" قبر ایک، بندے دو: ولی خان سے نیتن یاہو تک "
" قبر ایک، بندے دو: ولی خان سے نیتن یاہو تک "
تاریخ خود کو دہراتی نہیں ہے، بلکہ کبھی کبھی تو بالکل "فوٹو کاپی" کر کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ 1977 میں جب فوجی مارشل لاء نافذ ہوا اور ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کو پابندِ سلاسل کیا، تو ڈرائنگ رومز میں بیٹھے دانشور کہتے تھے کہ "جی، کچھ مصلحت ہو جائے گی، بھٹو صاحب کسی خلیجی ملک چلے جائیں گے یا ضیاء صاحب پیچھے ہٹ جائیں گے"۔ مگر دور بینی نگاہ رکھنے والے خان عبدالولی خان اپنے جلسوں میں ایک ہی گردان کرتے تھے: "قبر ایک ہے اور بندے دو!"
ولی خان جانتے تھے کہ جس نہج پر معاملات پہنچ چکے ہیں، وہاں اب دونوں کا بچنا ناممکن ہے۔ ایک کو تخت ملنا تھا اور دوسرے کو تختہ۔
جب دو متوازی طاقتیں ایک ہی دائرے میں سمونے کی کوشش کریں، تو تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔
بھٹو کی کرشماتی شخصیت اور ضیاء الحق کی خاموش مگر آہنی گرفت کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی تھی، اسے مٹانے کا کوئی درمیانی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ 1979 کی ایک منحوس رات نے ولی خان کی بات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔
ولی خان کی وہ بصیرت کہ "قبر ایک ہے اور بندے دو", اقتدار اور بقا کی جنگ کی عکاسی تھی۔ ایک ایسی حقیقت کہ اقتدار اور طاقت کی لڑائی میں سمجھوتہ کوئی آپشن نہیں ہوتا۔
آج جب میں ایران اور اسرائیل کی طرف دیکھتا ہوں، تو مجھے مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں میں وہی "ایک قبر" کھدی ہوئی نظر آتی ہے۔ ایک طرف اسرائیل ہے جو اپنے "ناقابلِ تسخیر" ہونے کے زعم میں ہر حد پار کر چکا ہے، اور دوسری طرف ایران ہے جس نے اپنی "بقائے باہمی" کی پالیسی کو طاق پر رکھ کر براہِ راست وار شروع کر دیا ہے۔
اب یہ وہ لڑائی نہیں رہی جسے "پراکسی" کہہ کر ٹالا جا سکے۔
معاملہ بالکل اس گلی محلوں کی لڑائی جیسا ہو گیا ہے، جہاں دونوں پہلوانوں نے ایک دوسرے کا گریبان پکڑ لیا ہو، اور تماشائی چیخ رہے ہوں کہ "چھوڑ دو، چھوڑ دو"، مگر دونوں جانتے ہیں کہ جس نے پہلے ہاتھ چھوڑا، وہ زمین پر ہوگا۔
عالمی دانشور آج بھی وہی پرانی منطقیں جھاڑ رہے ہیں: "جی، عالمی دباؤ آئے گا، روس یا چین بیچ میں پڑیں گے، جنگ ٹل جائے گی، وغیرہ وغیرہ"۔
عالمی برادری، جو ہمیشہ امن کی آشا کے راگ الاپتی ہے، آج خود اس تذبذب کا شکار ہے کہ کس کا پلڑا بھاری ہے۔ امریکہ کی حالت اس بے بس باپ جیسی ہے جو اپنے بگڑے ہوئے بیٹے کو روکنا تو چاہتا ہے، مگر پیٹھ تھپتھپانے پر بھی مجبور ہے۔
دوسری طرف روس اور چین کی خاموشی اس طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گا۔
یہ صرف دو ملکوں کی جنگ نہیں، یہ دو نظریات اور دو اناؤں کی لڑائی بن چکی ہے۔ جب میزائلوں کی زبان میں بات ہونے لگے، تو لغت کے الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں اور صرف بارود کی بو باقی رہتی ہے۔
ولی خان بابا نے جو سبق ہمیں 1977 میں پڑھایا تھا، وہ آج عالمی سیاست کا سب سے بڑا فارمولا بن چکا ہے۔ اب مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں کسی ایک کا رعب، دبدبہ یا شاید وجود ہی اس "قبر" کی نذر ہونا ہے۔ اگر ایران پیچھے ہٹا تو اس کا "انقلاب" خطرے میں ہے، اور اگر اسرائیل خاموش ہوا تو اس کا "رعب" خاک میں مل جائے گا۔
اسرائیل کا غرور ہو یا ایران کا انقلاب، دونوں کے مفادات کا تصادم اب اس مقام پر ہے جہاں "میز" چھوٹی پڑ گئی ہے اور "میدان" بڑا ہو گیا ہے۔
ولی خان نے تو بھٹو اور ضیاء کے لیے کہا تھا، مگر آج یہ جملہ تہران اور تل ابیب کی گلیوں میں گونج رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ 1979 میں پھانسی کا پھندہ تھا، اور آج ایٹمی بٹنوں کی دوڑ ہے۔
تاریخ کا وطیرہ رہا ہے کہ جب ضد انا بن جائے اور بقا کا مسئلہ سامن ہو تو پھر "قبر ایک اور بندے دو" رہ جاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی سیاست کس کو زندہ رکھتی ہے اور کس کو قصۂ پارینہ بنا دیتی ہے۔
ندیم فاروقی
#قبر_ایک_بندے_دو
#مشرق_وسطیٰ_سیاست
#تاریخ_اور_طاقت
#ایران_اسرائیل_تصادم

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں