لیکس بطور سیاسی و اقتصادی ہتھیار


گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا نے ایسے انکشافات دیکھے ہیں جنہوں نے عالمی سیاست اور معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ محض صحافتی جرات کے مظاہر نہیں تھے بلکہ ڈیجیٹل عہد میں معلومات کی بڑھتی ہوئی طاقت کی علامت تھے۔ ہر لیک، ہر خفیہ فائل اور ہر افشا شدہ دستاویز اپنے اندر سیاسی اور اقتصادی اثرات سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ معلومات سامنے آئیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کب، کس کے ذریعے اور کس عالمی تناظر میں منظرِ عام پر لائی گئیں۔
2010 میں جولین اسانج کی تنظیم وکی لیکس نے امریکی سفارتی کیبلز اور عراق و افغانستان جنگ سے متعلق خفیہ رپورٹس جاری کیں۔ اس اقدام نے نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا بلکہ سفارتکاری کی دنیا میں اعتماد کے بحران کو بھی جنم دیا۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ معلومات کا اجرا محض خبر نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست میں مداخلت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
2013 میں ایڈورڈ سنوڈن نے National Security Agency کے نگرانی پروگراموں کو بے نقاب کیا۔ اس انکشاف نے امریکہ سمیت یورپ میں بھی سیاسی ردعمل پیدا کیا۔ جرمنی میں اس وقت کی چانسلر انگیلا میرکل کے فون کی نگرانی کی خبر سامنے آنے پر برلن اور واشنگٹن کے تعلقات میں کشیدگی آئی۔ یوں ایک لیک نے اتحادی ممالک کے درمیان بھی بداعتمادی کو جنم دیا اور ڈیجیٹل خودمختاری کی بحث کو تقویت دی۔
2016 میں پانامہ پیپرز نے عالمی مالیاتی ڈھانچے کی پرتیں کھول دیں۔ پاکستان میں اس کے اثرات سب سے نمایاں رہے۔ اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے آف شور اثاثوں کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔ طویل عدالتی کارروائی کے بعد 28 جولائی 2017 کو سپریم  کورٹ آف پاکستان نے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔ یوں ایک عالمی مالیاتی لیک نے براہِ راست ایک منتخب حکومت کے خاتمے میں کردار ادا کیا۔ اسی طرح آئس لینڈ کے وزیر اعظم سگمنڈر ڈیوڈ گنلاگسن کو بھی استعفیٰ دینا پڑا، جبکہ دیگر ممالک میں سیاسی دباؤ اور تحقیقات کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ مالیاتی لیکس کس طرح داخلی سیاست کو متاثر کر سکتے ہیں۔
پاناما کے بعد 2021 میں “پنڈورا پیپرز” نے بھی متعدد عالمی رہنماؤں اور کاروباری شخصیات کے خفیہ مالیاتی ڈھانچوں کو بے نقاب کیا۔ جس میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے قریبی رفقاء کے نام بھی آئے۔ جس سے ان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ دیگر اہم پاکستانی شخصیات کے نام بھی آئے۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ آف شور نظام عالمی اشرافیہ کے لیے ایک منظم ڈھانچہ بن چکا ہے، جسے وقتاً فوقتاً لیکس کے ذریعے چیلنج کیا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں ایپسٹین سے متعلق عدالتی دستاویزات اور فائلوں کی جزوی اشاعت نے امریکی اور یورپی طاقتور حلقوں کو ایک بار پھر کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ ان دستاویزات نے اخلاقی احتساب، سیاسی شفافیت اور اشرافیہ کے باہمی روابط پر سوالات اٹھائے۔ اگرچہ بہت سی معلومات حذف شدہ تھیں، مگر اس کے باوجود اس معاملے نے طاقت کے ایوانوں میں اضطراب پیدا کیا۔
ان بڑے لیکس کے پس منظر میں مختلف عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات یہ اندرونی اختلافات، ادارہ جاتی بے چینی یا نظریاتی اختلاف کا نتیجہ ہوتے ہیں، جیسا کہ سنوڈن کے معاملے میں سامنے آیا۔ بعض صورتوں میں تحقیقاتی صحافت کے عالمی نیٹ ورکس پیچیدہ مالیاتی ڈھانچوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ جبکہ کچھ واقعات میں ریاستی مفادات، جغرافیائی سیاست یا طاقت کے توازن کی کشمکش بھی پس منظر میں موجود ہو سکتی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں معلومات کا ذخیرہ بے پناہ ہے، اس لیے کسی بھی مرحلے پر کسی بھی دستاویز کا افشا ہونا محض اتفاق نہیں رہتا بلکہ طاقت کے بڑے کھیل کا حصہ بن سکتا ہے، چاہے وہ دانستہ ہو یا غیر دانستہ۔
ان لیکس کے نتائج بھی کثیرالجہتی ہوتے ہیں۔ کہیں حکومتیں گرتی ہیں، جیسا کہ نواز شریف کے معاملے میں ہوا، کہیں سفارتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں، اور کہیں عوامی اعتماد کا بحران جنم لیتا ہے۔ بعض اوقات یہ لیکس اصلاحات کا باعث بنتے ہیں، اور بعض اوقات سیاسی عدم استحکام کو گہرا کر دیتے ہیں۔ یوں لیکس نہ مکمل طور پر خیر ہوتے ہیں نہ مکمل طور پر شر؛ وہ طاقت، مفاد اور بیانیے کے بیچ واقع ایک پیچیدہ مظہر ہیں۔
ان تمام واقعات کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو ایک حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں معلومات محض صحافتی مواد نہیں رہیں بلکہ سیاسی و اقتصادی دباؤ کا مؤثر ذریعہ بن چکی ہیں۔ بعض لیکس احتساب اور شفافیت کے نام پر سامنے آتے ہیں، بعض ریاستی نگرانی کو بے نقاب کرتے ہیں، اور بعض مالیاتی نظام کی کمزوریوں کو۔ تاہم ہر واقعہ اپنے اندر ایک وسیع تر طاقت کے کھیل کی جھلک بھی رکھتا ہے۔
یہ کہنا شاید مبالغہ ہوگا کہ ہر لیک کسی منظم عالمی سازش کا حصہ ہے، لیکن یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ معلومات کا اجرا خود ایک سیاسی عمل بن چکا ہے۔ جس کے نتائج کبھی حکومتوں کے خاتمے، کبھی سفارتی کشیدگی، اور کبھی عالمی مالیاتی نظام پر دباؤ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
ڈیجیٹل عہد میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ڈیٹا اور دستاویزات کے میدان میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔ میڈیا اس جنگ کا محاذ ہے، اور عوامی اعتماد اس کا سب سے اہم ہتھیار۔ یوں راز افشا کرنا اب صرف خبر نہیں بلکہ طاقت کی ساخت کو متاثر کرنے والا عمل بن چکا ہے۔ اور جب تک عالمی سیاست مفادات کے گرد گھومتی رہے گی، لیکس بطور سیاسی و اقتصادی ہتھیار سامنے آتے رہیں گے۔

ندیم فاروقی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں