ایٹم بم: حفاظت یا ہلاکت؟
" ایٹم بم: حفاظت یا ہلاکت؟ " دنیا نے جب ایٹمی توانائی کو دریافت کیا تو اسے انسانی ترقی کی معراج اور توانائی کے بحران کا حل سمجھا گیا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہی معراج ایک ایسا نوکیلا پہاڑ ہے جس کی چوٹی پر پہنچ کر انسان کے قدم ہمیشہ لرزتے رہتے ہیں۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو دشمن کے شہر کو لمحوں میں راکھ کے ڈھیر میں بدل سکتا ہے۔ مگر اس کی سب سے بڑی اور ہولناک سچائی یہ ہے کہ یہ صرف دشمن کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے بنانے والے کے لیے بھی ایک مستقل، خاموش اور ہمہ وقت موجود خطرہ ہے۔ ہم جسے اپنی ڈھال سمجھتے ہیں، وہ دراصل ایک ایسا دو دھاری تلوار ہے جس کا دستہ بھی اتنا ہی تیز ہے جتنا کہ اس کی دھار۔ 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے دنیا کو پہلی بار دکھایا کہ جنگ اگر اس سطح پر پہنچ جائے تو یہ صرف فوجی فتح یا شکست نہیں رہتی بلکہ انسانیت کی اجتماعی خودکشی بن جاتی ہے۔ وہ لاکھوں جانیں جو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بھاپ بن کر اڑ گئیں، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک ایسی بستی کے باسی تھے جہاں "ایٹم" نے اپنا پہلا رقص دکھانا تھا۔ مگر تباہی وہاں رکی نہ...