بلوچستان: بارود، سرحدیں اور عالمی بساط
بلوچستان: بارود، سرحدیں اور عالمی بساط بلوچستان میں حالیہ دنوں پیش آنے والے منظم حملے محض چند سیکیورٹی واقعات نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسے خطے میں رونما ہوئے جہاں جغرافیہ خود سیاست لکھتا ہے، اور سیاست خون میں ترجمہ ہو جاتی ہے۔ بارہ سے زائد مقامات پر بیک وقت حملے، سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ عام شہریوں کی ہلاکت، اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرتی ہوئی یہ کارروائیاں سوال اٹھاتی ہیں کہ آیا ہم انہیں صرف داخلی شورش کے خانے میں رکھیں، یا اس شور میں بیرونی طبلوں کی آوازیں بھی سنیں۔ بلوچستان کوئی سادہ صوبہ نہیں۔ یہ پاکستان کا وہ دروازہ ہے جو ایران، افغانستان اور بحیرۂ عرب تینوں سے جڑا ہے۔ یہاں ہر گولی صرف مقامی نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہر دھماکے کے پیچھے صرف مقامی کہانی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بلوچستان میں کچھ ہوتا ہے، تو اس کے سائے تہران سے لیکر مشرق وسطیٰ اور واشنگٹن کے سمندری گزرگاہوں تک پھیل جاتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد ایک کاغذی لکیر ضرور ہے، مگر زمینی حقیقت میں یہ ایک زندہ، سانس لیتی، اور اکثر زخمی رہنے والی حد بندی ہے۔ اس سرحد کے دونوں طرف بلوچ آباد ہیں، رشتے ہیں...