"ایران۔امریکہ عبوری معاہدہ: امن کی پہلی کرن یا نئے طوفان سے پہلے کا سکوت؟"
"ایران۔امریکہ عبوری معاہدہ: امن کی پہلی کرن یا نئے طوفان سے پہلے کا سکوت؟" ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض حلقے اسے امن کی جانب پہلا قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ ماہرین کے نزدیک یہ صرف ایک عارضی وقفہ ہے جو کسی بڑے تصادم سے پہلے کا سکوت بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے نے کئی ماہ سے جاری فوجی کشیدگی کو وقتی طور پر روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن بیشتر مبصرین اسے مستقل امن کی بجائے ایک عبوری جنگ بندی تصور کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ پائیدار امن کی بنیاد بنے گا یا ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوگا؟ اس معاہدے کا سب سے فوری اور مثبت پہلو فوجی کارروائیوں میں نمایاں کمی ہے۔ جس انداز سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا تھے، اس سے نہ صرف خلیجی ریاستیں بلکہ پوری عالمی معیشت خطرات سے دوچار ہو رہی تھی۔ معاہدے کے نتیجے میں تیل کی اہم بحری گزرگاہوں کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں نسبتاً استحکام آیا ہے۔ اسی طرح ایران کو اپ...