" پیٹرو ڈالر اور ہرمز کا بحران: عالمی معیشت کس سمت جا رہی ہے؟"
" پیٹرو ڈالر اور ہرمز کا بحران: عالمی معیشت کس سمت جا رہی ہے؟"
جب دنیا کے اہم ترین تجارتی راستے بحران کی لپیٹ میں آ جائیں اور عالمی تجارت کی سب سے بڑی کرنسی اپنی بالادستی کو چیلنج ہوتے دیکھے تو یہ محض علاقائی کشیدگی نہیں رہتی بلکہ اس امر کا اشارہ بن جاتی ہے کہ عالمی معاشی نظام ایک بڑے تغیر کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیاں اور توانائی کی اہم گزرگاہوں پر منڈلاتے خطرات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ "تیل کی سیاست" دراصل "عالمی معیشت کی سیاست" ہے۔ جب توانائی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
گزشتہ نصف صدی سے عالمی اقتصادی نظام ایک خاص ڈھانچے کے تحت چلتا رہا ہے، جس کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ عالمی توانائی کی تجارت زیادہ تر ایک ہی کرنسی میں ہو، اور وہ کرنسی امریکی ڈالر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عام طور پر پیٹرو ڈالر اکانومی کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت دنیا کے بیشتر ممالک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر درکار ہوتا رہا، جس نے امریکی ڈالر کو صرف ایک قومی کرنسی نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام کی ایک مرکزی قوت بنا دیا۔
1970 کی دہائی میں جب عالمی مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلیاں آئیں تو امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک غیر رسمی مفاہمت سامنے آئی، جس کے تحت خلیجی تیل کی فروخت بڑی حد تک امریکی ڈالر میں ہونے لگی۔ اس بندوبست نے دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈالر پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا۔ یوں پیٹرو ڈالر کا نظام صرف ایک اقتصادی انتظام نہیں رہا بلکہ عالمی مالیاتی طاقت کے توازن کو متعین کرنے والا ایک اہم ستون بن گیا۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا توازن ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔ حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال، بالخصوص ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم نے آبنائے ہرمز کو ایک نئے بحران کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ تنگ مگر تزویراتی طور پر انتہائی اہم بحری گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی لائن سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے بڑے حصے کو تیل فراہم کرنے والے بحری جہاز اسی راستے سے گزرتے ہیں، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی معمولی سی رکاوٹ بھی بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچانے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے چینی پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
ایران پر جنگی دباؤ بڑھنے اور خطے میں عسکری سرگرمیوں کے نتیجے میں اس کشیدگی کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے گئے۔ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں اور اگر حالات اسی طرح کشیدہ رہے تو ان میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں یہ اضافہ صرف ایندھن کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات صنعت، تجارت اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک پھیل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے، جس کے اثرات مختلف معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے روایتی راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نے روس جیسے ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ یوکرین جنگ کے باعث عالمی پابندیوں کا سامنا کرنے والے روس کو خلیج کی کشیدگی کے نتیجے میں اپنا تیل ایشیائی منڈیوں، خصوصاً چین اور بھارت کو فروخت کرنے کا بڑا موقع ملا ہے۔ روس اب یومیہ بنیادوں پر کروڑوں ڈالر کا تیل برآمد کر رہا ہے، اور اس تجارت کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ روس، چین اور ایران توانائی کے تبادلے کے لیے ڈالر کے بجائے اپنی مقامی کرنسیاں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ رجحان اگر وسیع پیمانے پر پھیلتا ہے تو عالمی مالیاتی نظام میں ایک نمایاں تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں برکس (BRICS) ممالک برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ، ایک نئے معاشی بلاک کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ یہ اتحاد نہ صرف دنیا کی ایک بڑی آبادی اور قابلِ ذکر معاشی قوت کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی اجارہ داری کو کم کرنے اور ایک متنوع کرنسی نظام متعارف کروانے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو پیٹرو ڈالر کا وہ نظام، جس نے گزشتہ کئی دہائیوں تک عالمی معیشت کو ایک خاص ڈھانچے میں رکھا، بتدریج کمزور پڑ سکتا ہے۔
ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتیں، خصوصاً چین اور بھارت، اب عالمی توانائی کی منڈی کے سب سے بڑے خریدار بن چکی ہیں۔ ان ممالک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات نے نہ صرف عالمی توانائی کے بہاؤ کو متاثر کیا ہے بلکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معاشی اور سفارتی ترجیحات کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ امریکی ڈالر کی بالادستی کا فوری خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا، لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بڑے معاشی انقلابات اکثر کسی بڑے بحران یا عالمی کشیدگی کے بعد ہی جنم لیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف تیل کا نہیں بلکہ اس طاقت کا ہے جو تیل کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ جب کوئی قدرتی وسیلہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ محض ایک اقتصادی شے نہیں رہتا بلکہ عالمی سیاست اور طاقت کے توازن کا مرکزی عنصر بن جاتا ہے۔ اسی لیے توانائی کے راستوں پر ہونے والی کشیدگی ہمیشہ عالمی سفارت کاری، عسکری حکمت عملی اور مالیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو جہاں توانائی، کرنسی اور سیاسی طاقت کے درمیان تعلقات کی نئی صورتیں سامنے آئیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ صرف اقتصادی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ عالمی نظام کی ایک نئی تشکیل بھی ہوگی۔ خلیج کے پانیوں سے گزرنے والے تیل کے جہاز اب محض ایندھن نہیں بلکہ عالمی معیشت کی سمت کا تعین کرنے والی علامت بن چکے ہیں۔ آنے والے برسوں میں توانائی، کرنسی اور طاقت کے درمیان ایک نیا رشتہ تشکیل پاتا دکھائی دے رہا ہے، جو شاید عالمی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو۔
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں