چین کا طوطا اور سیاسی نسخہ
"چین کا طوطا اور سیاسی نسخہ" بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی، ’’چین کا طوطا‘‘۔ اس وقت یہ صرف ایک دلچسپ حکایت لگی تھی، لیکن آج کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے بچوں کی کہانیوں میں بھی سیاسی اور دفاعی حکمتِ عملی چھپا رکھی تھی، بس ہم ہی ناسمجھ نکلے۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ ایک تاجر کے پاس پنجرے میں بند ایک طوطا تھا۔ تاجر چین جانے لگا تو طوطے نے کہا: ’’وہاں کے طوطوں کو میرا سلام کہنا۔‘‘ تاجر نے چین پہنچ کر درخت پر بیٹھے طوطوں کو سلام پہنچایا تو ایک چینی طوطا یہ سنتے ہی نیچے گرا اور ٹھنڈا ہو گیا۔ تاجر واپس آیا تو اس نے اپنے طوطے کو یہ دلخراش واقعہ سنایا۔ واقعہ سنتے ہی اس کے طوطے نے بھی آنکھیں بند کیں، ٹانگیں اوپر کیں اور پنجرے کے فرش پر گر گیا۔ تاجر نے سوچا، طوطا صدمے سے مر گیا ہے۔ اس نے افسوس کرتے ہوئے پنجرے کا دروازہ کھول کر اسے باہر نکالنا چاہا۔ جیسے ہی تاجر کا ہاتھ ہٹا، طوطا سائیں سے اڑا، درخت کی شاخ پر جا بیٹھا اور بولا: ’’چینی طوطے نے مجھے رہائی کا نسخہ بھیجا تھا!‘‘ یعنی چینی طوطا مرا نہیں تھا، اس نے صرف یہ پیغام دیا تھا کہ جب تک مالک کو یہ یقین نہ دلاؤ کہ تم میں اب...