قومِ ماہرین – مشورہ فیس 500 روپے



ریٹائرمنٹ کے بعد جب محلے میں کریانے کی دکان کھولنے کا فیصلہ کیا تو میرا خیال تھا کہ سب سے بڑا امتحان سرمایہ، سامان اور گاہک ہوں گے۔ مگر جلد ہی احساس ہوا کہ اصل امتحان کاروبار نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو کاروبار شروع ہوتے ہی خود کو مفت کے مشیر سمجھ لیتے ہیں۔
دکان کا کرایہ طے ہوا، دیواروں پر رنگ ہونے لگا اور الماریاں لگنے کا عمل جاری تھا۔ میں اپنے حساب سے دکان بنانے میں لگا رہا۔ جیسے دکان کو سیٹ کرنا شروع کیا۔  اور مختلف ضروری اشیاء لانے لگا۔محلے میں ایک نئی قسم کی تحریک شروع ہو گئی، " مفت مشورہ تحریک"۔
ایک صاحب تشریف لائے۔ چہرے پر سنجیدگی، ہاتھ میں چائے کا کپ اور آنکھوں میں مکمل اعتماد۔
انہوں نے دکان کے اندر جھانک کر کہا، “بھائی دودھ ضرور رکھو۔ اچھا بکتا ہے۔”
میں نے سوچا بات سادہ ہے، فائدہ ہو گا، رکھ لیتے ہیں۔ دودھ رکھ دیا گیا۔ یہ الگ بات کہ کبھی دودھ بیچا نہیں تھا نہ کوئی تجربہ تھا، اگلے دن سارا دودھ خراب ہوگیا۔ پہلا دھچکا مفت مشورے کا۔۔۔
اگلےدن ایک اور ماہر داخل ہوا۔ اس نے شوکیس کو غور سے دیکھا اور فوراً فتویٰ صادر کر دیا، “شیشہ ٹھیک نہیں، لکڑی کا شوکیس زیادہ مضبوط رہتا ہے۔”
میں نے پوچھ لیا، “آپ نے کبھی دکان چلائی ہے؟”
جواب آیا، “نہیں، مگر میں نے دیکھا ہے کہ ایسے بہتر لگتا ہے۔ یعنی تجربہ نہیں، مشاہدہ کافی ہے۔ اور مشاہدہ بھی ایسا جس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔
میں نے خاموشی سے سر ہلا کر اس کی رائے بھی نوٹ کر لی۔ اُس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ میری دکان نہیں بلکہ ایک کھلی کانفرنس ہال بن چکی ہے جہاں ہر آنے والا مقرر ہے اور میں واحد سامع۔ یہ سلسلہ  یوں جاری رہا۔ کوئی کہتا، “یہ چیز زیادہ رکھو، چلتی ہے۔” کوئی کہتا، “یہ کم رکھو، نقصان ہوتا ہے۔” کوئی مشورہ دیتا کہ فلاں برانڈ بہتر ہے، کوئی کہتا کہ فلاں چیز مت رکھنا، گاہک ناراض ہو جائیں گے۔
سب کی گفتگو کا انداز ایسا تھا جیسے وہ کاروبار کے پیدائشی ماہر ہوں۔ مگر حیرت یہ تھی کہ ان میں سے کسی نے اپنی زندگی میں خود کوئی رسک نہیں لیا تھا۔ نہ سرمایہ داؤ پر لگایا تھا، نہ نقصان کا ذائقہ چکھا تھا۔ بس رائے دینے کی عادت تھی اور وہ بھی مفت میں۔
ایک خاص کردار میرا لینڈ لارڈ تھا۔ وہ دکان کے ساتھ ہی رہتا ہے، اس کا گھر اور میری دکان جڑے ہوئے ہیں۔ مفت مشورے دینے کا شوق اس میں بھی کم نہ تھا۔ سب سے زیادہ تجاویز وہ دیتا تھا۔ کبھی کہتا الماریاں ایسی بناؤ، کبھی کہتا اس طرف روشنی بہتر ہے شوکیس وہاں لگاؤ۔ میں خاموشی سے سنتا رہتا۔
رات کو گھر پہنچا تو دماغ میں انہی آوازوں کی گونج تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ اگر میں ہر مشورہ آنکھ بند کر کے قبول کرتا رہا تو میری دکان میری نہیں رہے گی۔ فیصلہ میرا نہیں، بھیڑ کا ہوگا۔
اگلے دن میں نے ایک سادہ سا قدم اٹھایا۔ دکان کے باہر ایک بڑا بورڈ لگا دیا۔
“مشورہ فیس: 500 روپے
مشورہ دینے سے پہلے فیس ادا کریں۔”
بورڈ لگاتے وقت خود مجھے بھی ہنسی آ رہی تھی۔ میں جانتا تھا کہ یہ شاید کاروباری قدم کم اور سماجی بیان زیادہ ہے۔
بورڈ لگتے ہی ماحول بدل گیا۔ کچھ لوگ رک کر پڑھنے لگے۔ کچھ نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ کچھ نے ہنس کر سر ہلایا اور آگے بڑھ گئے۔
اگلے دن پہلا ماہر آیا۔ بورڈ کو غور سے دیکھا اور بولا، “یہ کیا مذاق ہے؟”
میں نے سکون سے جواب دیا، “مذاق نہیں۔ اگر آپ کو واقعی مشورہ دینا ہے تو فیس ادا کریں۔”
وہ ہنس کر بولا، “اتنے پیسے کون دے گا؟ میں تو ویسے ہی بتانے آیا تھا۔”
میں نے جواب دیا، “بس یہی تو فرق ہے۔ مفت میں ہر کوئی بول سکتا مگر جب بات فیس کی ائے سب خاموش ہوجاتے ہیں۔”
وہ خاموش ہو کر چلا گیا۔
چند دنوں میں ایک دلچسپ تبدیلی نظر آئی۔ جو لوگ روز آ کر ہر چیز پر رائے دیتے تھے، وہ اچانک کم ہو گئے۔ کچھ نے بات شروع کرنے سے پہلے بورڈ کی طرف دیکھا اور پھر موضوع بدل دیا۔ کچھ نے دور سے ہی سلام کر کے گزرنا مناسب سمجھا۔
یہ منظر مجھے ہنساتا بھی ہے اور سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔
سب سے زیادہ اثر لینڈ لارڈ پر ہوا۔ پہلے تو مشورے دینے میں پیش پیش تھا۔ کیونکہ میں اس کا کرایہ دار تھا تو شائد مشورہ اور بھی مفت کا دینا وہ اپنا قانونی حق سمجھتا تھا۔ لیکن جیسے ہی مشورہ فیس والا بورڈ لگا، اس کا رویہ بدل گیا۔ اب وہ دکان کے پاس سے گزرتا ہے، دور سے سلام کرتا ہے اور اپنے گھر کی طرف مڑ جاتا ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر شاید فیس یاد آ جاتی ہے۔
نوٹ :- کرایہ وہ آن لائن لیتا ہے۔ مشورہ فیس کے بورڈ بعد کبھی اس نے دکان میں قدم نہیں رکھا۔ شائد مفت کا مشورہ کنٹرول نہیں کرپارہا بیچارہ ۔۔
اصل مسئلہ مشورہ دینا نہیں ہے۔ مشورہ ایک نعمت بھی ہو سکتا ہے اگر وہ علم، تجربہ اور خلوص سے آئے۔ مگر جب مشورہ صرف بولنے کی عادت بن جائے اور اس کے پیچھے کوئی ذمہ داری نہ ہو تو وہ شور بن جاتا ہے۔
ہم سب اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو ہر موضوع پر ماہر ہوتے ہیں۔ سیاست ہو، معیشت ہو، صحت ہو یا کاروبار ، ان کے پاس فوری حل موجود ہوتا ہے۔ مگر جب ان سے کہا جائے کہ اپنی زندگی میں وہی اصول آزما کر دکھائیں تو جواب میں خاموشی آ جاتی ہے۔
میری دکان آج بھی چل رہی ہے۔ مشورے بھی کبھی کبھار آ جاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب میں ہر بات کو سن کر فوراً بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
بورڈ ابھی تک دکان کے باہر لگا ہوا ہے:
“مشورہ فیس: 500 روپے”
کبھی کبھی کوئی ہنستے ہوئے کہتا ہے، “چلو یار فیس لے کر ہی ایک مشورہ دے دیتا ہوں ۔۔”
میں مسکرا کر جواب دیتا ہوں، “مشورہ تب دو جب واقعی ضرورت ہو، ورنہ خاموشی بہتر ہے۔”
شاید یہی اس تجربے کا خلاصہ ہے کہ حد قائم کرنا بغاوت نہیں بلکہ خودداری ہے۔ اور کبھی کبھی ایک چھوٹا سا بورڈ بھی پورے محلے کے رویے کو آئینہ دکھا دیتا ہے۔
ہنسی ضروری ہے، مگر ذمہ داری اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ اور اگر ہنسی کے ساتھ یہ پیغام بھی پہنچ جائے تو تحریر اپنا مقصد پورا کر دیتی ہے۔

ندیم فاروقی 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں