ہپی ، ساگ اور ڈیڑھ انچ کی مسجد
" ہِپی، ساگ اور ڈیڑھ انچ کی مسجد " ایک زمانہ تھا جب مغرب کا نوجوان مشرق کی طرف آتا تھا۔ لمبے بال، گلے میں مالا، کندھے پر تھیلا، ہاتھ میں گٹار اور جیب میں اتنے پیسے کہ بس اگلے پڑاؤ تک پہنچ جائے۔ اسے اپنے معاشرے کی چمک دمک سے اکتاہٹ تھی۔ جنگوں سے نفرت تھی، مادہ پرستی سے بیزاری تھی اور زندگی کو کچھ اور طرح سے دیکھنے کی خواہش تھی۔ یہ لوگ ہِپی کہلاتے تھے ۔ افغانستان، پاکستان، بھارت اور نیپال ان کے سفر کے نقشے پر تھے۔ جہاں جاتے مقامی لوگوں میں گھل مل جاتے۔ زمین پر بیٹھتے، وہی کھانا کھاتے جو میزبان دیتے۔ اور بعض تو چرس اور دوسرے مقامی منشیات بھی استعمال کرتے تھے۔ اس وقت ہِپیوں کے بارے میں کافی لطیفے بھی مشہور ہوئے۔ ایک ہِپی کو بھوک لگی۔ سوات کے ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے ایک خاتون نے پوچھا، "کون ہے؟" ہِپی نے کہا، "بھوک لگی ہے، کچھ کھانے کو دے دیں۔" ترور نے مکئی کی بڑی سی تندوری روٹی نکالی، اس پر ساگ رکھا اور اسے دے دیا۔ ہِپی نے ساگ کھائی اور مکئی کی روٹی ہاتھ میں اٹھا کر بڑی شرافت سے کہا: "ترور، دا پلیټ مو واخلي!" یعنی، "ترور، یہ پل...