجائش باقی ہے، چنانچہ "انتہائی سینئر صحافی" سامنے آگیا۔ آج کل صورت حال یہ ہے کہ "شدید ترین سینئر صحافی" بھی میدان میں ہیں۔ اس کے ساتھ پھر آتی ہے "باوثوق ذرائع" کی پراسرار دنیا۔ یہ ایسی مخلوق ہے جسے ہر صحافی جانتا ہے، مگر کسی نے کبھی دیکھا نہیں۔ یہ ہر جگہ موجود بھی ہے اور کہیں موجود بھی نہیں۔ ہر بڑی خبر انہی کے ذریعے آتی ہے۔ اگر خبر درست نکل آئے تو صحافی تجزیہ کار سے بڑھ کر نابغہ قرار پاتا ہے، اور اگر غلط ثابت ہو جائے تو خاموشی چھا جاتی ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کبھی کبھی شک ہوتا...