سقراط — ضمیر کی عدالت اور سوال کی حرمت کا علمبردار


 سقراط — ضمیر کی عدالت اور سوال کی حرمت کا علمبردار

​تعارف: ایتھنز کا بازار اور ایک بے چین روح
​انسانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو کسی خاص عہد میں جنم تو لیتی ہیں، مگر ان کی فکر زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ابدیت اختیار کر لیتی ہے۔ قدیم یونان کی گلیوں سے اٹھنے والی ایک ایسی ہی آواز نے شہنشاہوں کے درباروں کی بجائے انسانی ذہنوں میں وہ ارتعاش پیدا کیا جس کی گونج آج ڈھائی ہزار سال بعد بھی سنائی دیتی ہے۔ وہ آواز سقراط کی تھی۔
​سقراط کوئی روایتی فلسفی نہیں تھا جو بند کمروں میں بیٹھ کر کائنات کے اسرار و رموز پر پیچیدہ نظریات ترتیب دیتا۔ وہ ایک بیدار مغز انسان تھا جس نے ایتھنز کے پررونق بازاروں میں کھڑے ہو کر عام لوگوں سے وہ سوالات کئے جن کا جواب دینا مصلحت پسند معاشرے اور اقتدار کے ایوانوں کے لیے ہمیشہ دشوار رہا۔ اس کا حلیہ سادہ، پاؤں ننگے اور ہاتھ خالی تھے، مگر اس کے پاس "سوال" کا وہ ہتھیار تھا جس نے صدیوں سے رائج جہالت اور توہمات کے قلعوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
​سقراط کا سب سے بڑا کارنامہ 'طریقہِ سوال'  کی ایجاد ہے۔ وہ کسی کو علم کی گھٹی نہیں پلاتا تھا، بلکہ اس کا ماننا تھا کہ سچائی ہر انسان کے اندر موجود ہوتی ہے، ایک استاد کا کام صرف اسے باہر نکالنا ہے۔ وہ خود کو "علم کی دائی"  کہتا تھا۔
​پاکستانی معاشرے میں، جہاں ہم اکثر نسل در نسل منتقل ہونے والے عقائد، سیاسی نظریات اور سماجی ڈھانچوں کو بغیر سوچی سمجھے ایک مقدس امانت سمجھ کر گلے لگا لیتے ہیں، سقراط کا یہ طریقہ ایک فکری انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں بحث و مباحثہ تو گلی کوچوں سے لے کر ٹاک شوز تک ہر جگہ موجود ہے، لیکن "مکالمہ" مفقود ہے۔ ہم اپنی بات منوانے کے لیے بولتے ہیں، مگر سچائی تک پہنچنے کے لیے سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ سقراط ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ علم کا پہلا زینہ اپنی جہالت کا اعتراف ہے۔ جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ "ہم نہیں جانتے"، تب تک ہم کچھ نیا سیکھنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ یہی وہ مقام ہے جو ہمیں انا  کے بت توڑ کر ایک بہتر انسان بننے میں مدد دیتا ہے۔
​سقراط کا وہ شہرہ آفاق قول، "ایک ایسی زندگی جس کا تجزیہ نہ کیا گیا ہو، جینے کے لائق نہیں"، دراصل ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ یہ قول ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے سماجی رویوں، سیاسی وابستگیوں اور مذہبی تشریحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔
​پاکستان کے موجودہ تناظر میں دیکھیں تو کیا ہم واقعی اپنی زندگیوں کا تجزیہ کر رہے ہیں؟ کیا ہماری سیاسی وفاداریاں ٹھوس دلائل پر مبنی ہیں یا محض خاندانی عصبیت اور جذباتی نعروں کا شاخسانہ؟ کیا ہماری مذہبی فکر میں تحقیق کا عنصر شامل ہے یا ہم صرف موروثی روایات کے اسیر ہیں؟ سقراط ہمیں جھنجھوڑ کر کہتا ہے کہ اگر تم نے اپنے خیالات کو عقل کی کسوٹی پر نہیں پرکھا، تو تم محض ایک بھیڑ چال کا حصہ ہو، ایک آزاد انسان نہیں ہو۔
​پاکستان کے تعلیمی نظام میں "رٹا" اور "اندھی تقلید" کا جو کینسر سرایت کر چکا ہے، وہاں سقراط کی شخصیت ایک مسیحا کے طور پر ابھرتی ہے۔ وہ طالب علم کو تیار شدہ جوابات نہیں دیتا، بلکہ اسے سوال کرنے کے فن سے روشناس کراتا ہے۔
​ہمارے ہاں جب کوئی بچہ یا نوجوان سوال کرتا ہے، تو اسے اکثر "گستاخی" یا "بے ادبی" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اساتذہ اور والدین اسے خاموش کرا دیتے ہیں۔ لیکن سقراط ہمیں بتاتا ہے کہ سوال ہی وہ واحد اوزار ہے جو وہم اور جہالت کے اندھیروں کو چاک کر سکتا ہے۔ اس نے ایتھنز کے نوجوانوں کو یہ شعور دیا کہ وہ ریاست کے مقرر کردہ دیوتاؤں اور روایتی اقدار کو اندھا دھند تسلیم نہ کریں۔ آج کے پاکستان میں بھی ہمیں ایسے اساتذہ اور ایسے نظام کی ضرورت ہے جو "حافظے" کی بجائے "سوچ" کو جلا بخشے۔
​سقراط نے ریاست کو ایک سست اور تن آسان گھوڑے سے تشبیہ دی اور خود کو اس پر بیٹھا ایک "ڈانس مچھر" (Gadfly) قرار دیا، جو اسے ڈنگ مار کر بیدار رکھتا تھا۔ یہ استعارہ آج کے پاکستان کے لیے بھی اتنا ہی سچا ہے جتنا ڈھائی ہزار سال پہلے ایتھنز کے لیے تھا۔
​ہر معاشرے کو ایسے "مچھروں" کی ضرورت ہوتی ہے جو سماجی جمود کو توڑیں، جو حکمرانوں کو ان کی غلطیوں کا احساس دلائیں اور جو عوام کو ان کے حقوق کے لیے بیدار کریں۔ جب ہم تنقید کو ملک دشمنی یا غداری قرار دے کر دباتے ہیں، تو ہم دراصل اس گھوڑے کو ابدی نیند سلا دیتے ہیں جو ترقی کی دوڑ میں شامل ہو سکتا تھا۔ سقراط ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک سچا محبِ وطن وہ نہیں جو ہر حال میں "جی حضوری" کرے، بلکہ وہ ہے جو ریاست کی اصلاح کے لیے کڑوی سچائی کا زہر پی کر بھی حق بات کہے۔
​سقراط کی زندگی کا سب سے المناک مگر سب سے طاقتور پہلو اس کی موت ہے۔ جب اس پر "نوجوانوں کو بگاڑنے" اور "دیوتاؤں کی توہین" کے جھوٹے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا، تو اس کے پاس جان بچانے کے کئی راستے تھے۔ وہ عدالت سے معافی مانگ سکتا تھا، وہ ایتھنز سے فرار ہو سکتا تھا، مگر اس نے "ضمیر کی عدالت" کو ترجیح دی۔
​اس نے عدالت میں جو تقریر کی (جسے افلاطون نے "Apology" میں محفوظ کیا)، وہ انسانی وقار کا منشور ہے۔ اس نے کہا: "میں خدا کی اطاعت کروں گا نہ کہ تمہاری، اور جب تک مجھ میں دم ہے، فلسفے کی تعلیم اور حقیقت کی تلاش سے باز نہیں آؤں گا"۔ یہ وہی جذبہ ہے جو ہمیں برصغیر کے ان عظیم لوگوں میں ملتا ہے جنہوں نے مصلحت کے بجائے اصول کو چنا۔ سقراط کی موت اس کے فلسفے کی شکست نہیں بلکہ اس کی معراج تھی۔ اس نے ثابت کر دیا کہ سچ بولنے والے کو قتل تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی آواز کو دفن نہیں کیا جا سکتا۔
​سقراط کا نعرہ تھا: "اپنے آپ کو پہچانو" ۔
​سقراط کا "اندرونی ضمیر" وہ آواز تھی جو اسے برائی سے روکتی تھی۔ یہی وہ "خودی" ہے جس کا ذکر علامہ اقبال نے کیا ہے۔ سقراط ہمیں کسی دور دراز کی جنت کے خواب نہیں دکھاتا، بلکہ اسی زمین پر، اسی جسم کے ساتھ، ایک باوقار، سچی اور اخلاقی زندگی گزارنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ اصل طاقت اقتدار یا دولت میں نہیں، بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے اور حقیقتِ حقہ کو پانے میں ہے۔
​پاکستان میں فلسفے اور منطق کی ترویج کے لیے سقراط سے بہتر کوئی اور بنیاد نہیں ہو سکتی۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ فلسفہ کوئی خشک یا مشکل کتابی علم نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی گزارنے کا ایک سلیقہ ہے—ایک ایسی ہمت ہے جو انسان کو جھوٹ کے پہاڑوں کے سامنے تنہا کھڑا کر دیتی ہے۔
​آج بھی جب کوئی صحافی سچ لکھنے کی پاداش میں پابندِ سلاسل ہوتا ہے، جب کوئی طالب علم کلاس روم میں رائج نظریات کو چیلنج کرتا ہے، اور جب کوئی شہری اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، تو اس میں سقراط کی روح بول رہی ہوتی ہے۔ سقراط مرا نہیں ہے؛ وہ ہر اس جگہ زندہ ہے جہاں سوال زندہ ہے، جہاں ضمیر بیدار ہے اور جہاں انسان سچائی کی خاطر ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔

ندیم احمد فاروقی

-----------------------------

مزید مطالعہ کے لیے مآخذ
سقراط کی زندگی اور فکر کے بارے میں براہِ راست تحریری مواد موجود نہیں، اس کی تعلیمات ہمیں اس کے شاگردوں اور ہم عصروں کے ذریعے ملتی ہیں۔ اس سلسلے میں افلاطون کی تصانیف Apology اور Crito بنیادی مآخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، جہاں سقراط کے مقدمے، اس کے دفاع اور اخلاقی موقف کو محفوظ کیا گیا ہے۔ زینوفون کی کتاب Memorabilia سقراط کی عملی زندگی اور اس کے اخلاقی اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔
جدید دور میں برٹرنڈ رسل کی شہرۂ آفاق کتاب History of Western Philosophy سقراط کے فلسفے کو سادہ اور تنقیدی انداز میں سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں