اشاعتیں

"ویزا، باڈی گارڈ اور 'آ بیل مجھے مار': عرب شیخوں کی تزویراتی کامیڈی!"

تصویر
  "ویزا، باڈی گارڈ اور 'آ بیل مجھے مار': عرب شیخوں کی تزویراتی کامیڈی!" دنیا کی سیاست بھی عجب تماشہ ہے، کبھی پلڑا ادھر تو کبھی ادھر۔ اصل میں ہوا یہ کہ عربوں نے دفاع کے نام پر "آ بیل مجھے مار" والا ایسا فارمولا اپنایا کہ تاریخ بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ ایک طرف ایران تھا جس نے 40 سال سوکھی روٹی کھائی لیکن اپنے ڈرونز اور میزائلوں کو "پیرو جوان" کر لیا۔ دوسری طرف ہمارے عرب شیخ تھے، جنہوں نے سوچا کہ خود محنت کون کرے، امریکہ کو "کرائے کا باڈی گارڈ" رکھتے ہیں اور اپنے ملک میں اس کے اڈے بنواتے ہیں۔ ایران کے میزائلوں نے جب انگڑائی لی، تو انہیں معلوم ہوا کہ واشنگٹن تو بہت دور ہے، لیکن پڑوس میں بنے امریکی اڈے تو بالکل "ہوم ڈلیوری" والے فاصلے پر ہیں۔ اب امریکہ بہادر دور سمندر پار بیٹھا صرف "بھاشن پہ بھاشن" دے رہا ہے، جب کہ میزائل ان کی زمین پر گر رہے ہیں جنہوں نے یہ اڈے سجائے تھے۔ امریکی تو اپنا بوریا بستر گول کر کے اڈوں سے نکل رہے ہیں، لیکن زمین تو عربوں کی ہے، وہ اسے اٹھا کر کہاں لے جائیں؟ اسے کہتے ہیں "شامتِ اعمال"۔...

​ایران، امریکہ اور اسرائیل: نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن

تصویر
" ​ ایران، امریکہ اور اسرائیل: "نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن   " آج کل ٹی وی آن کریں تو لگتا ہے دنیا کسی ایکشن فلم کے کلائمیکس پر کھڑی ہے۔ ایک طرف ایران ہے جو میزائل اور ڈرونز ایسے بانٹ رہا ہے جیسے محلے میں شادی کے لڈو تقسیم ہو رہے ہوں۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں جن کی حالت اس وقت ایسی ہے کہ "نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن"۔ یعنی نہ جنگ جیت سکتے ہیں، نہ ہار مان سکتے ہیں۔ بس بیچ میں کھڑے ہو کر حیرانی سے ڈرونز کی گنتی کر رہے ہیں۔ ادھر ہمارے پیارے پاکستان کا حال دیکھیں۔ ہم نے شروع کیا ہے "آپریشن محافظِ البحر"۔ یعنی سمندر میں اب ہماری نیوی ایسے پہرا دے رہی ہے جیسے عید کی نماز کے وقت جوتوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔ ہماری سب میرینز اور ڈرونز سمندر میں گھوم رہے ہیں، اور ہر گزرنے والے جہاز سے پوچھ رہے ہیں: "بھائی صاحب، آپ کے پاس اسرائیل کا سفیر تو نہیں؟ اگر ہے تو برائے مہربانی اپنا راستہ بدل لیں، ورنہ پڑوسی ناراض ہو جائے گا!" تیل کی قیمتوں کا تو پوچھیں ہی مت! اب تو گاڑی کی ٹنکی فل کروانے کے لیے بندے کو پہلے کڈنی سیل (Kidney Sale) کا اشتہار دینا پڑت...

سر درد، پیناڈول اور قوم کے مفت ڈاکٹر

تصویر
 ہماری قوم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں ماہرین کی کبھی کمی نہیں رہی۔ بس ایک مسئلہ ہے کہ ان ماہرین کی ڈگریاں کسی یونیورسٹی یا میڈیکل کالج سے جاری نہیں ہوتیں بلکہ زندگی کے تجربات، سنی سنائی باتوں اور محلے کی دانش گاہوں سے عطا ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کسی شادی بیاہ یا تعزیت کی محفل میں چند منٹ خاموش بیٹھے رہیں تو کچھ دیر بعد کوئی نہ کوئی ایسا موضوع چھیڑنا پڑتا ہے جس سے گفتگو کا دروازہ کھل جائے۔ سیاست بلاشبہ ہماری قوم کا سب سے پسندیدہ موضوع ہے، مگر اس میں ایک خطرہ بھی ہے۔ آپ نے اگر کسی رہنما کی تعریف کر دی تو ممکن ہے سامنے بیٹھا شخص اسے قوم کی سب سے بڑی مصیبت قرار دے دے۔ پھر گفتگو کی گاڑی اچانک بریک مار کر بحث کے گڑھے میں جا گرتی ہے۔ اس لیے میں نے ایک عرصے کے تجربے کے بعد سیاست پر گفتگو سے دور رہنے کا اصول بنا لیا ہے۔ اس مشکل کا حل میں نے ایک ایسا مجرب نسخہ ڈھونڈ لیا ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ محفل میں فوری گفتگو شروع بھی ہو جاتی ہے اور کسی کو ناراض بھی نہیں کرتی۔ نسخہ یہ ہے کہ میں خاموشی سے بیٹھے بیٹھے اچانک ایک جملہ چھوڑ دیتا ہوں: “یار، چند دن سے رات کو سر میں بڑا درد رہتا ہے۔” ب...

جب جنگ تماشا بن جائے اور انسانیت ہار جائے

تصویر
  پشتو کا ایک نہایت گہرا اور معنی خیز محاورہ ہے کہ "تماشائی کا نشانہ ہمیشہ ٹھیک بیٹھتا ہے"۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات لگتی ہے لیکن اس کے پسِ منظر میں وہ تمام تر انسانی رویے پوشیدہ ہیں جو عمل کے میدان سے دور رہ کر محض زبان کے چٹخارے لینے تک محدود رہتے ہیں۔ آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بارود کی بارش کو دیکھتے ہیں، تو یہ محاورہ ہمیں اپنے ہی عہد کے ان "ڈیجیٹل مجاہدین" کے چہروں پر ایک زوردار طمانچے کی صورت دکھائی دیتا ہے جو اس ہولناک آگ کو محض ایک تماشا سمجھ کر دیکھ رہے ہیں۔ انسانی تاریخ کا شاید یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ آج جنگیں محاذوں سے زیادہ سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز پر لڑی جاتی دکھائی دیتی ہیں، جہاں انسانی لہو کی قیمت محض چند پکسلز کی ویڈیو بن کر رہ گئی ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایک عجیب و غریب تماشہ یہ لگا ہے کہ وہ لوگ جو جنگ سے دور کسی دوسرے ملک کی پرسکون فضاؤں میں زندگی گزار رہے ہیں، کسی محفوظ گوشوں میں بیٹھ کر ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ ایران، لبنان اور غزہ کے لوگوں کو مفت مشورے بانٹ رہے ہیں۔ ان کے لیے ب...

قومِ ماہرین – مشورہ فیس 500 روپے

تصویر
ریٹائرمنٹ کے بعد جب محلے میں کریانے کی دکان کھولنے کا فیصلہ کیا تو میرا خیال تھا کہ سب سے بڑا امتحان سرمایہ، سامان اور گاہک ہوں گے۔ مگر جلد ہی احساس ہوا کہ اصل امتحان کاروبار نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو کاروبار شروع ہوتے ہی خود کو مفت کے مشیر سمجھ لیتے ہیں۔ دکان کا کرایہ طے ہوا، دیواروں پر رنگ ہونے لگا اور الماریاں لگنے کا عمل جاری تھا۔ میں اپنے حساب سے دکان بنانے میں لگا رہا۔ جیسے دکان کو سیٹ کرنا شروع کیا۔  اور مختلف ضروری اشیاء لانے لگا۔محلے میں ایک نئی قسم کی تحریک شروع ہو گئی، " مفت مشورہ تحریک"۔ ایک صاحب تشریف لائے۔ چہرے پر سنجیدگی، ہاتھ میں چائے کا کپ اور آنکھوں میں مکمل اعتماد۔ انہوں نے دکان کے اندر جھانک کر کہا، “بھائی دودھ ضرور رکھو۔ اچھا بکتا ہے۔” میں نے سوچا بات سادہ ہے، فائدہ ہو گا، رکھ لیتے ہیں۔ دودھ رکھ دیا گیا۔ یہ الگ بات کہ کبھی دودھ بیچا نہیں تھا نہ کوئی تجربہ تھا، اگلے دن سارا دودھ خراب ہوگیا۔ پہلا دھچکا مفت مشورے کا۔۔۔ اگلےدن ایک اور ماہر داخل ہوا۔ اس نے شوکیس کو غور سے دیکھا اور فوراً فتویٰ صادر کر دیا، “شیشہ ٹھیک نہیں، لکڑی کا شوکیس زیادہ مضبوط رہتا ہے۔...

لہو رنگ پچ: آئینہ وزیر کی یتیمی اور بندوق کا پہرہ

تصویر
  چند دن پہلے سوشل میڈیا پر وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ایک چھوٹی بچی آئینہ وزیر کی ایک ویڈیو وائرل ہوگئی۔ اس ویڈیو میں وہ نہایت مہارت سے تیز باؤلنگ کرتی ہوئی نظر آئی۔ اس کے باؤلنگ کا انداز اتنا شاندار تھا کہ دیکھنے والوں کی زبان سے بے اختیار واہ واہ کی آوازیں نکلیں۔ ویڈیو اتنی وائرل ہوئی کہ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے آئینہ وزیر کو پشاور زلمی کے ویمن ونگ میں لینے اور اس کے تمام تعلیمی اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا۔ اسی دوران آئینہ وزیر کی ایک اور ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی جس میں وہ حکومت سے وزیرستان میں تعلیم کی ترقی کے لیے درخواست کر رہی تھی۔ اس ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے لانے والا نوجوان زعفران وزیر تھا، جس کی اپنی ویڈیو بھی سامنے آئی۔ مگر اگلے ہی دن خبر آئی کہ علاقے میں موجود دہشت گردوں نے زعفران وزیر کو اغوا کر لیا ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ ایک بچی کی ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا "خلافِ اسلام" ہے۔ اگرچہ مقامی عمائدین اور جرگے کی کوششوں سے زعفران وزیر رہا تو ہو گئے، لیکن ان سے زبردستی ایک اعترافی ویڈیو ریکارڈ کروائی گئی جس میں وہ نہایت کرب اور خوف کے عالم...

سانپ اور نیولے کی لڑائی کا جدید چورن

تصویر
  ​تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ "مداری" برصغیر کی تہذیب کا وہ لافانی کردار ہے جس نے کبھی ہار نہیں مانی۔ قدیم زمانے میں مداری وہ شخص ہوتا تھا جس کے پاس ایک میلا سا تھیلا، ایک  پٹاری اور لفظوں کا ایسا جادو ہوتا تھا کہ وہ تپتی دوپہر میں مجمعے کو گھنٹوں ایک پاؤں پر کھڑا رکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کی تعریف سادہ تھی، وہ شخص جو "ہونے والا ہے" کی امید بیچ کر "جو ہے" اسے لوٹ لے۔ وہ زمین پر دری بچھاتا، اپنی بین بجاتا اور دعویٰ کرتا کہ آج اس کی پٹاری سے نکلنے والا ناگ اس نیولے کے پرخچے اڑا دے گا جو اس کے دوسرے تھیلے میں بند ہے۔ لوگ کام کاج چھوڑ کر رک جاتے، سانسیں روک لیتے، کیونکہ انسانی جبلت کو تماشے اور خون خرابے سے پرانی رغبت ہے۔ مداری جانتا تھا کہ جب تک پٹاری بند ہے، اس کی اہمیت بادشاہ سے کم نہیں۔ وہ سانپ نکالنے سے پہلے ہربل ادویات، گنجے پن کے تیل اور "مردانہ کمزوری" کی دوائیں بیچتا۔ مجمع اس اشتیاق میں کہ ابھی "خونی معرکہ" شروع ہوگا، وہ بیکار قسم کی دوائیاں مہنگے داموں خرید لیتا۔ آخر میں جب مداری کی جیب گرم ہو جاتی، تو وہ کمالِ ہ...

لیکس بطور سیاسی و اقتصادی ہتھیار

تصویر
گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا نے ایسے انکشافات دیکھے ہیں جنہوں نے عالمی سیاست اور معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ محض صحافتی جرات کے مظاہر نہیں تھے بلکہ ڈیجیٹل عہد میں معلومات کی بڑھتی ہوئی طاقت کی علامت تھے۔ ہر لیک، ہر خفیہ فائل اور ہر افشا شدہ دستاویز اپنے اندر سیاسی اور اقتصادی اثرات سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ معلومات سامنے آئیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کب، کس کے ذریعے اور کس عالمی تناظر میں منظرِ عام پر لائی گئیں۔ 2010 میں جولین اسانج کی تنظیم وکی لیکس نے امریکی سفارتی کیبلز اور عراق و افغانستان جنگ سے متعلق خفیہ رپورٹس جاری کیں۔ اس اقدام نے نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا بلکہ سفارتکاری کی دنیا میں اعتماد کے بحران کو بھی جنم دیا۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ معلومات کا اجرا محض خبر نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست میں مداخلت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ 2013 میں ایڈورڈ سنوڈن نے National Security Agency کے نگرانی پروگراموں کو بے نقاب کیا۔ اس انکشاف نے امریکہ سمیت یورپ میں بھی سیاسی ردعمل پیدا کیا۔ جرمنی میں اس وقت کی چانسلر انگیلا میرکل کے فون کی نگرانی کی خبر ...

ایپسٹین فائلیں: ایک شخص، ایک نظام، اور دبائی گئی آوازیں

تصویر
جیفری ایپسٹین نہ کوئی سیاست دان تھا اور نہ کوئی نظریاتی رہنما۔ وہ ایک امیر امریکی فنانسر تھا، جس کی رسائی اقتدار کے ایوانوں، شاہی محلات اور عالمی اشرافیہ کی محفلوں تک تھی۔ تاریخ میں اس کا نام دولت یا مالی ذہانت کے سبب نہیں لکھا جائے گا، بلکہ اس لیے لکھا جائے گا کہ اس نے طاقت اور پیسے کو کم عمر بچیوں کے خلاف منظم جرائم میں بدل دیا۔ ایپسٹین کی کہانی دراصل ایک فرد سے زیادہ ایک نظام کی کہانی ہے۔ وہ نظام جو طاقتور کو تحفظ دیتا ہے اور کمزور کو شک کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ 2005 میں فلوریڈا میں پہلی بار ایپسٹین کے خلاف سنجیدہ الزامات سامنے آئے۔ ایک کم عمر لڑکی کے والدین نے پولیس سے رجوع کیا اور بتایا کہ ان کی بیٹی کو “مالش” کے بہانے ایپسٹین کے گھر بلایا گیا، جہاں اس کا جنسی استحصال ہوا۔ تحقیقات آگے بڑھیں تو ایک، دو نہیں بلکہ درجنوں کم عمر لڑکیاں سامنے آئیں، جن کی کہانیاں ایک دوسرے سے خوفناک حد تک ملتی جلتی تھیں۔ اس کے باوجود 2008 میں ایپیسٹین کو ایک غیر معمولی رعایت ملی۔ اس نے ایک محدود الزام پر اعترافِ جرم کیا اور بدلے میں سنگین وفاقی مقدمات سے بچ گیا۔ اسے صرف 13 ماہ قید کی سزا دی گئی، ...

بلوچستان: بارود، سرحدیں اور عالمی بساط

تصویر
  بلوچستان میں حالیہ دنوں پیش آنے والے منظم  حملے محض چند سیکیورٹی واقعات نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسے خطے میں رونما ہوئے جہاں جغرافیہ خود سیاست لکھتا ہے، اور سیاست خون میں ترجمہ ہو جاتی ہے۔ بارہ سے زائد مقامات پر بیک وقت حملے، سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ عام شہریوں کی ہلاکت، اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرتی ہوئی یہ کارروائیاں سوال اٹھاتی ہیں کہ آیا ہم انہیں صرف داخلی شورش کے خانے میں رکھیں، یا اس شور میں بیرونی طبلوں کی آوازیں بھی سنیں۔ بلوچستان کوئی سادہ صوبہ نہیں۔ یہ پاکستان کا وہ دروازہ ہے جو ایران، افغانستان اور بحیرۂ عرب تینوں سے جڑا ہے۔ یہاں ہر گولی صرف مقامی نہیں ہوتی، اور نہ ہی  ہر دھماکے کے پیچھے صرف مقامی کہانی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بلوچستان میں کچھ ہوتا ہے، تو اس کے سائے تہران سے لیکر مشرق وسطیٰ اور واشنگٹن کے سمندری گزرگاہوں تک پھیل جاتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد ایک کاغذی لکیر ضرور ہے، مگر زمینی حقیقت میں یہ ایک زندہ، سانس لیتی، اور اکثر زخمی رہنے والی حد بندی ہے۔ اس سرحد کے دونوں طرف بلوچ آباد ہیں، رشتے ہیں، تجارت ہے، اور ساتھ ہی محرومیاں بھی ہیں...