انتون چیخوف اور انسانی وجود کی سادہ حقیقت


 انتون چیخوف اور انسانی وجود کی سادہ حقیقت

​انتون چیخوف (1860 - 1904) روس کے وہ مفکر ہیں جنہوں نے فلسفے کو محلات اور بلند بانگ دعوؤں سے نکال کر ایک عام انسان کے ڈرائنگ روم اور کچن تک پہنچا دیا۔ ان کا فلسفہ کسی بڑے "ازم"  کا پابند نہیں، بلکہ وہ زندگی کو ویسا ہی دیکھتے ہیں جیسی وہ ہے. ادھوری، تھوڑی سی مضحکہ خیز اور تھوڑی سی اداس۔ چیخوف پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے اور ان کا قول تھا کہ "میڈیسن میری قانونی بیوی ہے اور ادب میری محبوبہ"۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فلسفے میں ایک ڈاکٹر کی سی بے رحمانہ سچائی اور ایک ادیب کی سی ہمدردی بیک وقت موجود ہے۔
وہ روسی فکر کے ان خاموش فلسفیوں میں سے ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کی معنویت پر وہ کچھ لکھ دیا جو بڑے بڑے فلسفی ضخیم کتابوں میں نہ لکھ سکے۔
​چیخوف کا فلسفہ دوستوفسکی کی طرح پرجوش نہیں اور نہ ہی ٹالسٹائی کی طرح تبلیغی ہے، بلکہ ان کا فلسفہ خردبینی ہے۔ وہ انسان کو اس کی تمام تر کمزوریوں، بوریت اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

​چیخوف کے فلسفے کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ زندگی میں اکثر کچھ بھی بڑا نہیں ہوتا۔  ان کے کردار اکثر کسی بڑی تبدیلی کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ جیسے ان کے ڈرامے 'تین بہنیں' میں وہ ماسکو جانے کا خواب دیکھتی رہتی ہیں۔  لیکن وہ تبدیلی کبھی نہیں آتی۔ چیخوف ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ انسانی المیہ یہ نہیں ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی بڑا حادثہ پیش آ جائے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ انسان اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات اور روزمرہ کی بیہودہ مصروفیات میں اپنی زندگی ضائع کر دیتا ہے۔ یہ وجودیت کا وہ پہلو ہے جسے بعد میں سیموئل بیکٹ جیسے فلسفیوں نے اپنایا۔
​ٹالسٹائی کی طرح چیخوف بھی کام کی اہمیت پر یقین رکھتے تھے، لیکن ان کا انداز مختلف تھا۔ وہ کسی مذہبی جذبے کے تحت نہیں بلکہ ایک سماجی ضرورت کے تحت کام کرنے کے قائل تھے۔ ان کے کردار اکثر کہتے ہیں کہ "ہمیں کام کرنا چاہیے، تاکہ آنے والی نسلیں بہتر زندگی گزار سکیں"۔ چیخوف کا فلسفہ خاموش خدمت کا فلسفہ ہے۔ انہوں نے خود اپنی زندگی میں ہزاروں غریب مریضوں کا مفت علاج کیا، اسکول بنوائے اور قیدیوں کے حالاتِ زندگی بہتر کرنے کے لیے جزیرہ سخالین کا طویل اور کٹھن سفر کیا۔ وہ باتوں کے بجائے عمل کے ذریعے دنیا کو بدلنے کے حامی تھے۔
​چیخوف کا فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کو مثالی بنانے کے بجائے اسے ویسا ہی قبول کیا جائے جیسا وہ ہے۔ وہ اپنے کرداروں کو نہ تو مکمل ہیرو بناتے ہیں اور نہ ہی مکمل ولن۔ ان کے نزدیک ہر انسان اپنی جبلتوں، خوف اور سماجی دباؤ کا شکار ہے۔ ان کا مشہور جملہ ہے: "انسان تبھی بہتر بنے گا جب آپ اسے دکھائیں گے کہ وہ اصل میں کیا ہے"۔ ان کی فکر ہمیں دوسروں پر جج بن کر فیصلے صادر کرنے کے بجائے ان کی مجبوریوں کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔

​چونکہ چیخوف خود تپِ دق کے مریض تھے اور موت کو قریب سے دیکھ رہے تھے، اس لیے ان کے فلسفے میں  وقت کی قدر کا گہرا احساس ملتا ہے۔ وہ زندگی کی ناپائیداری کو غم کے بجائے ایک خاموش قبولیت کے ساتھ دیکھتے تھے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ چونکہ زندگی مختصر ہے، اس لیے اسے لایعنی بحثوں اور نفرتوں میں ضائع کرنے کے بجائے سادگی اور سچائی سے گزارنا چاہیے۔
​چیخوف کا فلسفہ ہمیں بلند آواز میں تقریر کرنا نہیں سکھاتا، بلکہ یہ ہمیں خاموشی سے اپنے حصے کا دیا جلانا سکھاتا ہے۔ ان کی تحریریں ہمیں بتاتی ہیں کہ سچی دانائی اپنی حدود کو پہچاننے اور زندگی کے ادھورے پن کے ساتھ جینا سیکھنے میں ہے۔ پاکستان کے سماجی ڈھانچے میں، جہاں ہم اکثر بڑے بڑے نعروں کے پیچھے چھپ کر اپنی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں بھول جاتے ہیں، چیخوف کی فکر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل تبدیلی ہمارے اپنے عمل اور روزمرہ کے رویوں سے آتی ہے۔
------

ندیم احمد فاروقی

حوالہ جات (Anton Chekhov)
Chekhov, Anton. The Cherry Orchard. 1904.
Chekhov, Anton. Three Sisters. 1901.
Chekhov, Anton. Uncle Vanya. 1899.
Chekhov, Anton. The Seagull. 1896.
Chekhov, Anton. Selected Short Stories.
Rayfield, Donald. Anton Chekhov: A Life. Northwestern University Press.
Wood, James. Chekhov and the Modern Short Story.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں