ایٹم بم: حفاظت یا ہلاکت؟
" ایٹم بم: حفاظت یا ہلاکت؟ "
دنیا نے جب ایٹمی توانائی کو دریافت کیا تو اسے انسانی ترقی کی معراج اور توانائی کے بحران کا حل سمجھا گیا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہی معراج ایک ایسا نوکیلا پہاڑ ہے جس کی چوٹی پر پہنچ کر انسان کے قدم ہمیشہ لرزتے رہتے ہیں۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو دشمن کے شہر کو لمحوں میں راکھ کے ڈھیر میں بدل سکتا ہے۔ مگر اس کی سب سے بڑی اور ہولناک سچائی یہ ہے کہ یہ صرف دشمن کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے بنانے والے کے لیے بھی ایک مستقل، خاموش اور ہمہ وقت موجود خطرہ ہے۔ ہم جسے اپنی ڈھال سمجھتے ہیں، وہ دراصل ایک ایسا دو دھاری تلوار ہے جس کا دستہ بھی اتنا ہی تیز ہے جتنا کہ اس کی دھار۔
1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے دنیا کو پہلی بار دکھایا کہ جنگ اگر اس سطح پر پہنچ جائے تو یہ صرف فوجی فتح یا شکست نہیں رہتی بلکہ انسانیت کی اجتماعی خودکشی بن جاتی ہے۔ وہ لاکھوں جانیں جو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بھاپ بن کر اڑ گئیں، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک ایسی بستی کے باسی تھے جہاں "ایٹم" نے اپنا پہلا رقص دکھانا تھا۔ مگر تباہی وہاں رکی نہیں۔ جو لوگ بچ گئے، وہ تابکاری کے ایسے زہریلے سائے میں جیے جو نسلوں تک کینسر اور معذوری کی صورت میں ان کا پیچھا کرتا رہا۔
پھر 1986 میں چرنوبل کے حادثے نے ایٹمی طاقت کے بارے میں ایک نیا اور لرزہ خیز منظر پیش کیا۔ اس نے ثابت کیا کہ ایٹمی تباہی کے لیے کسی دشمن کا حملہ ضروری نہیں ہوتا، صرف ایک انسانی لغزش، ایک تکنیکی غلطی یا نظام کی ایک چھوٹی سی خرابی بھی پوری زمین کے نقشے بدلنے کے لیے کافی ہے۔ آج بھی چرنوبل کے گرد و نواح کی زمین اور فضا اس خاموش موت کی گواہی دے رہی ہے کہ انسان اپنی ہی تخلیق کردہ مصنوعی بجلی کے سامنے کتنا بے بس ہے۔ اسی طرح 2011 میں جاپان کے شہر فوکوشیما میں پیش آنے والا سانحہ ایٹمی طاقت کی بے بسی کی ایک اور بڑی مثال ہے۔ وہاں کسی ملک نے بم نہیں گرایا تھا، بلکہ ایک طاقتور زلزلے اور سونامی نے ایٹمی بجلی گھر کے کولنگ سسٹم کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ری ایکٹرز سے تابکاری کا اخراج شروع ہو گیا۔ چرنوبل سے لے کر فوکوشیما تک، تاریخ ہمیں بار بار پکار کر کہہ رہی ہے کہ "ایٹم" کبھی بھی مکمل طور پر انسان کے قابو میں نہیں رہا۔
ہم اکثر ایٹمی طاقت کو سرحدوں کے دفاع سے جوڑتے ہیں، لیکن ہم اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ ایٹمی تنصیبات دراصل ہمارے اپنے گھر کے اندر رکھے ہوئے وہ بارودی ڈھیر ہیں جن کی چنگاری کا سرا ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ ایٹمی ری ایکٹرز، افزودگی کے مراکز اور ہتھیاروں کے گودام کسی بھی ملک کے لیے "تزویراتی اثاثے" کہلاتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ وہ "سافٹ ٹارگٹس" ہیں جن پر حملہ پورے ملک کو قبرستان میں بدل سکتا ہے۔
ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے ایٹم بم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک روایتی میزائل، ایک ڈرون حملہ یا محض ایک سائبر حملہ بھی کسی ری ایکٹر کے کولنگ سسٹم کو ناکارہ بنا کر اسے "میلٹ ڈاؤن" کی طرف لے جا سکتا ہے۔ جب آپ ایٹم کو اپنے گھر (ملک) میں رکھتے ہیں، تو آپ دراصل اپنے شہریوں کو ایک ایسے خطرے کے حصار میں دے دیتے ہیں جس کا کوئی علاج نہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی حادثے یا حملے کے نتیجے میں تابکاری کا اخراج ہوتا ہے، تو وہ یہ نہیں دیکھتی کہ یہ اس کا اپنا ملک ہے یا دشمن کا۔ وہ ہوا کے دوش پر سفر کرتی ہے اور ہر جاندار کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ نے اس خوف کو ایک نئی حقیقت بخشی ہے۔ یہ دونوں ممالک جغرافیائی طور پر ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ یہاں ہونے والی کوئی بھی ایٹمی لغزش پورے خطے کا جغرافیہ مٹا سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ہم نے دیکھا کہ میزائل اور ڈرون حملے براہِ راست ایک دوسرے کی سرزمین پر کیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات (ڈیمونا) کے قریب ایرانی میزائل گرے، جبکہ ایران کے شہر اصفہان اور نطنز کے اطراف، جہاں حساس ایٹمی مراکز موجود ہیں، حملوں کی بازگشت سنی گئی۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے اگرچہ یہ کہہ کر دنیا کو تسلی دینے کی کوشش کی کہ تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، لیکن یہ ایک انتہائی خطرناک سگنل تھا۔ یہاں مسئلہ صرف ارادے کا نہیں بلکہ "حادثاتی تصادم" کا ہے۔ جنگ کے جنون میں جب میزائل فائر کیے جاتے ہیں، تو چند کلومیٹر کا فرق یا ریڈار کی ایک چھوٹی سی غلطی کسی ایٹمی ری ایکٹر کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ اگر ایران یا اسرائیل میں سے کسی ایک کی بھی ایٹمی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، تو اس سے نکلنے والا تابکاری کا بادل سرحدوں کو نہیں پہچانے گا۔ یہ بادل تہران سے تل ابیب تک اور بغداد سے دمشق تک ہر جیتے جاگتے انسان کو موت کی نیند سلا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا انسانی المیہ ہوگا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملے گی۔
پاکستان اور بھارت کا معاملہ تو اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ ہم ایسے ہمسائے ہیں جو ایٹمی طاقت بھی ہیں اور جن کے درمیان طویل سرحدیں اور دیرینہ تنازعات بھی ہیں۔ یہاں "ڈیٹرنس" کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ ایٹم بم نے ہمیں بڑی جنگوں سے بچایا ہوا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے چھپی خوفناک حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک ایسے توازن پر کھڑے ہیں جو کبھی بھی بگڑ سکتا ہے۔ دونوں ممالک میں ایٹمی مراکز گنجان آباد علاقوں کے اتنے قریب ہیں کہ کسی بھی قسم کا حادثہ یا دانستہ حملہ کروڑوں انسانوں کو براہِ راست نشانہ بنائے گا۔ 2022 میں بھارت کا ایک براہموس میزائل تکنیکی غلطی سے پاکستانی حدود میں آ گرا تھا۔ خوش قسمتی سے اس پر کوئی وار ہیڈ نہیں تھا۔مگر یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ حادثہ بھی ایٹمی خطرے کے قریب ہو تو صورتحال کتنی سنگین ہو سکتی ہے۔
ایٹمی طاقت نے جنگ کو شاید بڑی حد تک ملتوی کر دیا ہو، مگر اس نے امن کو کبھی تحفظ فراہم نہیں کیا۔ اس نے دشمن کو ہچکچاہٹ ضرور دی ہے، مگر اپنے ہی نظام کو ہمیشہ ایک ایسے خطرے کے دائرے میں رکھ دیا ہے جہاں ایک لمحے کی غلطی کی قیمت نسل انسانی کی تباہی ہو سکتی ہے۔
ایٹم بم "دفاع" نہیں بلکہ "اجتماعی خودکشی" کا آلہ ہے۔ دنیا کو اب ایٹمی تخفیفِ اسلحہ کی طرف سنجیدگی سے بڑھنا ہوگا۔ خاص طور پر پاکستان، بھارت، ایران اور اسرائیل جیسے ممالک کے لیے، جو جغرافیائی طور پر ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔
جدید دنیا کا سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ جس چیز کو انسان نے اپنی حفاظت کے لیے بنایا تھا، وہی اب اسے اپنی ہی تخلیق کے سائے سے خوفزدہ رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایٹمی تنصیبات وہ بارود ہیں جو ہر وقت سلگ رہے ہیں۔ کسی بھی جنونی حکمران کی ایک غلط سوچ، کسی جنرل کا غلط فیصلہ یا کسی کمپیوٹر کی ایک چھوٹی سی 'بگ' (Bug) آدھی دنیا کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔
ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا یا انہیں گھر میں رکھنا، دونوں ہی تباہی کے نسخے ہیں۔ ہمیں ایک ایسی دنیا کی ضرورت ہے جہاں طاقت کا معیار تباہی پھیلانے کی صلاحیت نہ ہو، بلکہ انسانیت کو محفوظ بنانے کی فکر ہو۔
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں