خندق سے ڈرون تک
"خندق سے ڈرون تک" جب پہلی بار خبر آئی کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے ہیں، تو دنیا بھر کے فوجی ماہرین نے ایک ہی عدد لکھا: 72 گھنٹے۔ ہر تجزیہ، ہر انٹیلی جنس رپورٹ اور ہر کمپیوٹر ماڈل یہی بتا رہا تھا کہ ایرانی فضائیہ غیر مؤثر ہو جائے گی، دفاعی نظام بکھر جائے گا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ عمومی تاثر یہی تھا کہ ایران زیادہ دیر تک دباؤ برداشت نہیں کر سکے گا۔ لیکن تاریخ کو محض حسابی ماڈلز میں قید کرنے والوں نے ایک اہم عنصر کو کم سمجھا: ایرانی دفاعی ذہنیت۔ وہی ذہنیت جس نے چودہ سو سال پہلے مدینہ کے گرد خندق کھودی، منگولوں کے خلاف برسوں مزاحمت کی، اور عراق کی آٹھ سالہ جنگ کو "مقدس دفاع" میں بدل دیا۔ قدیم تدابیر ہوں یا جدید مزاحمتیں، آج یہی سوچ میزائل، ڈرونز اور زیرِ زمین تنصیبات کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایران کا جغرافیہ ہمیشہ سے حملہ آوروں کے لیے مشکل ثابت ہوا ہے۔ سکندر اعظم سے لے کر عربوں، سلجوقوں، منگولوں اور تیموریوں تک، ہر ایک نے اس سرزمین کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مگر ایرانی دفاع کی گہرائی اور مزاحمت کی روایت نے ...