850 روپے والا پاکستان کہاں گیا؟
"850 روپے والا پاکستان کہاں گیا؟" سوشل میڈیا کی لامتناہی بھیڑ میں، جہاں روزانہ ہزاروں تصاویر اور ویڈیوز نگاہوں سے گزرتی ہیں، گزشتہ دنوں ایک دوست نے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) لاہور کے ایک کلرک، محمد اشرف، کی 15 جون 1980ء کو جاری ہونے والی تنخواہ کی ایک زرد رسید شیئر کی۔ اس تاریخی رسید پر کل رقم درج تھی: ’’850 روپے فقط‘‘۔ اس میں 650 روپے بنیادی تنخواہ، 120 روپے مہنگائی الاؤنس، 60 روپے مکان کرایہ الاؤنس اور 20 روپے سفری بھتہ شامل تھا۔ یہ محض ایک پرانی دفتری رسید نہیں، بلکہ ہماری معاشی تاریخ کا ایک ایسا خاموش دستاویز ہے جو کئی دہائیوں پر محیط معاشی تبدیلیوں، پالیسیوں اور ترجیحات کی پوری داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ 1980ء کا یہ 850 روپیہ ایک عام سرکاری ملازم کے پورے مہینے کا سہارا بنتا تھا۔ اس سے گھر کا نظام چلتا تھا، بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے ہوتے تھے، روزمرہ ضروریاتِ زندگی باوقار انداز میں پوری کی جاتی تھیں اور اکثر کچھ نہ کچھ بچت بھی ممکن ہو جاتی تھی۔ معیشت کا اصل پیمانہ رقم کی مقدار نہیں بلکہ اس کی قوتِ خرید ہوتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ محمد اشرف کی تنخواہ 850 روپے...