لہو رنگ پچ: آئینہ وزیر کی یتیمی اور بندوق کا پہرہ


 


چند دن پہلے سوشل میڈیا پر وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ایک چھوٹی بچی آئینہ وزیر کی ایک ویڈیو وائرل ہوگئی۔ اس ویڈیو میں وہ نہایت مہارت سے تیز باؤلنگ کرتی ہوئی نظر آئی۔ اس کے باؤلنگ کا انداز اتنا شاندار تھا کہ دیکھنے والوں کی زبان سے بے اختیار واہ واہ کی آوازیں نکلیں۔ ویڈیو اتنی وائرل ہوئی کہ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے آئینہ وزیر کو پشاور زلمی کے ویمن ونگ میں لینے اور اس کے تمام تعلیمی اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا۔ اسی دوران آئینہ وزیر کی ایک اور ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی جس میں وہ حکومت سے وزیرستان میں تعلیم کی ترقی کے لیے درخواست کر رہی تھی۔ اس ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے لانے والا نوجوان زعفران وزیر تھا، جس کی اپنی ویڈیو بھی سامنے آئی۔

مگر اگلے ہی دن خبر آئی کہ علاقے میں موجود دہشت گردوں نے زعفران وزیر کو اغوا کر لیا ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ ایک بچی کی ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا "خلافِ اسلام" ہے۔ اگرچہ مقامی عمائدین اور جرگے کی کوششوں سے زعفران وزیر رہا تو ہو گئے، لیکن ان سے زبردستی ایک اعترافی ویڈیو ریکارڈ کروائی گئی جس میں وہ نہایت کرب اور خوف کے عالم میں یہ کہہ رہے ہیں کہ آئینہ وزیر کی ویڈیو بنانا اور پوسٹ کرنا ایک غلطی تھی جس پر وہ معافی مانگتے ہیں۔

یہ محض ایک معافی نامہ نہیں تھا، بلکہ اس معصومیت کا قتلِ عمد تھا جو وزیرستان کے سنگلاخ راستوں پر ایک خواب بن کر ابھری تھی۔ آئینہ وزیر، جس کے ننھے قدم جب زمین پر پڑتے ہیں تو وہ صرف ایک گیند پھینکنے کے لیے نہیں دوڑتی، بلکہ وہ اس تقدیر کو چیلنج کرنے آتی ہے جو اس خطے کی بیٹیوں کے ماتھے پر دہائیوں سے لکھ دی گئی ہے۔ اس کی حیثیت ایک ایسی نوخیز جنگجو کی ہے جس کا سامنا کسی روایتی بلے باز سے نہیں، بلکہ اس نظامِ جبر سے ہے جو اسے پنپنے سے پہلے ہی مسل دینا چاہتا ہے۔

آئینہ وزیر کا رن اپ دراصل ان زنجیروں کو توڑنے کی ایک علامتی کوشش تھی۔ جب ایک آٹھ سالہ یتیم بچی ہاتھ میں گیند تھامے دوڑتی ہے، تو وہ ان تمام فرسودہ روایات کے خلاف ایک اعلانِ جنگ کرتی ہے جو عورت کو صرف محرومی اور خاموشی کا استعارہ سمجھتی ہیں۔ زعفران وزیر جیسے نوجوانوں نے جب اس آواز کو ڈیجیٹل دنیا کے ذریعے وسعت دی، تو ان قوتوں کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا جو معاشرے کو تاریک دور میں رکھنا چاہتے ہیں۔ زعفران وزیر کا اغوا اور تشدد اس خوف کا اظہار ہے جو انتہا پسند سوچ کو ایک چھوٹی سی بچی کی مسکراہٹ اور اس کی کامیابی سے لاحق ہے۔

کتنا بڑا تضاد ہے کہ جس دین نے یتیم کی کفالت کا حکم دیا اور بیٹی کو اللہ کی رحمت قرار دیا، اسی کا نام لے کر ایک یتیم بچی سے اس کا کھیل اور اس کی خوشی چھینی جا رہی ہے۔ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک طرف ہم ملک میں "خواتین کی بااختیاری" کے نعرے لگاتے ہیں اور دوسری طرف جنوبی وزیرستان میں ایک بچی کے کھیل کو "بے حیائی" سے جوڑ دیا جاتا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ آئینہ وزیر کی باؤلنگ سے کوئی عقیدہ خطرے میں نہیں پڑا تھا، بلکہ ان لوگوں کی اجارہ داری خطرے میں پڑ گئی تھی جو انسانوں کو صرف خوف کے سائے میں ہانکنا چاہتے ہیں۔ زعفران وزیر پر ہونے والا تشدد اور ان سے لیا گیا زبردستی کا بیان دراصل ہر اس آواز پر تشدد ہے جو تبدیلی کی بات کرتی ہے۔ یہ جبر اب ان تمام خوابوں کے چہرے پر سیاہی مل رہا ہے جو وزیرستان کی دوسری بچیوں نے آئینہ کو دیکھ کر اپنی آنکھوں میں سجائے ہوں گے۔

آئینہ وزیر کا معاملہ ریاستِ پاکستان کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ ایک طرف وہ آئینہ ہے جو یتیمی کے باوجود روشن مستقبل کی علامت بن کر ابھری، اور دوسری طرف وہ تاریک سوچ ہے جو اسے دوبارہ غاروں کے دور میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ اگر ریاست آج اس یتیم بچی اور اس کے ہمدردوں کو تحفظ نہیں دے سکتی، تو ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ بندوق کے زور پر لکھوایا گیا وہ معافی نامہ دراصل ہماری اخلاقی شکست کا اعتراف ہے۔ کیا ہماری سیکورٹی ایجنسیاں اور مقامی انتظامیہ اتنی کمزور ہے کہ چند مٹھی بھر عناصر ایک پورے علاقے کے ٹیلنٹ کو اغوا کر کے خاموش کر دیں؟ یہ سوال اب ہر پاکستانی کے ذہن میں اٹھ رہا ہے۔

آئینہ وزیر کی یہ کہانی ہمیں سوات کی ان وادیوں میں لے جاتی ہے جہاں برسوں پہلے ملالہ یوسفزئی نے قلم اٹھانے کی جرات کی تھی اور اسے اس کی قیمت جلاوطنی کی صورت میں چکانی پڑی۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ سوات سے وزیرستان تک کا فاصلہ ہم نے لہو کے سمندر پار کر کے طے کیا، مگر سوچ آج بھی وہیں کھڑی ہے۔ ملالہ کو تعلیم کی بات کرنے پر گولیوں کا تحفہ دیا گیا اور اسے اپنا دیس چھوڑنا پڑا۔ آج آئینہ وزیر کے ساتھ جو ہو رہا ہے، وہ اسی تلخ تاریخ کا تسلسل ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ملالہ کے پاس قلم تھا اور آئینہ کے پاس گیند؛ مگر ان کے مقابل کھڑی سوچ آج بھی وہی ہے جو روشنی کے ہر استعارے سے ڈرتی ہے۔ کیا ہم ہر اس بیٹی کو جلا وطن یا خاموش کر دیں گے جو اپنے خوابوں کی تعبیر مانگے گی؟

وزیرستان کے سماجی ڈھانچے میں جہاں یتیم کو "بے آسرا" سمجھا جاتا ہے، آئینہ نے ثابت کیا کہ ارادہ مضبوط ہو تو تنہائی بھی طاقت بن جاتی ہے۔ زعفران وزیر کی معافی نامے کے پیچھے چھپا کرب اس پورے خطے کی وہ سچائی ہے جسے ہم اکثر قومی میڈیا پر جگہ نہیں دیتے۔ جب ایک نوجوان کو اس کے نیک عمل پر ذلیل کیا جاتا ہے، تو معاشرے میں خیر کا جذبہ دم توڑنے لگتا ہے۔

اگر آئینہ وزیر کے ہاتھ سے گیند چھین لی گئی ہے، تو یاد رکھیں کہ ہم نے ایک مستقبل کی اسٹار کو نہیں، بلکہ ایک معصوم خواب کو قتل کیا ہے۔ آئینہ کی خاموشی اس وقت ایک ایٹمی دھماکے سے زیادہ طاقتور ہے، کیونکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آئینہ وزیر کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کرے بلکہ زعفران وزیر جیسے حوصلہ مند نوجوانوں کی پیٹھ تھپتھپائے تاکہ وزیرستان کی مٹی سے بارود کی بو ختم ہو اور پھول کھل سکیں۔ اگر وہ بچی دوبارہ میدان میں نہیں آتی، تو سمجھ لیں کہ ہم نے اپنے مستقبل کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ آئینہ وزیر کے ہاتھ میں گیند کا ہونا ہی اس کی جیت ہے، اور اس کا چھین لیا جانا ہماری اجتماعی موت کا پیش خیمہ ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم لفظوں سے باہر نکلیں اور عملی طور پر ثابت کریں کہ یہ ریاست اپنی بیٹیوں کے خوابوں کی محافظ ہے، ان کے قاتلوں کی نہیں۔


ندیم فاروقی 



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں