ایپسٹین فائلیں: ایک شخص، ایک نظام، اور دبائی گئی آوازیں
ایپسٹین فائلیں: ایک شخص، ایک نظام، اور دبائی گئی آوازیں
جیفری ایپسٹین نہ کوئی سیاست دان تھا اور نہ کوئی نظریاتی رہنما۔ وہ ایک امیر امریکی فنانسر تھا، جس کی رسائی اقتدار کے ایوانوں، شاہی محلات اور عالمی اشرافیہ کی محفلوں تک تھی۔ تاریخ میں اس کا نام دولت یا مالی ذہانت کے سبب نہیں لکھا جائے گا، بلکہ اس لیے لکھا جائے گا کہ اس نے طاقت اور پیسے کو کم عمر بچیوں کے خلاف منظم جرائم میں بدل دیا۔ ایپسٹین کی کہانی دراصل ایک فرد سے زیادہ ایک نظام کی کہانی ہے۔ وہ نظام جو طاقتور کو تحفظ دیتا ہے اور کمزور کو شک کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔
2005 میں فلوریڈا میں پہلی بار ایپسٹین کے خلاف سنجیدہ الزامات سامنے آئے۔ ایک کم عمر لڑکی کے والدین نے پولیس سے رجوع کیا اور بتایا کہ ان کی بیٹی کو “مالش” کے بہانے ایپسٹین کے گھر بلایا گیا، جہاں اس کا جنسی استحصال ہوا۔ تحقیقات آگے بڑھیں تو ایک، دو نہیں بلکہ درجنوں کم عمر لڑکیاں سامنے آئیں، جن کی کہانیاں ایک دوسرے سے خوفناک حد تک ملتی جلتی تھیں۔
اس کے باوجود 2008 میں ایپیسٹین کو ایک غیر معمولی رعایت ملی۔ اس نے ایک محدود الزام پر اعترافِ جرم کیا اور بدلے میں سنگین وفاقی مقدمات سے بچ گیا۔ اسے صرف 13 ماہ قید کی سزا دی گئی، اور وہ بھی ایسی جس میں روزانہ کئی گھنٹے جیل سے باہر جانے کی اجازت تھی۔ بعد ازاں یہ فیصلہ امریکی عدالتی تاریخ کے متنازع ترین فیصلوں میں شمار ہوا۔ متاثرین کو نہ اعتماد میں لیا گیا، نہ ہی مکمل انصاف دیا گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں یہ کیس محض ایک جرم نہیں رہا، بلکہ طاقت کے غلط استعمال کی علامت بن گیا۔
کئی برس بعد، مسلسل عوامی دباؤ اور صحافتی تحقیقات کے نتیجے میں، 2019 میں ایپسٹین کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ اس بار الزامات کہیں زیادہ سنگین تھے۔ ان میں کم عمر لڑکیوں کی جنسی استحصال کے لیے اسمگلنگ، ان کا منظم جنسی استعمال، اور ریاستی حدود سے باہر کیے گئے جرائم شامل تھے۔ یہ مقدمہ اس لیے بھی حساس ہو گیا کہ اب ایپسٹین کے گرد موجود پورے نیٹ ورک پر سوال اٹھنے لگے تھے۔ وہ کن لوگوں سے ملتا تھا؟ کن کے جہازوں میں سفر کرتا تھا؟ کن محفلوں میں اس کی رسائی تھی؟ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں بہت سے طاقتور نام پہلی بار بے چینی محسوس کرنے لگے۔
اگست 2019 میں، جب ایپسٹین نیویارک کی جیل میں مقدمے کا سامنا کر رہا تھا، وہ اپنی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ خودکشی تھی، مگر خراب نگرانی، جیل کے کیمروں کا کام نہ کرنا اور پہرے داروں کی غفلت نے کئی سوال چھوڑ دیے۔ ایسے سوال جنہوں نے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا۔ اس کی موت کے ساتھ ہی ایک اہم سوال نے جنم لیا کہ کیا اس کے ساتھ بہت سے راز بھی دفن ہو گئے؟
ایپسٹین کے مرنے کے بعد عدالت میں کیس تو آگے نہ بڑھ سکا، مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ متاثرین نے ہار نہیں مانی۔ انہوں نے عدالتی درخواستیں دائر کیں کہ سیل شدہ دستاویزات کھولی جائیں، پرانی گواہیوں کو منظرِ عام پر لایا جائے، اور یہ واضح کیا جائے کہ کن افراد کے نام کس سیاق و سباق میں سامنے آئے ہیں۔ عوامی دباؤ اور قانونی جدوجہد کے نتیجے میں عدالتوں نے مرحلہ وار کچھ فائلیں ڈی سیل کیں۔ یہی وہ دستاویزات ہیں جو آج “ایپسٹین فائلیں” کہلاتی ہیں۔
ان فائلوں میں ایپسٹین کے خلاف گواہیوں کے اقتباسات، ای میلز، مختلف افراد سے رابطوں کے حوالہ جات، اور بہت سے معروف امریکی اور بین الاقوامی شخصیات کے نام شامل ہیں۔ یہاں ایک نکتہ نہایت اہم ہے کہ ان فائلوں میں کسی کا نام آ جانا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ نام آنا اور جرم ثابت ہونا دو الگ قانونی مراحل ہیں۔ ممکن ہے کہ ایپسٹین کے ممکنہ ہم کاروں کے بارے میں حقائق سامنے آنے میں ابھی وقت لگے، کیونکہ معاملہ اب بھی عدالتی اور قانونی عمل سے جڑا ہوا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کے دور میں یہ فرق اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
چنانچہ جب اس معاملے میں کچھ اہم بین الاقوامی سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات کے ناموں کا ذکر سنائی دیتا ہے تو بحث فوراً سیاست کی طرف مڑ جاتی ہے۔ حمایتی دفاع میں کھڑے ہو جاتے ہیں، مخالف فیصلے سنا دیتے ہیں۔ مگر اس شور و ہنگامے میں وہ لڑکیاں ایک بار پھر پس منظر میں چلی جاتی ہیں جن کے لیے یہ سب کچھ شروع ہوا تھا۔
متاثرین نے بارہا کہا ہے کہ ان کا اصل مقصد کسی خاص نام کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ یہ تسلیم کروانا ہے کہ ان کے ساتھ جرم ہوا۔ وہ کم عمر تھیں، اور ایک طاقتور نظام نے انہیں اکیلا چھوڑ دیا۔ کئی متاثرہ خواتین کے مطابق وہ برسوں بعد بھی پُرسکون نیند نہیں سو پاتیں، ان کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا، اور جب وہ بولتی ہیں تو ان سے ایسے ثبوت مانگے جاتے ہیں جیسے وہ خود ملزم ہوں۔
یہ کیس کسی ایک فرد سے بڑا ہے؛ یہ اس نظام کا مقدمہ ہے جو دولت اور رسائی کو اخلاقیات پر فوقیت دیتا ہے۔ اس معاملے کو محض سیاسی الزام تراشی تک محدود کر دینا ان بچیوں کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہوگی جو اس گھناونے استحصال کا نشانہ بنیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اگر اس مکروہ دھندے میں شامل افراد پر جرم ثابت ہو جائے تو انہیں نظرانداز یا معاف کر دیا جائے۔ اصل انصاف تبھی ممکن ہے جب توجہ سیاست سے ہٹ کر سچ، قانون اور متاثرین کی آواز پر مرکوز رکھی جائے۔
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں