اشاعتیں

حیاتیاتی گھڑی اور انسانی زندگی

تصویر
 انسان کی زندگی میں وقت ہمیشہ ایک بنیادی قوت رہا ہے۔ سورج کا طلوع و غروب، دن اور رات کا تسلسل اور موسموں کی آمد و رفت ہماری حیات کے دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔ مگر وقت صرف باہر نہیں، ہمارے اندر بھی دھڑکتا ہے۔ جسم کے اندر ایک ایسی گھڑی موجود ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ کب جاگنا ہے، کب سونا ہے، کب بھوک لگنی ہے اور کب توانائی کے چشمے پھوٹنے ہیں۔ اسی کو سائنس کی زبان میں سرکیڈین ردھم یا حیاتیاتی گھڑی کہا جاتا ہے۔ یہ گھڑی دماغ کے ایک حصے میں موجود دماغی حیاتیاتی گھڑی کا مرکز ہے، جو روشنی اور اندھیرے کے اشاروں سے پورے جسم کو ہدایت دیتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں "میلاٹونن" نامی ہارمون بڑھتا ہے اور ہمیں نیند آنے لگتی ہے، صبح کے وقت "کارٹیسول" زیادہ ہوتا ہے جو دن کے آغاز کے لیے توانائی بخشتا ہے۔ جسم کا درجہ حرارت دن میں بلند اور رات کو کم ہو جاتا ہے، اور ہاضمہ بھی اسی تال کے مطابق چلتا ہے۔ یہ اندرونی نظام اگر بگڑ جائے تو نیند کی کمی، یادداشت کی کمزوری، موٹاپا، ذیابیطس اور ڈپریشن جیسی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان اس نظام کو سمجھنے پر زور دیتے ہیں تاکہ انسان اپنی زن...

آئی ایم ایف کا لگان

تصویر
  سنیما کی تاریخ میں کچھ مناظر صرف منظر نہیں رہتے، وہ معاشروں کی ذہنیت بن جاتے ہیں۔ فلم لگان کا وہ منظر آج بھی ایک زخم کی طرح یاد رہتا ہے، جہاں خشک سالی سے جلتے ہوئے گاؤں میں کسان امید کے آخری ٹکڑے کو بھون کے گرد جمع کر لیتے ہیں۔ زمین جل رہی ہے، کنویں مر چکے ہیں، آسمان جیسے زمین کے خلاف اعلانِ جنگ کر چکا ہے، اور اسی لمحے کپتان رسل محل کے جھروکے سے حکم دیتا ہے: "لگان دگنا دینا ہوگا!" یہ جملہ صرف ٹیکس نہیں تھا، یہ ایک تہذیب کا اعلان تھا۔ طاقت کے سامنے انسان کی بے بسی کا اعلان تھا۔ کسان ہاتھ جوڑتے ہیں، دہائیاں دیتے ہیں، مگر دربار میں گونج صرف ایک ہی ہے: حکم اوپر سے آیا ہے۔ اور حکم پر سوال نہیں ہوتا۔ اگر نجات چاہیے تو شرط سادہ ہے: غیر مساوی کھیل میں جیت کر دکھاؤ۔ آج جب مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش ہو رہا تھا، تو یوں لگا جیسے تاریخ نے خود کو ریبوٹ کر لیا ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب کپتان رسل گھوڑے پر نہیں آتا۔ اب وہ کسی جھروکے میں بھی نہیں بیٹھتا۔ اب وہ کہیں بہت دور، فائلوں، شرائط اور معاہدوں کے درمیان چھپا ہوتا ہے۔ اور یہاں نیچے اس کے فیصلوں کی گرد عام آدمی کے سانسوں میں اترتی ہے۔...

فٹبال ورلڈ کپ اور امن کا عالمی پیغام

تصویر
  دنیا اس وقت ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف جنگوں کی گھن گرج ہے، میزائلوں کی آوازیں ہیں، سیاسی اختلافات ہیں اور طاقت کی کشمکش ہے، تو دوسری طرف امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی میزبانی میں جاری فٹبال ورلڈ کپ میں دنیا کے مختلف ممالک ایک ہی میدان میں جمع ہیں۔ وہاں ہتھیار نہیں، گیند چلتی ہے؛ بارود نہیں، تالیوں کی گونج سنائی دیتی ہے؛ نفرت نہیں، کھیل کا جذبہ غالب آتا ہے۔ فٹبال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اور فیفا ورلڈ کپ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں انسانوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ یہ ایسا ایونٹ ہے جسے نسل، مذہب، زبان اور سیاست کی سرحدوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہے۔ اس بار کا عالمی کپ ایک اور وجہ سے بھی منفرد ہے کہ دنیا کے کئی ممالک باہمی سیاسی کشیدگی کے باوجود ایک ہی ٹورنامنٹ میں شریک ہیں۔ خاص طور پر ایران کی شرکت اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ کھیل بعض اوقات سفارت کاری سے بھی زیادہ طاقتور زبان بولتے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، مگر میدان میں کھلاڑی اپنے ملک کی نمائندگی کھیل کے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دنیا کو احساس ہوتا ہے کہ اختلاف کے باوجود رابطہ مم...

خندق سے ڈرون تک

تصویر
 "خندق سے ڈرون تک" جب پہلی بار خبر آئی کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے ہیں، تو دنیا بھر کے فوجی ماہرین نے ایک ہی عدد لکھا: 72 گھنٹے۔ ہر تجزیہ، ہر انٹیلی جنس رپورٹ اور ہر کمپیوٹر ماڈل یہی بتا رہا تھا کہ ایرانی فضائیہ غیر مؤثر ہو جائے گی، دفاعی نظام بکھر جائے گا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ عمومی تاثر یہی تھا کہ ایران زیادہ دیر تک دباؤ برداشت نہیں کر سکے گا۔ لیکن تاریخ کو محض حسابی ماڈلز میں قید کرنے والوں نے ایک اہم عنصر کو کم سمجھا: ایرانی دفاعی ذہنیت۔ وہی ذہنیت جس نے چودہ سو سال پہلے مدینہ کے گرد خندق کھودی، منگولوں کے خلاف برسوں مزاحمت کی، اور عراق کی آٹھ سالہ جنگ کو "مقدس دفاع" میں بدل دیا۔ قدیم تدابیر ہوں یا جدید مزاحمتیں، آج یہی سوچ میزائل، ڈرونز اور زیرِ زمین تنصیبات کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایران کا جغرافیہ ہمیشہ سے حملہ آوروں کے لیے مشکل ثابت ہوا ہے۔ سکندر اعظم سے لے کر عربوں، سلجوقوں، منگولوں اور تیموریوں تک، ہر ایک نے اس سرزمین کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مگر ایرانی دفاع کی گہرائی اور مزاحمت کی روایت نے ...

"آئی پی پیز" یعنی انکل کی بکری کا سالانہ منافع

تصویر
آج بات کریں گے ملک کے اُس نایاب نظام کی، جسے ہم پیار سے "آئی پی پیز" کہتے ہیں۔ ویسے تو انگریزی میں اس کا مطلب "Independent Power Producers" ہے، لیکن میں نے اس کا زیادہ مناسب ترجمہ دریافت کیا ہے:  "انکل کی پرانی پنشن"۔ سمجھ نہیں آئی؟ تو سنیے۔ فرض کیجیے آپ کے گھر میں ایک انکل ہیں۔ انھوں نے بیس سال پہلے گھر کے لیے ایک بکری خریدی تھی کہ دودھ دے گی۔ بکری کی قیمت کا ستر فیصد آپ نے اپنی جیب سے دیا، انکل نے صرف تیس فیصد لگایا۔ مگر معاہدہ یہ ہوا کہ بکری دودھ دے یا نہ دے، انکل کو دودھ کے پیسے ملتے رہیں گے۔ دودھ کی قیمت بھی ڈالر میں طے ہوگی۔ بکری بوڑھی ہو جائے، مر جائے، تب بھی ادائیگی جاری رہے گی۔ اور اگر کبھی آپ حساب مانگ بیٹھیں تو خاندان ناراض ہو جائے گا۔ یہ ہے پاکستان کا آئی پی پیز کا نظام۔  ایسا نظام جسے سمجھنے کے لیے معاشیات کی ڈگری سے زیادہ مضبوط اعصاب کی ضرورت پڑتی ہے۔ بات 1994 کی ہے۔ اُس وقت ملک میں بجلی کا بحران تھا۔ حکومت کے پاس وسائل کم تھے، اس لیے فیصلہ ہوا کہ نجی کمپنیوں کو بجلی پیدا کرنے کی دعوت دی جائے۔ پیشکش کچھ یوں تھی:  "آپ بجلی بنائیں، ہم ہر ح...

ہائڈ پارک سے ایکس تک — آزادیٔ اظہار یا "کی بورڈ واریئرز" کا ہجوم؟

تصویر
  " ہائڈ پارک سے ایکس تک — آزادیٔ اظہار یا "کی بورڈ واریئرز" کا ہجوم؟" لندن کے ہائڈ پارک میں ایک "اسپیکرز کارنر" ہوا کرتا تھا، جو کبھی جمہوریت اور آزادیٔ اظہار کا سب سے جاندار نمونہ سمجھا جاتا تھا۔ وہاں کی فضا میں ایک عجیب سا توازن تھا؛ بولنے والا ایک لکڑی کے کریٹ پر کھڑا ہوتا تھا تاکہ اس کا قد مجمع سے تھوڑا بلند نظر آئے، مگر اس کی حیثیت مجمع کے برابر ہی رہتی تھی۔ اس کی آزادی کی ایک قیمت تھی جو شاید آج کے "ڈیجیٹل انقلابیوں" کے لیے ناقابلِ فہم ہو۔ وہاں بولنے والے کو سامعین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی پڑتی تھی، اسے سامنے کھڑے لوگوں کے تیکھے سوالات، طنزیہ مسکراہٹوں اور کبھی کبھار سخت ردِعمل کو براہِ راست سہنا پڑتا تھا۔ وہاں الفاظ کا وزن کہنے والے کے کندھوں پر ہوتا تھا۔ اگر آپ کی دلیل میں جان نہیں تھی، تو مجمع کی خاموشی یا ایک بلند قہقہہ آپ کو اسٹیج سے اتارنے کے لیے کافی تھا۔ وہ جگہ صرف اظہار کی آزادی نہیں دیتی تھی، بلکہ انسان کو یہ سکھاتی تھی کہ اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جیا جاتا ہے۔ مگر پھر وقت نے کروٹ لی، اور ٹیکنالوج...

ایٹم بم: حفاظت یا ہلاکت؟

تصویر
  " ایٹم بم: حفاظت یا ہلاکت؟  "         دنیا نے جب ایٹمی توانائی کو دریافت کیا تو اسے انسانی ترقی کی معراج اور توانائی کے بحران کا حل سمجھا گیا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہی معراج ایک ایسا نوکیلا پہاڑ ہے جس کی چوٹی پر پہنچ کر انسان کے قدم ہمیشہ لرزتے رہتے ہیں۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو دشمن کے شہر کو لمحوں میں راکھ کے ڈھیر میں بدل سکتا ہے۔ مگر اس کی سب سے بڑی اور ہولناک سچائی یہ ہے کہ یہ صرف دشمن کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے بنانے والے کے لیے بھی ایک مستقل، خاموش اور ہمہ وقت موجود خطرہ ہے۔ ہم جسے اپنی ڈھال سمجھتے ہیں، وہ دراصل ایک ایسا دو دھاری تلوار ہے جس کا دستہ بھی اتنا ہی تیز ہے جتنا کہ اس کی دھار۔ 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے دنیا کو پہلی بار دکھایا کہ جنگ اگر اس سطح پر پہنچ جائے تو یہ صرف فوجی فتح یا شکست نہیں رہتی بلکہ انسانیت کی اجتماعی خودکشی بن جاتی ہے۔ وہ لاکھوں جانیں جو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بھاپ بن کر اڑ گئیں، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک ایسی بستی کے باسی تھے جہاں "ایٹم" نے اپنا پہلا رقص دکھانا تھا۔ مگر تباہی وہاں رکی نہ...

جنگ کے دہانے سے واپسی: ایک مہلت، ایک موقع

تصویر
 " جنگ کے دہانے سے واپسی: ایک مہلت، ایک موقع " دنیا ایک بار پھر اس مقام پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں ایک غلط فیصلہ یا ایک ضد پوری انسانیت کو ایسی آگ میں جھونک سکتی تھی جس کے شعلے نسلوں تک محسوس کیے جاتے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ فضا میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ نے خطرے کی گھنٹی اس شدت سے بجائی کہ دنیا کی سانسیں تھم سی گئیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا سخت الٹی میٹم محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دھمکی تھی جس کے پیچھے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کھڑی تھی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ، اور اس کے ساتھ “چند گھنٹوں میں تہذیب کی تباہی” جیسے الفاظ، اس بات کا اعلان تھے کہ معاملہ سفارتی دائرے سے نکل کر خطرناک عسکری تصادم کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا مرکز ہے۔ اس کی بندش یا اس پر کشیدگی کا مطلب صرف علاقائی بحران نہیں بلکہ عالمی اقتصادی زلزلہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران نے امریکی مطالبات کو مسترد کیا تو خطرہ کئی گنا بڑھ گیا۔ دنیا کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے ایک چنگاری پورے ج...

"مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: نقصان سب کا، فائدہ چند کے لیے "

تصویر
  "مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: نقصان سب کا، فائدہ چند کے لیے "   مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک مکمل جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم، جس میں اسرائیل ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، اب کسی “کشیدگی” یا “تنازع” کی حدوں سے نکل کر ایک کھلی اور ہمہ گیر جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سیاسی توازن کو شدید جھٹکے دے رہی ہے۔ ایران کے اندر صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بڑے شہروں کا انفراسٹرکچر تباہی کے دہانے پر ہے، اور ریاستی ڈھانچہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے نقصانات نے نہ صرف جنگی حکمتِ عملی کو متاثر کیا ہے بلکہ داخلی استحکام اور پہلے سے عالمی پابندیوں کے شکار معیشت کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل بھی اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اربوں ڈالر کے فوجی اخراجات، جدید اسلحے کا استعمال، اور مسلسل فوجی آپریشنز ان کی معیشت پر بوجھ بن رہے ہیں۔ خلیجی ممالک اس جنگ کے سب سے خطرناک دائرے میں آ چکے ہیں۔ سعودی عرب، قطر، کویت، بحری...

"نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں"

تصویر
  " نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں" اکیس مارچ کو ایشیاء کے ایک بڑے حصے میں ’نوروز‘ یعنی ’نیا دن‘ منایا جا رہا ہے۔ نوروز محض ایک تہوار یا مخصوص تاریخ نہیں، بلکہ تین ہزار سالہ قدیم انسانی تہذیب کا وہ استعارہ ہے جو نسل در نسل سینوں میں منتقل ہوتا آیا ہے۔ یہ جشنِ بہاراں کا وہ قصہ ہے جو بچپن کے تندور کی تپش سے شروع ہو کر وسطی ایشیا کی برفیلی شاموں اور آذربائیجان کے معطر دسترخوانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ نوروز کی جڑیں قبل از اسلام کی قدیم زرتشتی روایت اور ایرانی تاریخ کے اوراق میں پیوست ہیں۔ اسے خاص طور پر زرتشتیت سے جوڑا جاتا ہے، جہاں آگ، روشنی اور فطرت کی تجدید کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق، جب جمشید نے تخت سنبھالا تو اس دن سورج کی کرنیں پوری آب و تاب سے چمکیں، کائنات میں ایک توازن پیدا ہوا اور اس نے اس دن کو ’نوروز‘ قرار دیا۔ سائنسی طور پر یہ وہ وقت ہے جسے اعتدالِ ربیعی کہا جاتا ہے، جب دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جاتا ہے اور زمین کی کوکھ سے نئی زندگی پھوٹتی ہے۔ جدید فلکیات کے مطابق یہ لمحہ زمین کے محور کے جھکاؤ اور سورج کے گرد اس کے مدار کے ا...