ہائڈ پارک سے ایکس تک — آزادیٔ اظہار یا "کی بورڈ واریئرز" کا ہجوم؟


  "ہائڈ پارک سے ایکس تک — آزادیٔ اظہار یا "کی بورڈ واریئرز" کا ہجوم؟"

لندن کے ہائڈ پارک میں ایک "اسپیکرز کارنر" ہوا کرتا تھا، جو کبھی جمہوریت اور آزادیٔ اظہار کا سب سے جاندار نمونہ سمجھا جاتا تھا۔ وہاں کی فضا میں ایک عجیب سا توازن تھا؛ بولنے والا ایک لکڑی کے کریٹ پر کھڑا ہوتا تھا تاکہ اس کا قد مجمع سے تھوڑا بلند نظر آئے، مگر اس کی حیثیت مجمع کے برابر ہی رہتی تھی۔ اس کی آزادی کی ایک قیمت تھی جو شاید آج کے "ڈیجیٹل انقلابیوں" کے لیے ناقابلِ فہم ہو۔ وہاں بولنے والے کو سامعین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی پڑتی تھی، اسے سامنے کھڑے لوگوں کے تیکھے سوالات، طنزیہ مسکراہٹوں اور کبھی کبھار سخت ردِعمل کو براہِ راست سہنا پڑتا تھا۔ وہاں الفاظ کا وزن کہنے والے کے کندھوں پر ہوتا تھا۔ اگر آپ کی دلیل میں جان نہیں تھی، تو مجمع کی خاموشی یا ایک بلند قہقہہ آپ کو اسٹیج سے اتارنے کے لیے کافی تھا۔ وہ جگہ صرف اظہار کی آزادی نہیں دیتی تھی، بلکہ انسان کو یہ سکھاتی تھی کہ اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جیا جاتا ہے۔
مگر پھر وقت نے کروٹ لی، اور ٹیکنالوجی نے اس جغرافیائی ہائڈ پارک کو سمیٹ کر ایک چھوٹی سی اسکرین میں قید کر دیا۔ اب ہائڈ پارک کسی پارک کا نام نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی ایپلی کیشن بن چکا ہے جو ہر وقت ہماری جیب میں دھڑکتی رہتی ہے۔ سابقہ ٹوئٹر اور موجودہ "ایکس" نے اس تصور کو ہی مسخ کر دیا کہ گفتگو کے لیے سامنے ہونا ضروری ہے۔ اب ہمیں بولنے کے لیے کسی کریٹ پر کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ بستر میں لیٹے لیٹے، آدھی کھلی آنکھوں کے ساتھ، ہم پوری دنیا کی کسی بھی معتبر شخصیت کی پگڑی اچھال سکتے ہیں۔ اب نہ سامعین کی آنکھوں کا دباؤ ہے، نہ مجمع کی جسمانی موجودگی کا خوف اور نہ ہی اپنے کہے ہوئے الفاظ کی اخلاقی ذمہ داری۔ صرف ایک کی بورڈ ہے، ایک فرضی نام ہے اور ایک ایسی بے لگام آزادی ہے جس نے ہمیں "اظہار کے ہنرمند" کے بجائے "ردِعمل کا شکاری" بنا دیا ہے۔
اس ڈیجیٹل ہائڈ پارک میں سب بول رہے ہیں، لیکن سن کوئی نہیں رہا۔ یہاں گفتگو اب خیالات کا تبادلہ نہیں رہی، بلکہ ایک "مسلسل ردِعمل" بن چکی ہے۔ ہر جملہ کسی کے خلاف ہے، ہر رائے کسی کی تذلیل ہے اور ہر اختلاف ایک شخصی جنگ ہے۔ ہم نے مکالمے کو مقابلے میں بدلا اور اب اس مقابلے کو ایک ایسی خونی جنگ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ہتھیار گولی نہیں بلکہ "کی بورڈ" ہے۔ یہاں جتنا تیکھا جملہ ہوگا، جتنی گہری گالی ہوگی، آپ کی "ریٹنگ" اتنی ہی بلند ہوگی۔ سچائی اب ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے، اب سب سے اہم یہ ہے کہ آپ کا جملہ کتنی تیزی سے کسی کے سینے میں پیوست ہوتا ہے۔ سنجیدگی اب ایک گالی بن چکی ہے اور فوری اشتعال ایک فن۔
الفاظ اب معنی کے پابند نہیں رہے۔ پہلے لفظ "حرمت" رکھتے تھے، اب لفظ صرف "اثر" رکھتے ہیں۔ جتنا زیادہ کوئی جملہ وائرل ہوتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اتنا ہی سچا ہے، چاہے اس کی بنیاد کسی کی کردار کشی پر ہی کیوں نہ رکھی گئی ہو۔ ہم نے دلیل کے معیار کو "لائیکس" کی تعداد سے بدل دیا ہے۔ اگر کسی کی بات پر ڈھیر سارے ری ٹوئٹس ہوں، تو وہ خود کو عقلِ کل سمجھ بیٹھتا ہے۔
اس پورے تماشے میں "گمنامی" کا کردار کسی جادوئی لبادے سے کم نہیں۔ وہ شخص جسے گھر میں دوسری دفعہ سالن مانگنے پر ڈانٹ پڑتی ہے، ایکس پر ایک فرضی نام اور کسی ہیرو کی تصویر لگا کر بڑے بڑے دانشوروں اور پالیسی سازوں کو اخلاقیات کے سبق پڑھا رہا ہوتا ہے۔ چہرہ غائب ہو تو لہجہ بدل جاتا ہے۔ وہ باتیں جو کسی کی آنکھوں میں دیکھ کر کہنا ناممکن ہوں، وہ اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر معمول بن جاتی ہیں۔ اس گمنامی نے اظہار کو وسعت تو دی، مگر اس کی اخلاقی قیمت کو کوڑیوں کے بھاؤ گرا دیا۔ اب الفاظ اپنے کہنے والے کے کردار سے آزاد ہو چکے ہیں کیونکہ کہنے والے کا اپنا کوئی چہرہ ہی نہیں ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم سب اس صورتحال سے شاکی بھی ہیں اور اسی کا حصہ بھی۔ ہر شخص اپنی فیڈ پر دوسروں کی بدتہذیبی کا رونا روتا ہے، لیکن جیسے ہی اسے اپنی پسند کی "گالی" یا کسی مخالف کی تذلیل نظر آتی ہے، اس کی انگلیاں بے اختیار اسے "شیئر" کرنے کے لیے تڑپنے لگتی ہیں۔ ہم سب دوسروں میں خرابی ڈھونڈ رہے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری فیڈ کا شور دراصل ہمارا اپنا مشترکہ عکس ہے۔ ہم اس دلدل میں کھڑے ہو کر دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کا فن سیکھ چکے ہیں، یہ بھول کر کہ اس عمل میں ہمارے اپنے ہاتھ بھی گندے ہو رہے ہیں۔
اگر ہم فیس بک کا موازنہ ایکس سے کریں تو وہاں صورتحال تھوڑی مختلف نظر آتی ہے۔ فیس بک پر چونکہ خاندان، رشتے دار اور محلے دار موجود ہوتے ہیں، اس لیے وہاں شناخت کا بوجھ زبان پر کسی حد تک لگام رکھتا ہے۔ وہاں ایک "سماجی دباؤ" ہوتا ہے جو ہمیں ایک حد میں رکھتا ہے۔ مگر ایکس پر یہ سارے بندھن ٹوٹ چکے ہیں۔ وہاں آپ کا مقابلہ اجنبیوں سے ہے، اور اجنبیوں کے سامنے اخلاق دکھانا ہم نے کبھی ضروری سمجھا ہی نہیں۔ ایکس وہ میدانِ جنگ ہے جہاں ہم نے تہذیب کے سارے نقاب اتار کر پھینک دیے ہیں اور اپنی وحشت کا کھلم کھلا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
آج کے دور میں "معیار" کی جگہ "رفتار" نے لے لی ہے۔ جو جملہ جتنا تیزی سے پھیلتا ہے، وہ اتنا ہی "اہم" سمجھا جاتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں ہیں جہاں سوچنے کا وقت کسی کے پاس نہیں، بس ری ایکٹ کرنے کی جلدی ہے۔ کسی نے کچھ کہا نہیں کہ ادھر سے فتووں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ کسی نے کوئی پرانی ویڈیو شیئر کی نہیں کہ ادھر سے کردار کشی کی مہم چل پڑی۔ ہم نے سچائی کو تلاش کرنے کی زحمت ہی چھوڑ دی ہے، ہمارے لیے وہ سچ ہے جو ہمارے نظریات کو سوٹ کرتا ہے، اور وہ جھوٹ ہے جو ہماری انا کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے بارے میں یہ سمجھنا کہ اس نے ہمیں بدتمیز بنا دیا ہے، ایک خام خیالی ہے۔ ٹیکنالوجی تو محض ایک آئینہ ہے، ایک ایسا لاؤڈ اسپیکر ہے جس نے ہمارے اندر پہلے سے موجود اشتعال کو ایک بہت بڑی آواز دے دی ہے۔ اگر ہمارے اندر تحمل ہوتا، تو یہ ٹیکنالوجی اسے وسعت دیتی۔ اگر ہمارے اندر علم کی پیاس ہوتی، تو یہ اسے سیراب کرتی۔ مگر افسوس کہ ہمارے اندر تو صرف ایک "بے نام سا غصہ" بھرا تھا، جسے ٹیکنالوجی نے ایک عالمی اسٹیج فراہم کر دیا۔
آج کا ڈیجیٹل ہائڈ پارک ہمیں وہ نہیں دکھاتا جو ہم بننا چاہتے ہیں، بلکہ وہ دکھاتا ہے جو ہم درحقیقت بن چکے ہیں۔ ہائڈ پارک کا وہ کریٹ تو اب ٹوٹ چکا ہے، مگر گلی کوچوں میں "ایکس" کی صورت میں نفرت کی جو دکانیں کھل چکی ہیں، ان کے شٹرز گرانا اب کسی کے بس میں نہیں۔

ندیم  فاروقی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں