اشاعتیں

بلوچستان: بارود، سرحدیں اور عالمی بساط

تصویر
  بلوچستان: بارود، سرحدیں اور عالمی بساط بلوچستان میں حالیہ دنوں پیش آنے والے منظم  حملے محض چند سیکیورٹی واقعات نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسے خطے میں رونما ہوئے جہاں جغرافیہ خود سیاست لکھتا ہے، اور سیاست خون میں ترجمہ ہو جاتی ہے۔ بارہ سے زائد مقامات پر بیک وقت حملے، سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ عام شہریوں کی ہلاکت، اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرتی ہوئی یہ کارروائیاں سوال اٹھاتی ہیں کہ آیا ہم انہیں صرف داخلی شورش کے خانے میں رکھیں، یا اس شور میں بیرونی طبلوں کی آوازیں بھی سنیں۔ بلوچستان کوئی سادہ صوبہ نہیں۔ یہ پاکستان کا وہ دروازہ ہے جو ایران، افغانستان اور بحیرۂ عرب تینوں سے جڑا ہے۔ یہاں ہر گولی صرف مقامی نہیں ہوتی، اور نہ ہی  ہر دھماکے کے پیچھے صرف مقامی کہانی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بلوچستان میں کچھ ہوتا ہے، تو اس کے سائے تہران سے لیکر مشرق وسطیٰ اور واشنگٹن کے سمندری گزرگاہوں تک پھیل جاتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد ایک کاغذی لکیر ضرور ہے، مگر زمینی حقیقت میں یہ ایک زندہ، سانس لیتی، اور اکثر زخمی رہنے والی حد بندی ہے۔ اس سرحد کے دونوں طرف بلوچ آباد ہیں، رشتے ہیں...

انتون چیخوف اور انسانی وجود کی سادہ حقیقت

تصویر
  انتون چیخوف اور انسانی وجود کی سادہ حقیقت ​انتون چیخوف (1860 - 1904) روس کے وہ مفکر ہیں جنہوں نے فلسفے کو محلات اور بلند بانگ دعوؤں سے نکال کر ایک عام انسان کے ڈرائنگ روم اور کچن تک پہنچا دیا۔ ان کا فلسفہ کسی بڑے "ازم"  کا پابند نہیں، بلکہ وہ زندگی کو ویسا ہی دیکھتے ہیں جیسی وہ ہے. ادھوری، تھوڑی سی مضحکہ خیز اور تھوڑی سی اداس۔ چیخوف پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے اور ان کا قول تھا کہ "میڈیسن میری قانونی بیوی ہے اور ادب میری محبوبہ"۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فلسفے میں ایک ڈاکٹر کی سی بے رحمانہ سچائی اور ایک ادیب کی سی ہمدردی بیک وقت موجود ہے۔ وہ روسی فکر کے ان خاموش فلسفیوں میں سے ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کی معنویت پر وہ کچھ لکھ دیا جو بڑے بڑے فلسفی ضخیم کتابوں میں نہ لکھ سکے۔ ​چیخوف کا فلسفہ دوستوفسکی کی طرح پرجوش نہیں اور نہ ہی ٹالسٹائی کی طرح تبلیغی ہے، بلکہ ان کا فلسفہ خردبینی ہے۔ وہ انسان کو اس کی تمام تر کمزوریوں، بوریت اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ ​چیخوف کے فلسفے کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ زندگی میں اکثر کچھ بھی بڑا نہیں ہوتا۔  ان کے ...

سقراط — ضمیر کی عدالت اور سوال کی حرمت کا علمبردار

تصویر
  سقراط — ضمیر کی عدالت اور سوال کی حرمت کا علمبردار ​تعارف: ایتھنز کا بازار اور ایک بے چین روح ​انسانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو کسی خاص عہد میں جنم تو لیتی ہیں، مگر ان کی فکر زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ابدیت اختیار کر لیتی ہے۔ قدیم یونان کی گلیوں سے اٹھنے والی ایک ایسی ہی آواز نے شہنشاہوں کے درباروں کی بجائے انسانی ذہنوں میں وہ ارتعاش پیدا کیا جس کی گونج آج ڈھائی ہزار سال بعد بھی سنائی دیتی ہے۔ وہ آواز سقراط کی تھی۔ ​سقراط کوئی روایتی فلسفی نہیں تھا جو بند کمروں میں بیٹھ کر کائنات کے اسرار و رموز پر پیچیدہ نظریات ترتیب دیتا۔ وہ ایک بیدار مغز انسان تھا جس نے ایتھنز کے پررونق بازاروں میں کھڑے ہو کر عام لوگوں سے وہ سوالات کئے جن کا جواب دینا مصلحت پسند معاشرے اور اقتدار کے ایوانوں کے لیے ہمیشہ دشوار رہا۔ اس کا حلیہ سادہ، پاؤں ننگے اور ہاتھ خالی تھے، مگر اس کے پاس "سوال" کا وہ ہتھیار تھا جس نے صدیوں سے رائج جہالت اور توہمات کے قلعوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ​سقراط کا سب سے بڑا کارنامہ 'طریقہِ سوال'  کی ایجاد ہے۔ وہ کسی کو علم کی گھٹی نہیں پلاتا تھا، بلکہ...

گندھارا کی دانش گاہ: پانینی سے چانکیہ تک علم کا سفر

تصویر
گندھارا کی دانش گاہ: پانینی سے چانکیہ تک علم کا سفر گندھارا اور ٹیکسلا صرف ماضی کے نام نہیں، یہ انسانی دانش کے وہ سرچشمے ہیں جہاں سے زبان نے سائنس سیکھی اور سیاست نے نظم سیکھی۔ یہ خطہ محض ہمارا جغرافیہ نہیں، بلکہ عالمی تہذیب کی مشترکہ وراثت ہے۔ گندھارا اور ٹیکسلا کا خطہ محض بدھ خانقاہوں یا مجسمہ سازی تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ انسانی فکر کی عظیم تجربہ گاہ تھا۔ یہاں زبان کو الگورتھم ملا، سیاست کو اصول ملے، اور علم کو سوال کرنے کی آزادی ملی۔ یہ خطہ تہذیبوں کا سنگم تھا جہاں وادیٔ سندھ، وسطی ایشیا، فارس اور گنگا کے میدان ایک دوسرے سے جڑتے تھے۔  ٹیکسلا دنیا کی اولین جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ جسے بعض محققین دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی قرار دیتے ہیں، جس کی بنیاد پانچویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی ۔ یہاں فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، سیاست اور لسانیات جیسے علوم پڑھائے جاتے تھے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان مکالمہ اور تنقید کی روایت عام تھی۔  پانینی کی پیدائش تقریباً 520 قبل مسیح میں شالاتورا نامی گاؤں میں ہوئی، جو موجودہ ضلع اٹک کے قریب دریائے سندھ اور کابل کے سنگم پر واقع تھا۔ پانینی ن...

ٹریڈ بزوکا، سامراج کا خطرناک معاشی ہتھیار

تصویر
  ٹریڈ بزوکا، سامراج کا خطرناک معاشی ہتھیار دنیا اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگیں اب صرف میدانِ جنگ میں نہیں  بلکہ منڈیوں، بندرگاہوں، بینکوں اور تجارتی راستوں پر لڑی جا رہی ہیں۔ توپ و تفنگ کی جگہ ٹیرف، پابندیاں اور معاشی دھمکیاں لے چکی ہیں۔ ریاستیں اب اپنی معاشی قوت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں. اسی تناظر میں ایک اصطلاح عالمی صحافت اور سیاسی تجزیے کا حصہ بن چکی ہے جیسے "ٹریڈ بزوکا" کہتے ہیں۔ بزوکا دراصل ایک بھاری جنگی ہتھیار ہے جو بیسویں صدی میں ٹینک شکن ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا۔ یہ کندھے پر رکھا جانے والا راکٹ لانچر ہوتا ہے جس کا مقصد دشمن کی مضبوط دفاعی لائن، بکتر بند گاڑی یا ٹینک کو ایک ہی وار میں ناکارہ بنانا ہوتا ہے۔ بزوکا عام ہتھیار نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے اُس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب عام گولی یا ہلکا ہتھیار بے اثر ہو جائے۔ اس کی خاصیت یہی ہے کہ یہ آخری، سخت اور فیصلہ کن وار کی علامت ہے۔ اسی تصور کو عالمی تجارت میں استعارے کے طور پر اپنایا گیا اور یوں ٹریڈ بزوکا کی اصطلاح وجود میں آئی۔ ٹریڈ بزوکا کوئی باضابطہ قانونی یا معاشی اصط...

معاشرے کی اصلاح کا جدید نسخہ

تصویر
  معاشرے کی اصلاح کا جدید نسخہ ہمارا معاشرہ ایک ایسا ڈرامہ تھیٹر  ہے، جہاں عقل کے نام پر حماقت، ترقی کے نام پر زوال، اور خوشحالی کے نام پر دکھ بیچا جا رہا ہے۔ ہر طرف شور ہے، ہر طرف دعوے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی ہی ایجادوں کے بوجھ تلے دب کر اب مزید چلنے کے قابل نہیں رہا۔ ایسے میں ضروری ہے کہ کوئی معقول تجویز دی جائے۔ ویسے بھی ہم من حیث القوم مفت مشورے بانٹنے کے عادی ہیں۔ اسلئے موقع سے فائدہ اٹھا کر کچھ مفت مشورے پیش خدمت ہیں۔ چونکہ پوری قوم موبائل فون  کے لت میں مبتلا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ ان سب کے دماغ کو براہِ راست موبائل سے کنکٹ کر دیا جائے۔ یوں نہ حکومت پر تنقید ہوگی، نہ جلسہ، نہ جلوس، نہ روزگار کی فکر، نہ روٹی کا غم۔ سب لوگ اپنی اسکرینوں میں گھسے رہیں گے، اور دنیا کے اصل مسائل محض "نوٹیفکیشن" کی صورت میں سامنے آئیں گے، جنہیں ایک کلک سے بند کیا جا سکے گا۔  اب بھوک کا علاج "فوڈ ایپ" ہوگی، بیماری کا علاج "ہیلتھ ٹریکنگ ایپ"، اور غربت کا علاج "فری وائی فائی"۔ کپڑوں اور مکان کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ ہر شخص اپنی پروفائل پکچر میں خوش...

سفید رومال اور نوبل کا میلہ

تصویر
  سفید رومال اور نوبل کا میلہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچاڈو نے جب صدر ٹرمپ کو اپنا نوبل امن انعام پیش کیا، تو یہ منظر بالکل اسی کسان کی یاد دلاتا ہے جسے کہیں سے ایک سفید رومال مل گیا تھا۔ وہ رومال کندھے پر رکھ کر گاؤں میں یوں پھرتا تھا جیسے تخت و تاج پا لیا ہو۔ چوھدری کو یہ اکڑ ایک آنکھ نہ بھاتی۔ اس نے میلے کا منصوبہ بنایا، شور شرابہ کیا، اور آخرکار رومال چھین لیا۔ کسان واپس آیا تو کہنے لگا: "میلہ کچھ نہیں تھا، بس میرے رومال کی چوری کے لیے اتنا بکھیڑا پھیلایا گیا تھا۔"  یہی بکھیڑا آج عالمی سیاست میں دہرایا جا رہا ہے۔ پورے وینزویلا میں فوجی کارروائیاں، صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا سب ایک رومال کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ سب ڈرامہ ایک رومال یعنی نوبل پرائز کے  گرد رچایا گیا۔ اور آخر میں صدر ٹرمپ کندھے پر رومال رکھ کر خوش ہیں۔ آج سفید رومال یا نوبل انعام  طاقت کا کھیل بن چکا ہے۔ اسے پیش کرنا، لینا یا دکھانا صرف ایک مظاہرہ ہے، حقیقت نہیں۔ کسان کی معصوم اکڑ اور صدر کی سیاسی اکڑ میں فرق صرف سطحی ہے۔ دونوں اپنی انا کو بچانے کے لیے علامت کو مقدس بنا لیتے ہیں۔ ایک ک...