عوام کی جائیداد، کارپوریٹ کی حکومت اور سوئی ہوئی پارلیمنٹ
"عوام کی جائیداد، کارپوریٹ کی حکومت اور سوئی ہوئی پارلیمنٹ " پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس ملک میں ارکانِ اسمبلی کی مراعات، تنخواہوں میں اضافے یا شاہی پروٹوکول کی بات آئی، تو ایوان میں موجود تمام نظریاتی اختلافات پلک جھپکتے میں غائب ہو گئے۔ گھنٹوں لڑنے والے سیاستدان ایک دوسرے کے گلے لگ گئے اور بل چند منٹوں میں، بغیر کسی بحث کے، متفقہ طور پر پاس کر دیا گیا۔ لیکن جب معاملہ ایک عام پاکستانی کے بنیادی حقوق، اس کی نجی املاک کے تحفظ اور اس کی جیب پر ڈاکے کا ہو، تو ہماری قومی اسمبلی ایک ایسی 'ربڑ اسٹیمپ' بن جاتی ہے جس کا کام صرف طاقتور حلقوں اور کارپوریٹ مافیا کی فائلوں پر انگوٹھا لگانا رہ جاتا ہے۔ حالیہ "پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026" اس مجرمانہ غفلت اور عوامی بیگانگی کی بدترین مثال ہے۔ قومی اسمبلی سے انتہائی خاموشی اور عجلت میں پاس کرایا جانے والا یہ بل کوئی عام قانون نہیں، بلکہ نجی ٹیلی کام کمپنیوں کو ایک عام شہری کے گھر، چھت اور جائیداد پر زبردستی قبضہ کرنے کا قانونی لائسنس ہے۔ بل کی شقیں پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اگر کوئی کمپنی آپ کے گھر ک...