سر درد، پیناڈول اور قوم کے مفت ڈاکٹر


 ہماری قوم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں ماہرین کی کبھی کمی نہیں رہی۔ بس ایک مسئلہ ہے کہ ان ماہرین کی ڈگریاں کسی یونیورسٹی یا میڈیکل کالج سے جاری نہیں ہوتیں بلکہ زندگی کے تجربات، سنی سنائی باتوں اور محلے کی دانش گاہوں سے عطا ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کسی شادی بیاہ یا تعزیت کی محفل میں چند منٹ خاموش بیٹھے رہیں تو کچھ دیر بعد کوئی نہ کوئی ایسا موضوع چھیڑنا پڑتا ہے جس سے گفتگو کا دروازہ کھل جائے۔

سیاست بلاشبہ ہماری قوم کا سب سے پسندیدہ موضوع ہے، مگر اس میں ایک خطرہ بھی ہے۔ آپ نے اگر کسی رہنما کی تعریف کر دی تو ممکن ہے سامنے بیٹھا شخص اسے قوم کی سب سے بڑی مصیبت قرار دے دے۔ پھر گفتگو کی گاڑی اچانک بریک مار کر بحث کے گڑھے میں جا گرتی ہے۔ اس لیے میں نے ایک عرصے کے تجربے کے بعد سیاست پر گفتگو سے دور رہنے کا اصول بنا لیا ہے۔

اس مشکل کا حل میں نے ایک ایسا مجرب نسخہ ڈھونڈ لیا ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ محفل میں فوری گفتگو شروع بھی ہو جاتی ہے اور کسی کو ناراض بھی نہیں کرتی۔ نسخہ یہ ہے کہ میں خاموشی سے بیٹھے بیٹھے اچانک ایک جملہ چھوڑ دیتا ہوں:

“یار، چند دن سے رات کو سر میں بڑا درد رہتا ہے۔”

بس پھر دیکھیں کمال۔

یہ جملہ دراصل گفتگو نہیں بلکہ ایک سائرن ہوتا ہے جو قوم کے اندر چھپے ہوئے ڈاکٹروں کو بیدار کر دیتا ہے۔ ابھی میری بات مکمل بھی نہیں ہوتی کہ سامنے بیٹھا ہوا ایک صاحب فوراً تشخیص فرما دیتے ہیں:

“یہ گرمی کا اثر ہے۔ پیناڈول لے لیا کریں، فوراً ٹھیک ہو جائے گا۔”

میں ابھی شکریہ ادا ہی کر رہا ہوتا ہوں کہ دائیں طرف سے ایک اور آواز آتی ہے:

“نہیں جی، پیناڈول چھوڑیں۔ ڈسپرین لیں۔ پیناڈول سے عارضی آرام آتا ہے، اصل علاج ڈسپرین ہے۔”

یہاں تک پہنچتے پہنچتے گفتگو ایک سادہ مشورے سے بڑھ کر میڈیکل کانفرنس کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ اب ایک تیسرے صاحب مداخلت کرتے ہیں جن کی آواز میں وہ اعتماد ہوتا ہے جو عام طور پر کسی سینئر سرجن میں پایا جاتا ہے۔

“دیکھیں اصل مسئلہ معدے کا ہے۔ معدہ خراب ہو تو سر درد لازمی ہوتا ہے۔ آپ صبح نہار منہ نیم گرم پانی میں لیموں ڈال کر پیئیں۔”

محفل میں بیٹھا چوتھا شخص اس طبی تحقیق کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اعلان کرتا ہے:

“یہ سب فضول باتیں ہیں۔ اصل چیز دیسی علاج ہے۔ میرے ایک دوست کو یہی مسئلہ تھا۔ کسی حکیم نے ایسی جڑی بوٹی دی کہ دو دن میں بندہ گھوڑے کی طرح دوڑنے لگا۔”

یہاں سے گفتگو کا رخ جدید طب سے نکل کر سیدھا ہمالیہ کے پہاڑوں کی طرف مڑ جاتا ہے جہاں ہر بیماری کی جڑ کسی نہ کسی جڑی بوٹی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اب ہر شخص کے پاس کسی نہ کسی دور دراز حکیم یا بزرگ کا حوالہ موجود ہوتا ہے۔

ایک صاحب بڑے اطمینان سے کہتے ہیں:

“آپ کو میں ایک نمبر دیتا ہوں۔ لاہور میں ایک حکیم ہیں۔ ان کے پاس ملک بھر سے لوگ آتے ہیں۔”

دوسرے فوراً اس دعوے کی اصلاح کرتے ہیں:

“لاہور والے کو چھوڑیں، اصل حکیم تو مردان میں ہیں۔ ان کے پاس تو ڈاکٹر بھی علاج کروانے آتے ہیں۔”

اس مرحلے پر میں خاموشی سے سر ہلاتا رہتا ہوں اور دل ہی دل میں سوچتا ہوں کہ اگر اس محفل میں موجود تمام ماہرین کو اکٹھا کر دیا جائے تو شاید ایک مکمل میڈیکل یونیورسٹی قائم ہو سکتی ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر حضرات نے اپنی زندگی میں کسی مریض کی نبض تک نہیں دیکھی ہوتی، مگر بیماریوں کے بارے میں ان کا اعتماد ایسا ہوتا ہے جیسے ابھی ابھی کسی آپریشن تھیٹر سے فارغ ہو کر آئے ہوں۔

کبھی کبھی کوئی صاحب جذباتی ہو کر کہتے ہیں:

“ڈاکٹروں کے پاس مت جایا کریں۔ وہ تو بس ٹیسٹ پر ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں۔ اصل علاج تو قدرتی طریقوں میں ہے۔”

یہ سن کر مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ اگر واقعی یہ تمام نسخے اتنے ہی مؤثر ہیں تو پھر ہسپتالوں میں اتنی بھیڑ کیوں ہوتی ہے۔

لیکن اس ساری گفتگو کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ ہر مشورہ بالکل مفت ہوتا ہے۔ نہ رجسٹریشن فیس، نہ مشاورت کا خرچ۔ صرف آپ کا سر درد ہونا چاہیے، باقی علاج کی ذمہ داری پوری قوم اٹھانے کو تیار ہوتی ہے۔

کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ اگر میں ایک ہی شام میں تین مختلف محفلوں میں جا کر یہی جملہ دہرا دوں تو شاید درجنوں نسخے جمع ہو جائیں۔ اتنے نسخے کہ ایک باقاعدہ طبی کتاب مرتب کی جا سکتی ہے جس کا نام ہو:

“قوم کے آزمودہ نسخے۔”

بہر حال اس سارے تجربے نے مجھے ایک بات ضرور سکھائی ہے۔ ہماری قوم میں ہمدردی کی کمی نہیں۔ بس اظہار کا طریقہ ذرا منفرد ہے۔ ہم ایک دوسرے کے مسائل سن کر فوراً ان کا حل بتانے لگتے ہیں، چاہے ہمیں اس مسئلے کے بارے میں زیادہ علم نہ بھی ہو۔

اس لیے اب میں محفلوں میں سیاست چھیڑنے کے بجائے سر درد کا ذکر ہی بہتر سمجھتا ہوں۔ کم از کم اس سے بحث نہیں ہوتی، صرف نسخوں کی بارش ہوتی ہے۔

اور سچ پوچھیں تو کبھی کبھی مجھے شک ہوتا ہے کہ اگر میں واقعی کسی ڈاکٹر کے پاس چلا بھی جاؤں تو شاید وہ بھی یہی کہے:

“پیناڈول لے لیں… اور اگر آرام نہ آئے تو کسی محفل میں جا کر لوگوں سے مشورہ کر لیں۔ وہاں آپ کو علاج کے اتنے طریقے ملیں گے کہ بیماری خود ہی شرما کر بھاگ جائے گی۔” 


ندیم فاروقی 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں