اب میں بولوں کہ نہ بولوں
"اب میں بولوں کہ نہ بولوں " پی ٹی وی پشاور کے ایک زمانے کے مقبول طنزیہ پروگرام میں افتخار قیصر ایک خاص انداز سے اپنے طنزیہ اشعار سنایا کرتے تھے۔ پہلے ذرا ٹھہر کر پوچھتے: "اب میں بولوں کہ نہ بولوں؟" ۔پسِ منظر سے آوازیں آتیں: "بولو… بولو!" وہ کچھ دیر خاموش رہتے، پھر دھیرے سے کہتے: "بولا… بولا…" اور اس کے بعد ایسا شعر آتا کہ ہنسی بھی آتی اور آدمی کو سوچنے پر بھی مجبور کر دیتا۔ آج نہ جانے کیوں وہی جملہ بار بار ذہن میں آ رہا ہے۔ اب میں بولوں کہ نہ بولوں؟ پسِ منظر سے پھر جیسے آواز آ رہی ہے: "بولو… بولو!" تو بولا… بولا… کچھ دنوں سے دل میں ایک عجیب سی بے چینی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایک کے بعد ایک دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ پولیس اور آرمی کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ عام شہری بھی اس آگ کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ کوہاٹ میں پولیس کمپلیکس پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر گئی، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ ہنگو میں بھی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے افسر اور جوان، فوجی اہلکار اور عام شہری جانیں کھو رہ...