"نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں"
" نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں" اکیس مارچ کو ایشیاء کے ایک بڑے حصے میں ’نوروز‘ یعنی ’نیا دن‘ منایا جا رہا ہے۔ نوروز محض ایک تہوار یا مخصوص تاریخ نہیں، بلکہ تین ہزار سالہ قدیم انسانی تہذیب کا وہ استعارہ ہے جو نسل در نسل سینوں میں منتقل ہوتا آیا ہے۔ یہ جشنِ بہاراں کا وہ قصہ ہے جو بچپن کے تندور کی تپش سے شروع ہو کر وسطی ایشیا کی برفیلی شاموں اور آذربائیجان کے معطر دسترخوانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ نوروز کی جڑیں قبل از اسلام کی قدیم زرتشتی روایت اور ایرانی تاریخ کے اوراق میں پیوست ہیں۔ اسے خاص طور پر زرتشتیت سے جوڑا جاتا ہے، جہاں آگ، روشنی اور فطرت کی تجدید کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق، جب جمشید نے تخت سنبھالا تو اس دن سورج کی کرنیں پوری آب و تاب سے چمکیں، کائنات میں ایک توازن پیدا ہوا اور اس نے اس دن کو ’نوروز‘ قرار دیا۔ سائنسی طور پر یہ وہ وقت ہے جسے اعتدالِ ربیعی کہا جاتا ہے، جب دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جاتا ہے اور زمین کی کوکھ سے نئی زندگی پھوٹتی ہے۔ جدید فلکیات کے مطابق یہ لمحہ زمین کے محور کے جھکاؤ اور سورج کے گرد اس کے مدار کے ا...