ایران، امریکہ اور اسرائیل: نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن
" ایران، امریکہ اور اسرائیل: "نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن "
آج کل ٹی وی آن کریں تو لگتا ہے دنیا کسی ایکشن فلم کے کلائمیکس پر کھڑی ہے۔ ایک طرف ایران ہے جو میزائل اور ڈرونز ایسے بانٹ رہا ہے جیسے محلے میں شادی کے لڈو تقسیم ہو رہے ہوں۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں جن کی حالت اس وقت ایسی ہے کہ "نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن"۔ یعنی نہ جنگ جیت سکتے ہیں، نہ ہار مان سکتے ہیں۔ بس بیچ میں کھڑے ہو کر حیرانی سے ڈرونز کی گنتی کر رہے ہیں۔
ادھر ہمارے پیارے پاکستان کا حال دیکھیں۔ ہم نے شروع کیا ہے "آپریشن محافظِ البحر"۔ یعنی سمندر میں اب ہماری نیوی ایسے پہرا دے رہی ہے جیسے عید کی نماز کے بعد جوتوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔ ہماری سب میرینز اور ڈرونز سمندر میں گھوم رہے ہیں، اور ہر گزرنے والے جہاز سے پوچھ رہے ہیں: "بھائی صاحب، آپ کے پاس اسرائیل کا سفیر تو نہیں؟ اگر ہے تو برائے مہربانی اپنا راستہ بدل لیں، ورنہ پڑوسی ناراض ہو جائے گا!"
تیل کی قیمتوں کا تو پوچھیں ہی مت! اب تو گاڑی کی ٹنکی فل کروانے کے لیے بندے کو پہلے کڈنی سیل (Kidney Sale) کا اشتہار دینا پڑتا ہے۔ لوگ اب ایک دوسرے سے یہ نہیں پوچھتے کہ "کتنا کما لیتے ہو؟" بلکہ یہ پوچھتے ہیں کہ "بھائی، کیا موٹر سائیکل میں ابھی پٹرول موجود ہے؟"
آبنائے ہرمز کی بندش نے تو پوری دنیا کا ’تراہ‘ نکال دیا ہے۔ ادھر ایران نے کہا کہ جو امریکہ کا دوست ہے، وہ ہمارا راستہ استعمال نہیں کرے گا، ادھر دنیا بھر کے تاجر نقشہ لے کر بیٹھے ہیں کہ کیا کوئی ایسا راستہ بھی ہے جو ہمالیہ کے پہاڑوں کے اوپر سے ہو کر گزرتا ہو؟ کیونکہ سمندر میں تو اب مچھلیوں سے زیادہ ڈرونز تیر رہے ہیں۔
سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ بھی اب کسی "خاندانی رشتے" جیسا لگ رہا ہے۔ اگر ایک کو چھینک آئے تو دوسرے کو رومال نکالنا پڑتا ہے۔ اس سارے معاملے میں چین اور روس ایسے بیٹھے ہیں جیسے محلے کی وہ بزرگ خواتین جو لڑائی کے دوران صرف یہ دیکھتی ہیں کہ "کس کا کتنا نقصان ہو رہا ہے" تاکہ بعد میں مشورے دے سکیں۔
مختصر یہ کہ دنیا ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں ہر ملک دوسرے سے کہہ رہا ہے: "پہلے تم پیچھے ہٹو!" اور جواب مل رہا ہے: "پہلے پٹرول سستا کرو!"
خدا خیر کرے، ورنہ جس رفتار سے میزائل چل رہے ہیں، ڈر ہے کہ کہیں اگلا ایوارڈ شو ’بہترین اداکار‘ کے بجائے ’بہترین میزائل آپریٹر‘ کے نام نہ ہو جائے!
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں