سانپ اور نیولے کی لڑائی کا جدید چورن
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ "مداری" برصغیر کی تہذیب کا وہ لافانی کردار ہے جس نے کبھی ہار نہیں مانی۔ قدیم زمانے میں مداری وہ شخص ہوتا تھا جس کے پاس ایک میلا سا تھیلا، ایک پٹاری اور لفظوں کا ایسا جادو ہوتا تھا کہ وہ تپتی دوپہر میں مجمعے کو گھنٹوں ایک پاؤں پر کھڑا رکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کی تعریف سادہ تھی، وہ شخص جو "ہونے والا ہے" کی امید بیچ کر "جو ہے" اسے لوٹ لے۔ وہ زمین پر دری بچھاتا، اپنی بین بجاتا اور دعویٰ کرتا کہ آج اس کی پٹاری سے نکلنے والا ناگ اس نیولے کے پرخچے اڑا دے گا جو اس کے دوسرے تھیلے میں بند ہے۔ لوگ کام کاج چھوڑ کر رک جاتے، سانسیں روک لیتے، کیونکہ انسانی جبلت کو تماشے اور خون خرابے سے پرانی رغبت ہے۔ مداری جانتا تھا کہ جب تک پٹاری بند ہے، اس کی اہمیت بادشاہ سے کم نہیں۔ وہ سانپ نکالنے سے پہلے ہربل ادویات، گنجے پن کے تیل اور "مردانہ کمزوری" کی دوائیں بیچتا۔ مجمع اس اشتیاق میں کہ ابھی "خونی معرکہ" شروع ہوگا، وہ بیکار قسم کی دوائیاں مہنگے داموں خرید لیتا۔ آخر میں جب مداری کی جیب گرم ہو جاتی، تو وہ کمالِ ہوشیاری سے سانپ کو تھوڑا سا لہراتا، نیولے کو ڈراتا اور یہ کہہ کر دری سمیٹ لیتا کہ "سانپ کو نظر لگ گئی ہے، باقی لڑائی اگلے جمعے اسی چوک میں ہوگی"۔ مجمع خالی ہاتھ گھر لوٹتا، مگر مداری کا جادو ایسا تھا کہ وہی لوگ اگلے جمعے پھر وہاں موجود ہوتے۔
آج کا دور "ڈیجیٹل مداریوں" کا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب وہ چوک میں دری نہیں بچھاتے بلکہ آٹھ بجتے ہی ٹی وی اسکرینوں پر نمودار ہوتے ہیں۔ ان کے سوٹ بوٹ اور چمکتی ہوئی ٹائیاں دراصل وہی مداری والا رنگین کُرتا ہے، اور ان کا مائیک وہ "بین" ہے جسے بجا کر وہ پوری قوم کو ہیپناٹائز کر لیتے ہیں۔ ان کا تھیلا اب "بریکنگ نیوز" کہلاتا ہے اور پٹاری کا نام "باوثوق ذرائع" رکھ دیا گیا ہے۔ ہر اینکر اپنی پٹاری تھپتھپا کر چیختا ہے: "ناظرین! دل تھام کر بیٹھیے، آج رات پٹاری کھلے گی اور وہ فائل باہر آئے گی جس کے بعد حکومت کا نیولا اپوزیشن کے ناگ کو کچا چبا جائے گا!" عوام بیچارے وہی قدیم تماشائی ہیں، جو دفتری تھکن اور بجلی کے بلوں کا دکھ بھول کر اسکرین سے آنکھیں چپکا لیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ آج واقعی کوئی فیصلہ کن معرکہ ہوگا، آج سچ کی جیت ہوگی اور جھوٹ کا سر کچلا جائے گا۔ مگر تماشہ شروع ہوتے ہی "مداری" اپنا چورن نکال لاتا ہے۔ وہ کہتا ہے: "اس ہولناک انکشاف سے پہلے لیتے ہیں ایک مختصر سا وقفہ"۔ اور اس وقفے میں وہ ہمیں وہی قدیم "چورن" بیچتے ہیں۔ کبھی واشنگ پاؤڈر کی صورت میں، کبھی ہانڈی کے مسالوں کی شکل میں، اور کبھی کسی ایسی ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹوں کے روپ میں جہاں ابھی زمین کا نشان تک نہیں ہوتا۔
یہ سفر کی وہ دھول ہے جو دہائیوں سے ہماری آنکھوں میں جھونکی جا رہی ہے۔ مداری جانتا ہے کہ اگر اس نے واقعی سانپ اور نیولے کو لڑا دیا اور ایک کا قصہ تمام کر دیا، تو اس کی دکان بند ہو جائے گی۔ اگر سچ مچ کی "فائل" کھل گئی اور مجرم جیل چلے گئے، تو اگلے دن وہ پروگرام کس پر کرے گا؟ اس لیے وہ بڑی مہارت سے دونوں کو زندہ رکھتا ہے۔ وہ سانپ (حکومت) کو نیولے (اپوزیشن) سے ڈراتا ہے اور نیولے کو سانپ کی پھنکار سنا کر مجمع اکٹھا رکھتا ہے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ یہ سانپ اور نیولے پروگرام ختم ہونے کے بعد اسی مداری کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے ہیں اور ہنستے ہیں کہ دیکھو کیسے بے وقوفوں کو ہم نے ایک گھنٹہ مصروف رکھا۔ یہ ایک ایسا لایعنی تماشہ ہے جس میں "اگلے بہتر گھنٹے اہم ہیں" کا جملہ اس مداری کی اس بات جیسا ہے کہ "سانپ ابھی غصے میں آ رہا ہے"۔ ہم دہائیوں سے انہی بہتر گھنٹوں کے اسیر ہیں، مگر وہ گھنٹے ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ ہر اینکر اپنی پٹاری میں ایک "دھماکہ خیز" سچ چھپائے بیٹھا ہے، مگر وہ سچ کبھی باہر نہیں آتا، صرف اس کی ریٹنگ کا گراف اوپر جاتا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ہم اس جدید مداری کو "دانشور" اور "تجزیہ نگار" کا لقب دیتے ہیں، حالانکہ اس کا کام صرف اشتعال پیدا کرنا اور اپنا "چورن" بیچنا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ملک ڈوب رہا ہے، مگر خود لاکھوں روپے کی تنخواہ لے کر اگلے ہی لمحے کسی پرتعیش گاڑی میں نکل جاتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ کل انقلاب آئے گا، مگر خود اسٹیٹس کو کا سب سے بڑا حصہ دار ہوتا ہے۔ کیا یہ مضحکہ خیز نہیں کہ ہم روزانہ اسی مداری کے پاس جاتے ہیں یہ امید لے کر کہ شاید آج وہ ہمیں کوئی ایسی دوا دے دے گا جس سے ہمارے سماجی اور معاشی زخم بھر جائیں گے؟ مگر وہ ہمیں صرف ایک نیا "خوف" یا ایک نئی "نفرت" دے کر رخصت کر دیتا ہے۔ اس کی پٹاری میں سچ نہیں، صرف "سراب" ہیں۔ وہ الفاظ کا جادوگر ہے جو ہمیں یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہی حقیقت ہے۔ حالانکہ حقیقت وہ ہے جو اسکرین کے پیچھے چھپائی گئی ہے۔
ان مداریوں کا مقصد کبھی تماشہ دکھانا نہیں، بلکہ تماشے کے نام پر اپنی جیب بھرنا ہوتا ہے۔ وہ جو سانپ اور نیولے کی لڑائی کا وعدہ ہے، وہ محض ایک جھانسا ہے تاکہ آپ اس کا "چورن " خرید سکیں۔ جس دن ہم نے اپنی آنکھوں سے پٹاری کے اندر جھانکنے کی کوشش کی، اس دن معلوم ہوجائیگا کہ پٹاری خالی ہے۔ اس میں کوئی سانپ نہیں، صرف کچھ پرانے اخبارات کے تراشے اور مداری کی اپنی چالاکیاں بھری ہوئی ہیں۔ لیکن شاید ہم خود بھی سچ دیکھنا نہیں چاہتے۔ ہمیں اس مصنوعی ہیجان، اس چیخ و پکار اور اس جھوٹی لڑائی کی عادت پڑ چکی ہے۔ ہم اس مداری کے اتنے ہی محتاج ہو چکے ہیں جتنا وہ ہماری ریٹنگ کا محتاج ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جہاں دونوں فریق خوش ہیں۔ مداری سمجھتا ہے کہ اس نے مجمع لوٹ لیا، اور مجمع سمجھتا ہے کہ اسے "اندر کی خبر" مل گئی۔ مگر حقیقت وہی دھول ہے جو تماشہ ختم ہونے کے بعد چوک میں باقی رہ جاتی ہے اور جسے ہوا اڑا کر لے جاتی ہے۔ برصغیر کا یہ کلچر اب ایک بیماری میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں "چورن" بک رہا ہے اور قوم کا وقت اس امید میں ضائع ہو رہا ہے کہ شاید کل واقعی سانپ اور نیولے کی لڑائی ہو۔ مگر یاد رکھیے، مداری کبھی اپنا اصل اثاثہ (سانپ اور نیولا) ضائع نہیں کرتا، وہ صرف آپ کا "آج" ضائع کرتا ہے۔
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں