اشاعتیں

ایٹم بم: حفاظت یا ہلاکت؟

تصویر
  " ایٹم بم: حفاظت یا ہلاکت؟  "         دنیا نے جب ایٹمی توانائی کو دریافت کیا تو اسے انسانی ترقی کی معراج اور توانائی کے بحران کا حل سمجھا گیا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہی معراج ایک ایسا نوکیلا پہاڑ ہے جس کی چوٹی پر پہنچ کر انسان کے قدم ہمیشہ لرزتے رہتے ہیں۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو دشمن کے شہر کو لمحوں میں راکھ کے ڈھیر میں بدل سکتا ہے۔ مگر اس کی سب سے بڑی اور ہولناک سچائی یہ ہے کہ یہ صرف دشمن کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے بنانے والے کے لیے بھی ایک مستقل، خاموش اور ہمہ وقت موجود خطرہ ہے۔ ہم جسے اپنی ڈھال سمجھتے ہیں، وہ دراصل ایک ایسا دو دھاری تلوار ہے جس کا دستہ بھی اتنا ہی تیز ہے جتنا کہ اس کی دھار۔ 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے دنیا کو پہلی بار دکھایا کہ جنگ اگر اس سطح پر پہنچ جائے تو یہ صرف فوجی فتح یا شکست نہیں رہتی بلکہ انسانیت کی اجتماعی خودکشی بن جاتی ہے۔ وہ لاکھوں جانیں جو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بھاپ بن کر اڑ گئیں، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک ایسی بستی کے باسی تھے جہاں "ایٹم" نے اپنا پہلا رقص دکھانا تھا۔ مگر تباہی وہاں رکی نہ...

جنگ کے دہانے سے واپسی: ایک مہلت، ایک موقع

تصویر
 " جنگ کے دہانے سے واپسی: ایک مہلت، ایک موقع " دنیا ایک بار پھر اس مقام پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں ایک غلط فیصلہ یا ایک ضد پوری انسانیت کو ایسی آگ میں جھونک سکتی تھی جس کے شعلے نسلوں تک محسوس کیے جاتے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ فضا میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ نے خطرے کی گھنٹی اس شدت سے بجائی کہ دنیا کی سانسیں تھم سی گئیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا سخت الٹی میٹم محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دھمکی تھی جس کے پیچھے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کھڑی تھی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ، اور اس کے ساتھ “چند گھنٹوں میں تہذیب کی تباہی” جیسے الفاظ، اس بات کا اعلان تھے کہ معاملہ سفارتی دائرے سے نکل کر خطرناک عسکری تصادم کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا مرکز ہے۔ اس کی بندش یا اس پر کشیدگی کا مطلب صرف علاقائی بحران نہیں بلکہ عالمی اقتصادی زلزلہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران نے امریکی مطالبات کو مسترد کیا تو خطرہ کئی گنا بڑھ گیا۔ دنیا کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے ایک چنگاری پورے ج...

"مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: نقصان سب کا، فائدہ چند کے لیے "

تصویر
  "مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: نقصان سب کا، فائدہ چند کے لیے "   مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک مکمل جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم، جس میں اسرائیل ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، اب کسی “کشیدگی” یا “تنازع” کی حدوں سے نکل کر ایک کھلی اور ہمہ گیر جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سیاسی توازن کو شدید جھٹکے دے رہی ہے۔ ایران کے اندر صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بڑے شہروں کا انفراسٹرکچر تباہی کے دہانے پر ہے، اور ریاستی ڈھانچہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے نقصانات نے نہ صرف جنگی حکمتِ عملی کو متاثر کیا ہے بلکہ داخلی استحکام اور پہلے سے عالمی پابندیوں کے شکار معیشت کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل بھی اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اربوں ڈالر کے فوجی اخراجات، جدید اسلحے کا استعمال، اور مسلسل فوجی آپریشنز ان کی معیشت پر بوجھ بن رہے ہیں۔ خلیجی ممالک اس جنگ کے سب سے خطرناک دائرے میں آ چکے ہیں۔ سعودی عرب، قطر، کویت، بحری...

"نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں"

تصویر
  " نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں" اکیس مارچ کو ایشیاء کے ایک بڑے حصے میں ’نوروز‘ یعنی ’نیا دن‘ منایا جا رہا ہے۔ نوروز محض ایک تہوار یا مخصوص تاریخ نہیں، بلکہ تین ہزار سالہ قدیم انسانی تہذیب کا وہ استعارہ ہے جو نسل در نسل سینوں میں منتقل ہوتا آیا ہے۔ یہ جشنِ بہاراں کا وہ قصہ ہے جو بچپن کے تندور کی تپش سے شروع ہو کر وسطی ایشیا کی برفیلی شاموں اور آذربائیجان کے معطر دسترخوانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ نوروز کی جڑیں قبل از اسلام کی قدیم زرتشتی روایت اور ایرانی تاریخ کے اوراق میں پیوست ہیں۔ اسے خاص طور پر زرتشتیت سے جوڑا جاتا ہے، جہاں آگ، روشنی اور فطرت کی تجدید کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق، جب جمشید نے تخت سنبھالا تو اس دن سورج کی کرنیں پوری آب و تاب سے چمکیں، کائنات میں ایک توازن پیدا ہوا اور اس نے اس دن کو ’نوروز‘ قرار دیا۔ سائنسی طور پر یہ وہ وقت ہے جسے اعتدالِ ربیعی کہا جاتا ہے، جب دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جاتا ہے اور زمین کی کوکھ سے نئی زندگی پھوٹتی ہے۔ جدید فلکیات کے مطابق یہ لمحہ زمین کے محور کے جھکاؤ اور سورج کے گرد اس کے مدار کے ا...

" بچہ اسکول گیا، لغت بن کر واپس آیا "

تصویر
  " بچہ اسکول گیا، لغت بن کر واپس آیا " ہمارے ہاں بچے کی پیدائش پر خوشی تو بہت منائی جاتی ہے، مگر کوئی اس معصوم کو یہ نہیں بتاتا کہ میاں! تم کسی ملک میں نہیں بلکہ ایک “لسانی لیبارٹری” میں پیدا ہوئے ہو۔ یہاں تمہارا مقابلہ نصاب سے نہیں بلکہ چار زبانوں سے ہے، جو ایک دوسرے کے پیچھے لاٹھی لے کر دوڑ رہی ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ جب ایک پشتون بچہ پہلی بار اسکول کے گیٹ میں قدم رکھتا ہے تو وہ ایک ہنستا کھیلتا انسان ہوتا ہے۔ مگر جوں ہی کلاس روم میں بیٹھتا ہے، اس پر “لسانی بمباری” شروع ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلے انگریزی آتی ہے، جو ہمارے ہاں علم نہیں بلکہ شرافت اور ذہانت کا سرٹیفکیٹ سمجھی جاتی ہے۔ ٹیچر بڑے فخر سے کہتے ہیں: “بیٹا! بولو A for Apple۔” بچہ دل ہی دل میں سوچتا ہے: “یہ ایپل کیا بلا ہے؟ ہم تو اسے منڑہ کہتے ہیں۔” ابھی وہ “منڑے” اور “ایپل” کے درمیان کوئی رشتہ ڈھونڈ ہی رہا ہوتا ہے کہ اردو کی باری آ جاتی ہے۔ “نہیں بیٹا، اسے سیب کہتے ہیں۔” بچہ سر کھجاتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ چیز کھانے کی ہے یا اس کے نام یاد کرنے کی؟ اور اگر یاد ہی کرنا ہے تو تین تین نام کیوں؟ ابھی وہ اسی الجھن میں ہوتا ہے ک...

" پیٹرو ڈالر اور ہرمز کا بحران: عالمی معیشت کس سمت جا رہی ہے؟"

تصویر
  " پیٹرو ڈالر اور ہرمز کا بحران: عالمی معیشت کس سمت جا رہی ہے؟" جب دنیا کے اہم ترین تجارتی راستے بحران کی لپیٹ میں آ جائیں اور عالمی تجارت کی سب سے بڑی کرنسی اپنی بالادستی کو چیلنج ہوتے دیکھے تو یہ محض علاقائی کشیدگی نہیں رہتی بلکہ اس امر کا اشارہ بن جاتی ہے کہ عالمی معاشی نظام ایک بڑے تغیر کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیاں اور توانائی کی اہم گزرگاہوں پر منڈلاتے خطرات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ "تیل کی سیاست" دراصل "عالمی معیشت کی سیاست" ہے۔ جب توانائی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ گزشتہ نصف صدی سے عالمی اقتصادی نظام ایک خاص ڈھانچے کے تحت چلتا رہا ہے، جس کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ عالمی توانائی کی تجارت زیادہ تر ایک ہی کرنسی میں ہو، اور وہ کرنسی امریکی ڈالر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عام طور پر پیٹرو ڈالر اکانومی کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت دنیا کے بیشتر ممالک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر درکار ہوتا رہا، جس نے امریک...

" قبر ایک، بندے دو: ولی خان سے نیتن یاہو تک "

تصویر
  " قبر ایک، بندے دو: ولی خان سے نیتن یاہو تک " تاریخ خود کو دہراتی نہیں ہے، بلکہ کبھی کبھی تو بالکل "فوٹو کاپی" کر کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ 1977 میں جب فوجی مارشل لاء نافذ ہوا اور ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کو پابندِ سلاسل کیا، تو ڈرائنگ رومز میں بیٹھے دانشور کہتے تھے کہ "جی، کچھ مصلحت ہو جائے گی، بھٹو صاحب کسی خلیجی ملک چلے جائیں گے یا ضیاء صاحب پیچھے ہٹ جائیں گے"۔ مگر دور بینی نگاہ رکھنے والے خان عبدالولی خان اپنے جلسوں میں ایک ہی گردان کرتے تھے: "قبر ایک ہے اور بندے دو!" ولی خان جانتے تھے کہ جس نہج پر معاملات پہنچ چکے ہیں، وہاں اب دونوں کا بچنا ناممکن ہے۔ ایک کو تخت ملنا تھا اور دوسرے کو تختہ۔ جب دو متوازی طاقتیں ایک ہی دائرے میں سمونے کی کوشش کریں، تو تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بھٹو کی کرشماتی شخصیت اور ضیاء الحق کی خاموش مگر آہنی گرفت کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی تھی، اسے مٹانے کا کوئی درمیانی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ 1979 کی ایک منحوس رات نے ولی خان کی بات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ ولی خان کی وہ بصیرت کہ "قبر ایک ...

"ویزا، باڈی گارڈ اور 'آ بیل مجھے مار': عرب شیخوں کی تزویراتی کامیڈی!"

تصویر
  "ویزا، باڈی گارڈ اور 'آ بیل مجھے مار': عرب شیخوں کی تزویراتی کامیڈی!" دنیا کی سیاست بھی عجب تماشہ ہے، کبھی پلڑا ادھر تو کبھی ادھر۔ اصل میں ہوا یہ کہ عربوں نے دفاع کے نام پر "آ بیل مجھے مار" والا ایسا فارمولا اپنایا کہ تاریخ بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ ایک طرف ایران تھا جس نے 40 سال سوکھی روٹی کھائی لیکن اپنے ڈرونز اور میزائلوں کو "پیرو جوان" کر لیا۔ دوسری طرف ہمارے عرب شیخ تھے، جنہوں نے سوچا کہ خود محنت کون کرے، امریکہ کو "کرائے کا باڈی گارڈ" رکھتے ہیں اور اپنے ملک میں اس کے اڈے بنواتے ہیں۔ ایران کے میزائلوں نے جب انگڑائی لی، تو انہیں معلوم ہوا کہ واشنگٹن تو بہت دور ہے، لیکن پڑوس میں بنے امریکی اڈے تو بالکل "ہوم ڈلیوری" والے فاصلے پر ہیں۔ اب امریکہ بہادر دور سمندر پار بیٹھا صرف "بھاشن پہ بھاشن" دے رہا ہے، جب کہ میزائل ان کی زمین پر گر رہے ہیں جنہوں نے یہ اڈے سجائے تھے۔ امریکی تو اپنا بوریا بستر گول کر کے اڈوں سے نکل رہے ہیں، لیکن زمین تو عربوں کی ہے، وہ اسے اٹھا کر کہاں لے جائیں؟ اسے کہتے ہیں "شامتِ اعمال"۔...

​ایران، امریکہ اور اسرائیل: نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن

تصویر
" ​ ایران، امریکہ اور اسرائیل: "نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن   " آج کل ٹی وی آن کریں تو لگتا ہے دنیا کسی ایکشن فلم کے کلائمیکس پر کھڑی ہے۔ ایک طرف ایران ہے جو میزائل اور ڈرونز ایسے بانٹ رہا ہے جیسے محلے میں شادی کے لڈو تقسیم ہو رہے ہوں۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں جن کی حالت اس وقت ایسی ہے کہ "نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن"۔ یعنی نہ جنگ جیت سکتے ہیں، نہ ہار مان سکتے ہیں۔ بس بیچ میں کھڑے ہو کر حیرانی سے ڈرونز کی گنتی کر رہے ہیں۔ ادھر ہمارے پیارے پاکستان کا حال دیکھیں۔ ہم نے شروع کیا ہے "آپریشن محافظِ البحر"۔ یعنی سمندر میں اب ہماری نیوی ایسے پہرا دے رہی ہے جیسے عید کی نماز کے وقت جوتوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔ ہماری سب میرینز اور ڈرونز سمندر میں گھوم رہے ہیں، اور ہر گزرنے والے جہاز سے پوچھ رہے ہیں: "بھائی صاحب، آپ کے پاس اسرائیل کا سفیر تو نہیں؟ اگر ہے تو برائے مہربانی اپنا راستہ بدل لیں، ورنہ پڑوسی ناراض ہو جائے گا!" تیل کی قیمتوں کا تو پوچھیں ہی مت! اب تو گاڑی کی ٹنکی فل کروانے کے لیے بندے کو پہلے کڈنی سیل (Kidney Sale) کا اشتہار دینا پڑت...

سر درد، پیناڈول اور قوم کے مفت ڈاکٹر

تصویر
 ہماری قوم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں ماہرین کی کبھی کمی نہیں رہی۔ بس ایک مسئلہ ہے کہ ان ماہرین کی ڈگریاں کسی یونیورسٹی یا میڈیکل کالج سے جاری نہیں ہوتیں بلکہ زندگی کے تجربات، سنی سنائی باتوں اور محلے کی دانش گاہوں سے عطا ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کسی شادی بیاہ یا تعزیت کی محفل میں چند منٹ خاموش بیٹھے رہیں تو کچھ دیر بعد کوئی نہ کوئی ایسا موضوع چھیڑنا پڑتا ہے جس سے گفتگو کا دروازہ کھل جائے۔ سیاست بلاشبہ ہماری قوم کا سب سے پسندیدہ موضوع ہے، مگر اس میں ایک خطرہ بھی ہے۔ آپ نے اگر کسی رہنما کی تعریف کر دی تو ممکن ہے سامنے بیٹھا شخص اسے قوم کی سب سے بڑی مصیبت قرار دے دے۔ پھر گفتگو کی گاڑی اچانک بریک مار کر بحث کے گڑھے میں جا گرتی ہے۔ اس لیے میں نے ایک عرصے کے تجربے کے بعد سیاست پر گفتگو سے دور رہنے کا اصول بنا لیا ہے۔ اس مشکل کا حل میں نے ایک ایسا مجرب نسخہ ڈھونڈ لیا ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ محفل میں فوری گفتگو شروع بھی ہو جاتی ہے اور کسی کو ناراض بھی نہیں کرتی۔ نسخہ یہ ہے کہ میں خاموشی سے بیٹھے بیٹھے اچانک ایک جملہ چھوڑ دیتا ہوں: “یار، چند دن سے رات کو سر میں بڑا درد رہتا ہے۔” ب...