جنگ کے دہانے سے واپسی: ایک مہلت، ایک موقع
" جنگ کے دہانے سے واپسی: ایک مہلت، ایک موقع "
دنیا ایک بار پھر اس مقام پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں ایک غلط فیصلہ یا ایک ضد پوری انسانیت کو ایسی آگ میں جھونک سکتی تھی جس کے شعلے نسلوں تک محسوس کیے جاتے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ فضا میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ نے خطرے کی گھنٹی اس شدت سے بجائی کہ دنیا کی سانسیں تھم سی گئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا سخت الٹی میٹم محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دھمکی تھی جس کے پیچھے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کھڑی تھی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ، اور اس کے ساتھ “چند گھنٹوں میں تہذیب کی تباہی” جیسے الفاظ، اس بات کا اعلان تھے کہ معاملہ سفارتی دائرے سے نکل کر خطرناک عسکری تصادم کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
آبنائے ہرمز محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا مرکز ہے۔ اس کی بندش یا اس پر کشیدگی کا مطلب صرف علاقائی بحران نہیں بلکہ عالمی اقتصادی زلزلہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران نے امریکی مطالبات کو مسترد کیا تو خطرہ کئی گنا بڑھ گیا۔ دنیا کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے ایک چنگاری پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لینے والی ہو۔
ایسے نازک لمحے میں، جب طاقت کا نشہ اور قومی مفادات کی ضد غالب آ رہی تھی، ایک غیر متوقع مگر نہایت اہم کردار سامنے آیا۔ اور وہ کردار تھا پاکستان۔
پاکستان نے اس بحران میں جو کردار ادا کیا، وہ نہ صرف سفارتی مہارت کا مظہر ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ دنیا میں اب بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو طاقت کے بجائے توازن، اور جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان نے بیک وقت دونوں فریقین سے رابطہ کیا۔ ایک طرف امریکہ سے درخواست کی گئی کہ وہ فوری کارروائی سے گریز کرے اور مذاکرات کیلئے مہلت دے۔ دوسری طرف ایران کو قائل کیا گیا کہ وہ سخت موقف میں نرمی لاتے ہوئے بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔
یہ آسان کام نہیں تھا۔ ایک طرف دنیا کی سپر پاور تھی جبکہ دوسری طرف ایک خودمختار اور مزاحم ریاست تھی۔ دونوں کو ایک ہی میز پر لانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ مگر یہی وہ لمحہ تھا جہاں سفارتکاری نے توپ و تفنگ پر برتری حاصل کی۔
نتیجتاً، ایک عارضی جنگ بندی طے پا گئی۔ امریکہ نے حملہ مؤخر کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ ایران نے بھی کشیدگی کم کرنے کا عندیہ دیا۔ یوں وہ جنگ، جو چند گھنٹوں کی دوری پر کھڑی تھی، فی الحال ٹل گئی۔
تاہم یہاں ایک اہم حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کوئی مستقل امن نہیں بلکہ ایک مہلت ہے، جو شاید آنے والے دنوں میں کسی بڑے فیصلے کا پیش خیمہ بنے گا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسے وقفے اکثر یا تو دیرپا امن کی بنیاد بنتے ہیں، یا پھر ایک بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی ثابت ہوتے ہیں۔
عالمی برادری نے اس پیش رفت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ مالیاتی منڈیوں میں بہتری آئی اور تیل کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک اجتماعی سانس لی گئی جیسے کسی نے پھانسی کے پھندے سے گردن نکال لی ہو۔
پاکستان کیلئے یہ لمحہ ایک سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا ملک جسے اکثر عالمی سیاست میں ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، اس نے ثابت کیا کہ بروقت اور متوازن حکمتِ عملی کے ذریعے وہ عالمی منظرنامے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا نے واقعی اس واقعے سے کچھ سیکھا ہے؟ کیا طاقت کے نشے میں چور ریاستیں اب یہ سمجھ پائیں گی کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کا آغاز ہوتی ہے؟ یا پھر یہ سب کچھ وقتی ہے، اور چند ہفتوں بعد ہم دوبارہ اسی موڑ پر کھڑے ہوں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ دنیا اس وقت ایک نازک توازن پر کھڑی ہے۔ ایک طرف طاقت، مفادات اور بالادستی کی سیاست ہے، اور دوسری طرف امن، مکالمہ اور بقا کی مشترکہ خواہش۔ اگر پہلا عنصر غالب آ گیا تو نتائج تباہ کن ہوں گے، اور اگر دوسرا غالب آیا تو شاید انسانیت ایک بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکے۔
فی الحال، ایک جنگ ٹل گئی ہے۔ مگر اصل امتحان ابھی باقی ہے۔
یہ لمحہ دنیا کیلئے ایک وارننگ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ وارننگ اس بات کی کہ ہم تباہی کے کس قدر قریب پہنچ چکے تھے، اور موقع اس بات کا کہ ہم اس راستے سے واپس مڑ جائیں۔
اگر انسانیت نے اس موقع کو ضائع کیا، تو شاید اگلی بار مہلت نہ ملے۔
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں