سانپ اور نیولے کی لڑائی کا جدید چورن
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ "مداری" برصغیر کی تہذیب کا وہ لافانی کردار ہے جس نے کبھی ہار نہیں مانی۔ قدیم زمانے میں مداری وہ شخص ہوتا تھا جس کے پاس ایک میلا سا تھیلا، ایک پٹاری اور لفظوں کا ایسا جادو ہوتا تھا کہ وہ تپتی دوپہر میں مجمعے کو گھنٹوں ایک پاؤں پر کھڑا رکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کی تعریف سادہ تھی، وہ شخص جو "ہونے والا ہے" کی امید بیچ کر "جو ہے" اسے لوٹ لے۔ وہ زمین پر دری بچھاتا، اپنی بین بجاتا اور دعویٰ کرتا کہ آج اس کی پٹاری سے نکلنے والا ناگ اس نیولے کے پرخچے اڑا دے گا جو اس کے دوسرے تھیلے میں بند ہے۔ لوگ کام کاج چھوڑ کر رک جاتے، سانسیں روک لیتے، کیونکہ انسانی جبلت کو تماشے اور خون خرابے سے پرانی رغبت ہے۔ مداری جانتا تھا کہ جب تک پٹاری بند ہے، اس کی اہمیت بادشاہ سے کم نہیں۔ وہ سانپ نکالنے سے پہلے ہربل ادویات، گنجے پن کے تیل اور "مردانہ کمزوری" کی دوائیں بیچتا۔ مجمع اس اشتیاق میں کہ ابھی "خونی معرکہ" شروع ہوگا، وہ بیکار قسم کی دوائیاں مہنگے داموں خرید لیتا۔ آخر میں جب مداری کی جیب گرم ہو جاتی، تو وہ کمالِ ہ...