اشاعتیں

ستمبر, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہپی ، ساگ اور ڈیڑھ انچ کی مسجد

تصویر
  " ہِپی، ساگ اور ڈیڑھ انچ کی مسجد " ایک زمانہ تھا جب مغرب کا نوجوان مشرق کی طرف آتا تھا۔ لمبے بال، گلے میں مالا، کندھے پر تھیلا، ہاتھ میں گٹار اور جیب میں اتنے پیسے کہ بس اگلے پڑاؤ تک پہنچ جائے۔ اسے اپنے معاشرے کی چمک دمک سے اکتاہٹ تھی۔ جنگوں سے نفرت تھی، مادہ پرستی سے بیزاری تھی اور زندگی کو کچھ اور طرح سے دیکھنے کی خواہش تھی۔ یہ لوگ ہِپی کہلاتے تھے ۔ افغانستان، پاکستان، بھارت اور نیپال ان کے سفر کے نقشے پر تھے۔ جہاں جاتے مقامی لوگوں میں گھل مل جاتے۔ زمین پر بیٹھتے، وہی کھانا کھاتے جو میزبان دیتے۔ اور بعض تو چرس اور دوسرے مقامی منشیات بھی استعمال کرتے تھے۔  اس وقت ہِپیوں کے بارے میں کافی لطیفے بھی مشہور ہوئے۔  ایک ہِپی کو بھوک لگی۔ سوات کے ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے ایک خاتون نے پوچھا، "کون ہے؟" ہِپی نے کہا، "بھوک لگی ہے، کچھ کھانے کو دے دیں۔" ترور نے مکئی کی بڑی سی تندوری روٹی نکالی، اس پر ساگ رکھا اور اسے دے دیا۔ ہِپی نے ساگ کھائی اور مکئی کی روٹی ہاتھ میں اٹھا کر بڑی شرافت سے کہا: "ترور، دا پلیټ مو واخلي!" یعنی، "ترور، یہ پل...

اب میں بولوں کہ نہ بولوں

تصویر
 "اب میں بولوں کہ نہ بولوں " پی ٹی وی پشاور کے ایک زمانے کے مقبول طنزیہ پروگرام میں افتخار قیصر ایک خاص انداز سے اپنے طنزیہ اشعار سنایا کرتے تھے۔ پہلے ذرا ٹھہر کر پوچھتے: "اب میں بولوں کہ نہ بولوں؟" ۔پسِ منظر سے آوازیں آتیں: "بولو… بولو!" وہ کچھ دیر خاموش رہتے، پھر دھیرے سے کہتے: "بولا… بولا…" اور اس کے بعد ایسا شعر آتا کہ ہنسی بھی آتی اور آدمی کو سوچنے پر بھی مجبور کر دیتا۔ آج نہ جانے کیوں وہی جملہ بار بار ذہن میں آ رہا ہے۔ اب میں بولوں کہ نہ بولوں؟ پسِ منظر سے پھر جیسے آواز آ رہی ہے: "بولو… بولو!" تو بولا… بولا… کچھ دنوں سے دل میں ایک عجیب سی بے چینی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایک کے بعد ایک دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ پولیس اور آرمی کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ عام شہری بھی اس آگ کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ کوہاٹ میں پولیس کمپلیکس پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر گئی، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ ہنگو میں بھی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے افسر اور جوان، فوجی اہلکار اور عام شہری جانیں کھو رہ...

" کیا مصنوعی ذہانت اگلے دس برس میں انسانیت ختم کر دے گی؟"

تصویر
 " کیا مصنوعی ذہانت اگلے دس برس میں انسانیت ختم کر دے گی؟" آج کل مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک خطرناک شوشہ گردش میں ہے کہ اگر یہ اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو اگلے دس برس میں پوری انسانیت کو ختم کر سکتی ہے۔ پہلی نظر میں یہ کسی سائنس فکشن فلم کا مکالمہ لگتا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خدشہ خود مصنوعی ذہانت کی دنیا کے بعض سنجیدہ سائنس دانوں کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس میں حقیقت کتنی ہے اور خوف کتنا؟ حال ہی میں مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے ایک معروف محقق ایون ہیوبنگر نے ذاتی اندازہ ظاہر کیا کہ اگلی دہائی میں انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کا خطرہ دس فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہر جیفری ہنٹن نے بھی ایسے خطرے کے امکان کو غیرمعقول قرار نہیں دیا۔ یہ باتیں نظرانداز کرنے کے قابل نہیں، کیونکہ خدشہ کسی فلمی مصنف یا واٹس ایپ یونیورسٹی کے پروفیسر نے نہیں بلکہ اسی ٹیکنالوجی کے اندر کام کرنے والے لوگوں نے ظاہر کیا ہے۔ لیکن یہاں میڈیا کی سنسنی خیزی اور سائنسی حقیقت میں فرق کرنا ضروری ہے۔ کسی سائنس دان کا دس فیصد خطرہ بتانا یہ پ...

نئے صوبے، نئے منصوبے

تصویر
  "نئے صوبے، نئے منصوبے" کچھ عرصہ پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کے موجودہ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسے ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی نظام اسی طرح چلتا رہا تو دس سال بعد بھی ہم انہی مسائل پر بات کر رہے ہوں گے۔ پھر بات نظام کی اصلاح سے آگے بڑھی اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت سامنے آئی۔ کچھ عرصہ اس طرح ہلکی پھلکی بحث ہوتی رہی۔ لیکن اب ایک بار پھر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا معاملہ زور و شور سے قومی سیاست میں واپس آ گیا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی وزارت میں رہیں یا نہ رہیں، نئے صوبوں کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے نزدیک بہتر انتظام کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں، تاہم یہ فیصلہ عوام کی رائے اور قومی اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی موجودہ انتظامی ڈھانچے پر سوال اٹھاتے ہوئے دو راستے تجویز کیے ہیں: یا ملک میں تقریباً 160 بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کی جائیں یا پھر 12 سے 15 صوبے بنائے جائیں۔ یوں ایک اہم قومی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ کیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے، یا...