اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

850 روپے والا پاکستان کہاں گیا؟

تصویر
 "850 روپے والا پاکستان کہاں گیا؟" سوشل میڈیا کی لامتناہی بھیڑ میں، جہاں روزانہ ہزاروں تصاویر اور ویڈیوز نگاہوں سے گزرتی ہیں، گزشتہ دنوں ایک دوست نے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) لاہور کے ایک کلرک، محمد اشرف، کی 15 جون 1980ء کو جاری ہونے والی تنخواہ کی ایک زرد رسید شیئر کی۔ اس تاریخی رسید پر کل رقم درج تھی: ’’850 روپے فقط‘‘۔ اس میں 650 روپے بنیادی تنخواہ، 120 روپے مہنگائی الاؤنس، 60 روپے مکان کرایہ الاؤنس اور 20 روپے سفری بھتہ شامل تھا۔ یہ محض ایک پرانی دفتری رسید نہیں، بلکہ ہماری معاشی تاریخ کا ایک ایسا خاموش دستاویز ہے جو کئی دہائیوں پر محیط معاشی تبدیلیوں، پالیسیوں اور ترجیحات کی پوری داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ 1980ء کا یہ 850 روپیہ ایک عام سرکاری ملازم کے پورے مہینے کا سہارا بنتا تھا۔ اس سے گھر کا نظام چلتا تھا، بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے ہوتے تھے، روزمرہ ضروریاتِ زندگی باوقار انداز میں پوری کی جاتی تھیں اور اکثر کچھ نہ کچھ بچت بھی ممکن ہو جاتی تھی۔ معیشت کا اصل پیمانہ رقم کی مقدار نہیں بلکہ اس کی قوتِ خرید ہوتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ محمد اشرف کی تنخواہ 850 روپے...

عوام کی جائیداد، کارپوریٹ کی حکومت اور سوئی ہوئی پارلیمنٹ

تصویر
   "عوام کی جائیداد، کارپوریٹ کی حکومت اور سوئی ہوئی پارلیمنٹ " پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس ملک میں ارکانِ اسمبلی کی مراعات، تنخواہوں میں اضافے یا شاہی پروٹوکول کی بات آئی، تو ایوان میں موجود تمام نظریاتی اختلافات پلک جھپکتے میں غائب ہو گئے۔ گھنٹوں لڑنے والے سیاستدان ایک دوسرے کے گلے لگ گئے اور بل چند منٹوں میں، بغیر کسی بحث کے، متفقہ طور پر پاس کر دیا گیا۔ لیکن جب معاملہ ایک عام پاکستانی کے بنیادی حقوق، اس کی نجی املاک کے تحفظ اور اس کی جیب پر ڈاکے کا ہو، تو ہماری قومی اسمبلی ایک ایسی 'ربڑ اسٹیمپ' بن جاتی ہے جس کا کام صرف طاقتور حلقوں اور کارپوریٹ مافیا کی فائلوں پر انگوٹھا لگانا رہ جاتا ہے۔ حالیہ "پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026" اس مجرمانہ غفلت اور عوامی بیگانگی کی بدترین مثال ہے۔ قومی اسمبلی سے انتہائی خاموشی اور عجلت میں پاس کرایا جانے والا یہ بل کوئی عام قانون نہیں، بلکہ نجی ٹیلی کام کمپنیوں کو ایک عام شہری کے گھر، چھت اور جائیداد پر زبردستی قبضہ کرنے کا قانونی لائسنس ہے۔ بل کی شقیں پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اگر کوئی کمپنی آپ کے گھر ک...

"ایران۔امریکہ عبوری معاہدہ: امن کی پہلی کرن یا نئے طوفان سے پہلے کا سکوت؟"

تصویر
 "ایران۔امریکہ عبوری معاہدہ: امن کی پہلی کرن یا نئے طوفان سے پہلے کا سکوت؟" ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض حلقے اسے امن کی جانب پہلا قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ  کچھ ماہرین کے نزدیک یہ صرف ایک عارضی وقفہ ہے جو کسی بڑے تصادم سے پہلے کا سکوت بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے نے کئی ماہ سے جاری فوجی کشیدگی کو وقتی طور پر روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن بیشتر مبصرین اسے مستقل امن کی بجائے ایک عبوری جنگ بندی تصور کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ پائیدار امن کی بنیاد بنے گا یا ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوگا؟ اس معاہدے کا سب سے فوری اور مثبت پہلو فوجی کارروائیوں میں نمایاں کمی ہے۔ جس انداز سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا تھے، اس سے نہ صرف خلیجی ریاستیں بلکہ پوری عالمی معیشت خطرات سے دوچار ہو رہی تھی۔ معاہدے کے نتیجے میں تیل کی اہم بحری گزرگاہوں کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں نسبتاً استحکام آیا ہے۔ اسی طرح ایران کو اپ...

حیاتیاتی گھڑی اور انسانی زندگی

تصویر
 انسان کی زندگی میں وقت ہمیشہ ایک بنیادی قوت رہا ہے۔ سورج کا طلوع و غروب، دن اور رات کا تسلسل اور موسموں کی آمد و رفت ہماری حیات کے دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔ مگر وقت صرف باہر نہیں، ہمارے اندر بھی دھڑکتا ہے۔ جسم کے اندر ایک ایسی گھڑی موجود ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ کب جاگنا ہے، کب سونا ہے، کب بھوک لگنی ہے اور کب توانائی کے چشمے پھوٹنے ہیں۔ اسی کو سائنس کی زبان میں سرکیڈین ردھم یا حیاتیاتی گھڑی کہا جاتا ہے۔ یہ گھڑی دماغ کے ایک حصے میں موجود دماغی حیاتیاتی گھڑی کا مرکز ہے، جو روشنی اور اندھیرے کے اشاروں سے پورے جسم کو ہدایت دیتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں "میلاٹونن" نامی ہارمون بڑھتا ہے اور ہمیں نیند آنے لگتی ہے، صبح کے وقت "کارٹیسول" زیادہ ہوتا ہے جو دن کے آغاز کے لیے توانائی بخشتا ہے۔ جسم کا درجہ حرارت دن میں بلند اور رات کو کم ہو جاتا ہے، اور ہاضمہ بھی اسی تال کے مطابق چلتا ہے۔ یہ اندرونی نظام اگر بگڑ جائے تو نیند کی کمی، یادداشت کی کمزوری، موٹاپا، ذیابیطس اور ڈپریشن جیسی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان اس نظام کو سمجھنے پر زور دیتے ہیں تاکہ انسان اپنی زن...

آئی ایم ایف کا لگان

تصویر
  سنیما کی تاریخ میں کچھ مناظر صرف منظر نہیں رہتے، وہ معاشروں کی ذہنیت بن جاتے ہیں۔ فلم لگان کا وہ منظر آج بھی ایک زخم کی طرح یاد رہتا ہے، جہاں خشک سالی سے جلتے ہوئے گاؤں میں کسان امید کے آخری ٹکڑے کو بھون کے گرد جمع کر لیتے ہیں۔ زمین جل رہی ہے، کنویں مر چکے ہیں، آسمان جیسے زمین کے خلاف اعلانِ جنگ کر چکا ہے، اور اسی لمحے کپتان رسل محل کے جھروکے سے حکم دیتا ہے: "لگان دگنا دینا ہوگا!" یہ جملہ صرف ٹیکس نہیں تھا، یہ ایک تہذیب کا اعلان تھا۔ طاقت کے سامنے انسان کی بے بسی کا اعلان تھا۔ کسان ہاتھ جوڑتے ہیں، دہائیاں دیتے ہیں، مگر دربار میں گونج صرف ایک ہی ہے: حکم اوپر سے آیا ہے۔ اور حکم پر سوال نہیں ہوتا۔ اگر نجات چاہیے تو شرط سادہ ہے: غیر مساوی کھیل میں جیت کر دکھاؤ۔ آج جب مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش ہو رہا تھا، تو یوں لگا جیسے تاریخ نے خود کو ریبوٹ کر لیا ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب کپتان رسل گھوڑے پر نہیں آتا۔ اب وہ کسی جھروکے میں بھی نہیں بیٹھتا۔ اب وہ کہیں بہت دور، فائلوں، شرائط اور معاہدوں کے درمیان چھپا ہوتا ہے۔ اور یہاں نیچے اس کے فیصلوں کی گرد عام آدمی کے سانسوں میں اترتی ہے۔...

فٹبال ورلڈ کپ اور امن کا عالمی پیغام

تصویر
  دنیا اس وقت ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف جنگوں کی گھن گرج ہے، میزائلوں کی آوازیں ہیں، سیاسی اختلافات ہیں اور طاقت کی کشمکش ہے، تو دوسری طرف امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی میزبانی میں جاری فٹبال ورلڈ کپ میں دنیا کے مختلف ممالک ایک ہی میدان میں جمع ہیں۔ وہاں ہتھیار نہیں، گیند چلتی ہے؛ بارود نہیں، تالیوں کی گونج سنائی دیتی ہے؛ نفرت نہیں، کھیل کا جذبہ غالب آتا ہے۔ فٹبال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اور فیفا ورلڈ کپ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں انسانوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ یہ ایسا ایونٹ ہے جسے نسل، مذہب، زبان اور سیاست کی سرحدوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہے۔ اس بار کا عالمی کپ ایک اور وجہ سے بھی منفرد ہے کہ دنیا کے کئی ممالک باہمی سیاسی کشیدگی کے باوجود ایک ہی ٹورنامنٹ میں شریک ہیں۔ خاص طور پر ایران کی شرکت اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ کھیل بعض اوقات سفارت کاری سے بھی زیادہ طاقتور زبان بولتے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، مگر میدان میں کھلاڑی اپنے ملک کی نمائندگی کھیل کے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دنیا کو احساس ہوتا ہے کہ اختلاف کے باوجود رابطہ مم...