" بچہ اسکول گیا، لغت بن کر واپس آیا "


  " بچہ اسکول گیا، لغت بن کر واپس آیا "


ہمارے ہاں بچے کی پیدائش پر خوشی تو بہت منائی جاتی ہے، مگر کوئی اس معصوم کو یہ نہیں بتاتا کہ میاں! تم کسی ملک میں نہیں بلکہ ایک “لسانی لیبارٹری” میں پیدا ہوئے ہو۔ یہاں تمہارا مقابلہ نصاب سے نہیں بلکہ چار زبانوں سے ہے، جو ایک دوسرے کے پیچھے لاٹھی لے کر دوڑ رہی ہیں۔

میرا مشاہدہ ہے کہ جب ایک پشتون بچہ پہلی بار اسکول کے گیٹ میں قدم رکھتا ہے تو وہ ایک ہنستا کھیلتا انسان ہوتا ہے۔ مگر جوں ہی کلاس روم میں بیٹھتا ہے، اس پر “لسانی بمباری” شروع ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلے انگریزی آتی ہے، جو ہمارے ہاں علم نہیں بلکہ شرافت اور ذہانت کا سرٹیفکیٹ سمجھی جاتی ہے۔ ٹیچر بڑے فخر سے کہتے ہیں:

“بیٹا! بولو A for Apple۔”

بچہ دل ہی دل میں سوچتا ہے: “یہ ایپل کیا بلا ہے؟ ہم تو اسے منڑہ کہتے ہیں۔”

ابھی وہ “منڑے” اور “ایپل” کے درمیان کوئی رشتہ ڈھونڈ ہی رہا ہوتا ہے کہ اردو کی باری آ جاتی ہے۔

“نہیں بیٹا، اسے سیب کہتے ہیں۔”

بچہ سر کھجاتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ چیز کھانے کی ہے یا اس کے نام یاد کرنے کی؟ اور اگر یاد ہی کرنا ہے تو تین تین نام کیوں؟ ابھی وہ اسی الجھن میں ہوتا ہے کہ دل ہی دل میں فیصلہ کر لیتا ہے کہ بہتر ہے آئندہ سے آم ہی کھایا جائے، کم از کم اس کے نام پر ابھی تک کسی زبان نے قبضہ نہیں کیا۔

تماشہ ابھی ختم نہیں ہوتا۔ شام کو اسے مولوی صاحب کے پاس بھیج دیا جاتا ہے، جو عربی میں سیب کا نام رٹوانے لگتے ہیں۔ اب آپ خود سوچیں، جس بچے نے ابھی ڈھنگ سے دانت بھی نہیں نکالے، اس کے ننھے دماغ میں “منڑہ، سیب، ایپل اور عربی” کا ایسا ملغوبہ بنتا ہے کہ وہ پھلوں کی دکان پر کھڑا ہو کر سوچنے لگتا ہے کہ خریداری کرنی ہے یا لغت مرتب کرنی ہے۔

ریاضی کا حال بھی کچھ کم نہیں۔ گھر میں اسے سکھایا گیا “یو، دوہ، درے”، اسکول پہنچا تو پتہ چلا “One, Two, Three” بھی ضروری ہیں اور ساتھ ہی “ایک، دو، تین” بھی نجات کے راستے ہیں۔ اب وہ بیچارہ پہلے انگریزی کے “Three” کو اردو کے “تین” میں ترجمہ کرتا ہے، پھر اسے پشتو کے “درے” سے میچ کرتا ہے، اور اس دوران سوال کا جواب دماغ سے “ایرر” بن کر اڑ جاتا ہے۔ آخرکار وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ریاضی شاید مشکل نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوال حل کرنے سے پہلے تین زبانوں کے درمیان امن معاہدہ کروانا پڑتا ہے۔

حکومتی ماہرینِ تعلیم کا فلسفہ شاید یہ ہے کہ بچے کو اتنا کنفیوز کر دو کہ اسے یاد ہی نہ رہے کہ اسے سائنس پڑھنی تھی یا زبانیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب زبان کو “روٹی” سے کاٹ کر صرف گھریلو قصے کہانیوں تک محدود کر دیا جائے تو آہستہ آہستہ اس کی علمی حیثیت بھی ختم ہونے لگتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو علم کی بجائے زبانوں کی ریس بنا دیا ہے۔ بچہ آئن سٹائن بنے نہ بنے، وہ ایک ایسا “موبائل ڈکشنری” ضرور بن جاتا ہے جسے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ پانی کو چار زبانوں میں کیا کہتے ہیں، مگر یہ نہیں معلوم ہوتا کہ پانی کن عناصر سے بنتا ہے اور اس سے بجلی کیسے پیدا کی جاتی ہے۔

آخر میں ایک مفت مشورہ: اگر آپ کا بچہ اسکول سے آ کر سر درد کی شکایت کرے تو اسے پیناڈول دینے کے بجائے اس کا بستہ کھول کر دیکھ لیں۔ وہاں آپ کو سائنس اور ریاضی سے زیادہ زبانوں کا ایسا میلہ ملے گا جہاں ہر زبان اپنی باری پر بچے کے دماغ میں تقریر کر رہی ہوتی ہے۔

تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے حکومت کے سامنے دہائی دینا کچھ ایسا ہی ہے جیسے کسی بھینس کے آگے بین بجانا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بھینس شاید دم ہلا دے، مگر ہمارے پالیسی سازوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

شاید اسی لیے ہمارے ہاں بچہ جب اسکول سے فارغ ہوتا ہے تو وہ نہ سائنسدان بنتا ہے نہ مفکر، بلکہ ایک ایسی “چلتی پھرتی لغت” بن جاتا ہے جو فوراً بتا سکتی ہے کہ سیب کو چار زبانوں میں کیا کہتے ہیں۔ مگر اگر اس سے پوچھ لیا جائے کہ سیب درخت سے نیچے کیوں گرتا ہے تو وہ فوراً جواب دے گا:

“سر! اس کا انگریزی ترجمہ بتا دوں؟”

ندیم فاروقی  

 #LanguageBarriers

 #PashtoLiterature

 #SocialIssues #Moth

erTongueEducation





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں