" کیا مصنوعی ذہانت اگلے دس برس میں انسانیت ختم کر دے گی؟"
" کیا مصنوعی ذہانت اگلے دس برس میں انسانیت ختم کر دے گی؟" آج کل مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک خطرناک شوشہ گردش میں ہے کہ اگر یہ اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو اگلے دس برس میں پوری انسانیت کو ختم کر سکتی ہے۔ پہلی نظر میں یہ کسی سائنس فکشن فلم کا مکالمہ لگتا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خدشہ خود مصنوعی ذہانت کی دنیا کے بعض سنجیدہ سائنس دانوں کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس میں حقیقت کتنی ہے اور خوف کتنا؟ حال ہی میں مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے ایک معروف محقق ایون ہیوبنگر نے ذاتی اندازہ ظاہر کیا کہ اگلی دہائی میں انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کا خطرہ دس فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہر جیفری ہنٹن نے بھی ایسے خطرے کے امکان کو غیرمعقول قرار نہیں دیا۔ یہ باتیں نظرانداز کرنے کے قابل نہیں، کیونکہ خدشہ کسی فلمی مصنف یا واٹس ایپ یونیورسٹی کے پروفیسر نے نہیں بلکہ اسی ٹیکنالوجی کے اندر کام کرنے والے لوگوں نے ظاہر کیا ہے۔ لیکن یہاں میڈیا کی سنسنی خیزی اور سائنسی حقیقت میں فرق کرنا ضروری ہے۔ کسی سائنس دان کا دس فیصد خطرہ بتانا یہ پ...