" قبر ایک، بندے دو: ولی خان سے نیتن یاہو تک "
" قبر ایک، بندے دو: ولی خان سے نیتن یاہو تک " تاریخ خود کو دہراتی نہیں ہے، بلکہ کبھی کبھی تو بالکل "فوٹو کاپی" کر کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ 1977 میں جب فوجی مارشل لاء نافذ ہوا اور ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کو پابندِ سلاسل کیا، تو ڈرائنگ رومز میں بیٹھے دانشور کہتے تھے کہ "جی، کچھ مصلحت ہو جائے گی، بھٹو صاحب کسی خلیجی ملک چلے جائیں گے یا ضیاء صاحب پیچھے ہٹ جائیں گے"۔ مگر دور بینی نگاہ رکھنے والے خان عبدالولی خان اپنے جلسوں میں ایک ہی گردان کرتے تھے: "قبر ایک ہے اور بندے دو!" ولی خان جانتے تھے کہ جس نہج پر معاملات پہنچ چکے ہیں، وہاں اب دونوں کا بچنا ناممکن ہے۔ ایک کو تخت ملنا تھا اور دوسرے کو تختہ۔ جب دو متوازی طاقتیں ایک ہی دائرے میں سمونے کی کوشش کریں، تو تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بھٹو کی کرشماتی شخصیت اور ضیاء الحق کی خاموش مگر آہنی گرفت کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی تھی، اسے مٹانے کا کوئی درمیانی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ 1979 کی ایک منحوس رات نے ولی خان کی بات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ ولی خان کی وہ بصیرت کہ "قبر ایک ...