اشاعتیں

ستمبر, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نئے صوبے، نئے منصوبے

تصویر
  "نئے صوبے، نئے منصوبے" کچھ عرصہ پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کے موجودہ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسے ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی نظام اسی طرح چلتا رہا تو دس سال بعد بھی ہم انہی مسائل پر بات کر رہے ہوں گے۔ پھر بات نظام کی اصلاح سے آگے بڑھی اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت سامنے آئی۔ کچھ عرصہ اس طرح ہلکی پھلکی بحث ہوتی رہی۔ لیکن اب ایک بار پھر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا معاملہ زور و شور سے قومی سیاست میں واپس آ گیا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی وزارت میں رہیں یا نہ رہیں، نئے صوبوں کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے نزدیک بہتر انتظام کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں، تاہم یہ فیصلہ عوام کی رائے اور قومی اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی موجودہ انتظامی ڈھانچے پر سوال اٹھاتے ہوئے دو راستے تجویز کیے ہیں: یا ملک میں تقریباً 160 بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کی جائیں یا پھر 12 سے 15 صوبے بنائے جائیں۔ یوں ایک اہم قومی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ کیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے، یا...