"نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں"
" نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں"
اکیس مارچ کو ایشیاء کے ایک بڑے حصے میں ’نوروز‘ یعنی ’نیا دن‘ منایا جا رہا ہے۔ نوروز محض ایک تہوار یا مخصوص تاریخ نہیں، بلکہ تین ہزار سالہ قدیم انسانی تہذیب کا وہ استعارہ ہے جو نسل در نسل سینوں میں منتقل ہوتا آیا ہے۔ یہ جشنِ بہاراں کا وہ قصہ ہے جو بچپن کے تندور کی تپش سے شروع ہو کر وسطی ایشیا کی برفیلی شاموں اور آذربائیجان کے معطر دسترخوانوں تک پھیلا ہوا ہے۔
نوروز کی جڑیں قبل از اسلام کی قدیم زرتشتی روایت اور ایرانی تاریخ کے اوراق میں پیوست ہیں۔ اسے خاص طور پر زرتشتیت سے جوڑا جاتا ہے، جہاں آگ، روشنی اور فطرت کی تجدید کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق، جب جمشید نے تخت سنبھالا تو اس دن سورج کی کرنیں پوری آب و تاب سے چمکیں، کائنات میں ایک توازن پیدا ہوا اور اس نے اس دن کو ’نوروز‘ قرار دیا۔
سائنسی طور پر یہ وہ وقت ہے جسے اعتدالِ ربیعی کہا جاتا ہے، جب دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جاتا ہے اور زمین کی کوکھ سے نئی زندگی پھوٹتی ہے۔ جدید فلکیات کے مطابق یہ لمحہ زمین کے محور کے جھکاؤ اور سورج کے گرد اس کے مدار کے ایک خاص مقام کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے بعد شمالی نصف کرے میں بہار کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ 2010 میں اقوام متحدہ نے نوروز کو باضابطہ طور پر عالمی ثقافتی ورثہ اور ’عالمی یومِ نوروز‘ کے طور پر تسلیم کیا، جسے آج دنیا کے درجنوں ممالک میں کروڑوں لوگ مناتے ہیں۔ یونیسکو نے بھی اسے انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا، جو اس تہوار کی عالمی اہمیت کا ثبوت ہے۔
نوروز کا اصل مقصد قدرت کی تجدید، مٹی کے دوبارہ جاگنے اور انسانیت کے لیے گزشتہ سال کی تلخیوں کو بھلا کر نئی شروعات کرنا تھا۔ ایران میں اس موقع پر ’ہفت سین‘ سجایا جاتا ہے، جس میں سات ایسی اشیاء رکھی جاتی ہیں جن کے نام فارسی حرف ’س‘ سے شروع ہوتے ہیں۔ گھروں کی صفائی، نئے کپڑے پہننا اور بزرگوں کی قبروں پر حاضری دینا بھی اس تہوار کا حصہ ہے، جو ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک خوبصورت ربط قائم کرتا ہے۔
یہ کسانوں کے لیے نئی فصل کی امید اور شاعروں کے لیے نئی سوچ کا استعارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمر خیام اور حافظ شیرازی جیسے شعرا نے اپنی شاعری میں نوروز کو زندگی، محبت اور تجدید کے استعارے کے طور پر پیش کیا ہے۔
نوروز کا جادو ایران سے شروع ہو کر افغانستان اور وسطی ایشیا کے تمام ممالک میں سر چڑھ کر بولتا ہے۔ افغانستان میں ’ہفت میوہ‘ کی مٹھاس اسے چار چاند لگاتی ہے، جہاں سات قسم کے خشک میوہ جات کو رات بھر پانی میں بھگو کر ایک مخصوص مشروب تیار کیا جاتا ہے۔ تاجکستان اور کرغزستان میں ’گل گردانی‘ کی روایت بہار کی آمد کا اعلان کرتی ہے، جہاں بچے پہاڑوں سے جنگلی پھول چن کر لاتے ہیں اور گھر گھر جا کر بہار کی خوشخبری سناتے ہیں۔ یہ پورا خطہ اس دن ایک ہی رنگ میں رنگ جاتا ہے، جہاں جغرافیائی سرحدیں مٹ جاتی ہیں اور صرف انسانی خوشی باقی رہتی ہے۔
میرا ذاتی مشاہدہ جب مجھے آذربائیجان کے خوبصورت ملک لے گیا، تو وہاں میں نے نوروز کو ایک الگ ہی رنگ و بو میں پایا۔ آذربائیجان میں نوروز محض ایک دن کا نہیں بلکہ پورے ہفتے کا جشن ہے، اور وہاں کی خواتین اس موقع پر جو روایتی میٹھے تیار کرتی ہیں، وہ محض کھانے کی چیزیں نہیں بلکہ کائناتی رموز ہیں۔ وہاں کے دسترخوان پر سجی تین خاص مٹھائیاں کائنات کے عناصر کی عکاسی کرتی ہیں۔ ’پہلوا‘ کی ہیرے جیسی شکل دراصل ’آگ‘ کی علامت ہے جو حرارت اور زندگی فراہم کرتی ہے۔ ’شکر بورا‘ کی نیم گول شکل ’چاند‘ کی نمائندگی کرتی ہے، جس پر نہایت مہارت سے نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ اور ’شور گوگال‘ کی صورت میں چمکتا ہوا زرد ’سورج‘ دسترخوان کی زینت بنتا ہے۔ وہاں چائے کی میز پر سجے اخروٹ، توت، سفید انجیر اور سیب کے وہ شفاف مربے آج بھی میرے تخیل کو معطر کر دیتے ہیں۔ وہاں کی مہمان نوازی میں ایک ایسی مٹھاس ہے جو انسان کو برسوں یاد رہتی ہے۔
ازبکستان کے سفر کے دوران میں نے دیکھا کہ وہاں نوروز ایک خالص عوامی جشن ہے جہاں پورا محلہ ایک خاندان کی طرح جمع ہوتا ہے۔ وہاں میں نے حلیم نما ’سمنک‘ کی بڑی بڑی دیگیں دیکھیں جنہیں پوری رات پکایا اور گھوٹا جاتا ہے۔ پہلی نظر میں یہ ہمارے ہاں کی حلیم جیسی لگتی ہے، لیکن اس کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ صرف گندم کے سبز پودوں کے رس اور آٹے سے بنتی ہے، جس میں چینی کا ایک دانہ بھی نہیں ڈالا جاتا، مگر اس کی مٹھاس لاجواب ہوتی ہے۔ وہاں یہ روایت عام ہے کہ جو شخص اس دیگ میں چمچ چلاتا ہے، اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے، میں نے بھی اس قدیم عقیدت کے احترام میں اس عظیم الشان دیگ میں چمچ چلایا اور اپنی ایک مراد کے لیے دعا مانگی تھی۔ وہ منظر اشتراک، محبت اور انسانی ہمدردی کی ایک ایسی مثال تھا جو اب جدید دور کے شہروں میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔
لیکن اس عالمی جشن اور بیرونِ ملک کی رنگینیوں کے درمیان جب میں اپنے وطن پاکستان کی طرف دیکھتا ہوں، تو ایک خاموش سی اداسی میرے دل کو گھیر لیتی ہے۔ مجھے وہ وقت یاد ہے جب ہمارے پختون علاقوں اور دیہاتوں میں بہار دستک دیتی تھی تو مائیں تندور کی تپش میں پکی ہوئی گڑ والی روٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے مسل کر ’چُوری‘ یا ’ملیدہ‘ بنایا کرتی تھیں۔ وہ تندور کی سوندھی خوشبو، گڑ اور چینی کا امتزاج، اور خالص گھی میں رچی ہوئی روٹی کی وہ چُوری بہار کی پہلی سوغات ہوتی تھی۔ گڑ والی روٹیاں تندور میں لگتیں جبکہ چینی والا آٹا دیگچی میں دم دے کر تیار کیا جاتا تھا۔ وہ ذائقہ صرف زبان تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں ایک ماں کی محبت اور گھر کی برکت شامل ہوتی تھی۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج نئی نسل کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ تندور کی وہ تپش اب کچن کے جدید اوون میں کہیں کھو گئی ہے۔ وہ بنانے والی مائیں اب رہیں نہیں، اور نئی نسل کے پاس شاید اس محنت طلب ہنر کے لیے وقت نہیں۔ ہماری روایات، جو کبھی ہماری پہچان ہوا کرتی تھیں، اب آہستہ آہستہ تاریخ کے گرد آلود صفحات میں گم ہوتی جا رہی ہیں۔
نوروز ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی ٹھہرنے کا نام نہیں، بلکہ بدلتے موسموں کے ساتھ خود کو نیا کرنے کا نام ہے۔ چاہے وہ آذربائیجان کا ’شاہ پلو‘ ہو، ازبکستان کی ’سمنک‘ ہو یا ہماری مٹتی ہوئی ’چُوری‘—یہ سب دراصل انسان کی اس جبلت کا حصہ ہیں جو ہر سال بہار کے ساتھ نئی امیدیں وابستہ کرتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ان میٹھی روایات کو محفوظ کریں، اس سے پہلے کہ یہ صرف کتابوں کا حصہ بن جائیں۔ نوروز مبارک صرف ایک مبارکباد نہیں بلکہ زندگی کی تجدید کا عہد ہے۔
نوروز مبارک ہو۔
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں