ہم ترقی کر رہے ہیں یا صرف تیزی سے تباہ ہو رہے ہیں؟
" ہم ترقی کر رہے ہیں یا صرف تیزی سے تباہ ہو رہے ہیں؟" انسان نے ترقی بہت کر لی ہے۔ اتنی ترقی کہ اب اسے یہ سوچنے کے لیے بھی ایک کانفرنس بلانی پڑتی ہے کہ ترقی آخر ہوتی کیا ہے۔ ہم نے شہر بنا لیے، سڑکیں بنا لیں، بلند و بالا عمارتیں کھڑی کر دیں، جنگل کاٹ دیے، پہاڑ کھود ڈالے، دریا روک لیے اور سمندر کے کناروں پر کنکریٹ بچھا دی۔ ہماری ترقی کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ ہم مسئلہ پیدا کرنے کے بعد اس کے حل کے لیے بھی پوری سنجیدگی سے کام کرتے ہیں۔ البتہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ حل تلاش کرتے ہوئے ہم کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں کریں گے۔ ہم نے زمین کو استعمال کرنے کی بجائے اسے کھانا شروع کر دیا ہے۔جنگل ہمارے لیے لکڑی ہیں، پہاڑ پتھر ہیں، دریا پانی ہیں، زمین پلاٹ ہے اور سمندر کچرے کا آخری ٹھکانہ۔ قدرت نے ہمیں ایک خوبصورت دنیا دی تھی، ہم نے اس کا نقشہ دیکھا اور فوراً سوچا کہ یہاں کہاں کہاں ہاؤسنگ سوسائٹی بن سکتی ہے۔ ہماری معیشت کا پہیہ چلتا رہنا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں پیداوار چاہیے، پیداوار کے لیے خام مال چاہیے، خام مال کے لیے زمین چاہیے اور زمین کے لیے... خیر، زمین تو موجود ہے، فی الحال اسے ا...