نئے صوبے، نئے منصوبے

 

"نئے صوبے، نئے منصوبے"

کچھ عرصہ پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کے موجودہ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسے ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی نظام اسی طرح چلتا رہا تو دس سال بعد بھی ہم انہی مسائل پر بات کر رہے ہوں گے۔

پھر بات نظام کی اصلاح سے آگے بڑھی اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت سامنے آئی۔ کچھ عرصہ اس طرح ہلکی پھلکی بحث ہوتی رہی۔ لیکن اب ایک بار پھر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا معاملہ زور و شور سے قومی سیاست میں واپس آ گیا ہے۔

محسن نقوی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی وزارت میں رہیں یا نہ رہیں، نئے صوبوں کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے نزدیک بہتر انتظام کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں، تاہم یہ فیصلہ عوام کی رائے اور قومی اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔

دوسری طرف وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی موجودہ انتظامی ڈھانچے پر سوال اٹھاتے ہوئے دو راستے تجویز کیے ہیں: یا ملک میں تقریباً 160 بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کی جائیں یا پھر 12 سے 15 صوبے بنائے جائیں۔

یوں ایک اہم قومی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

کیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے، یا اسے ایک نئے انتظامی نظام کی ضرورت ہے؟

ممکن ہے جواب دونوں میں پوشیدہ ہو۔

پاکستان کی آبادی، شہری مسائل اور معاشی ضروریات کئی دہائیاں پہلے کے پاکستان سے بالکل مختلف ہیں۔ آج ایک صوبہ بعض اوقات اتنا وسیع اور آبادی کے اعتبار سے اتنا بڑا ہے کہ دور دراز علاقوں کے شہریوں کے لیے صوبائی حکومت عملاً بہت دور کی حکومت بن جاتی ہے۔ اسلئے کچھ حلقے نئے صوبوں کی بات بہت شدومد کے ساتھ کرتے ہیں۔ 

لیکن نیا صوبہ صرف نقشے پر ایک نئی لکیر نہیں ہوتا۔ نئے صوبے کے ساتھ نئی اسمبلی، نیا سیکرٹریٹ، نئے محکمے، نئی بیوروکریسی اور نئے انتظامی اخراجات بھی آتے ہیں۔ اگر ہم ایک بڑے صوبے کو تقسیم کرکے کئی چھوٹے صوبے بنا دیں، مگر ان میں وہی پرانا انتظامی کلچر، وہی مرکزیت اور وہی کمزور مقامی حکومتیں برقرار رہیں تو عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟ شاید صرف یہ کہ اس کے صوبائی دارالحکومت کا نام بدل جائے گا۔

اسی لیے نئے صوبوں کی بحث کو صرف سیاسی یا لسانی مسئلہ بنانے کے بجائے حکمرانی اور ترقی کا مسئلہ بنانا ہوگا۔ نیا صوبہ بنے تو اس کے ساتھ ایک واضح دس، بیس اور تیس سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی سامنے آنا چاہیے۔ کتنی یونیورسٹیاں بنیں گی؟ کتنے بڑے ہسپتال قائم ہوں گے؟ کتنی صنعتیں لگیں گی؟ نوجوانوں کے لیے روزگار کہاں پیدا ہوگا؟

 بجلی اور پانی کی ضروریات کیسے پوری ہوں گی؟ زراعت اور مقامی معیشت کیسے مضبوط ہوگی؟

اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نیا صوبہ اپنے اخراجات کا کتنا حصہ خود پیدا کرے گا؟

اگر ان سوالات کے جواب ہمارے پاس نہیں تو پھر نئے صوبے محض نئے دفاتر ہوں گے، نئی ترقی نہیں۔

یہاں احسن اقبال کی بااختیار ضلعی حکومتوں کی تجویز بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگر اختیار واقعی ضلع، تحصیل اور مقامی سطح تک منتقل کر دیا جائے، منتخب مقامی حکومتوں کو مالی وسائل دیے جائیں اور شہری کو اپنے بنیادی مسئلے کے لیے صوبائی دارالحکومت جانے کی ضرورت نہ رہے تو شاید صوبوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت بھی کم ہو جائے۔ لیکن اگر مقامی حکومتیں بے اختیار رہیں اور سارا اختیار چند بڑے شہروں میں مرکوز رہے تو چار صوبوں کی جگہ بارہ یا پندرہ صوبے بنا دینے سے مسئلہ کہاں حل ہوگا؟

ہمیں صوبے چھوٹے کرنے سے پہلے حکومت کو عوام کے قریب کرنا ہوگا۔ نئے صوبوں کے قیام میں ایک اور اصول بھی بنیادی ہونا چاہیے۔ یہ فیصلہ زبان، نسل یا برادری کی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی ضرورت، عوامی سہولت اور معاشی امکانات کی بنیاد پر ہو۔ پاکستان پہلے ہی شناخت کی سیاست کے تلخ تجربات سے گزر چکا ہے۔ اگر نئے صوبے کسی ایک شناخت کی فتح اور دوسری کی شکست بنا دیے گئے تو ایک انتظامی اصلاح نئے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر مقصد یہ ہو کہ ریاست شہری کے قریب آئے، فیصلے جلد ہوں، وسائل منصفانہ تقسیم ہوں اور پسماندہ علاقوں کو ترقی کا برابر موقع ملے تو نئے انتظامی یونٹس پاکستان کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

البتہ یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنا محض سیاسی اعلان سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے آئینی طریقۂ کار اور متعلقہ صوبائی اسمبلی سمیت پارلیمان کی مطلوبہ اکثریت درکار ہے۔

یعنی ابھی ہمارے سامنے فیصلہ نہیں، ایک بحث ہے۔

اور شاید یہی اس بحث کو سنجیدگی سے شروع کرنے کا بہترین وقت ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھیں۔ انتظامی ماہرین، ماہرینِ معیشت، آئینی ماہرین اور سب سے بڑھ کر عام شہریوں کو اس بحث میں شامل کیا جائے۔ یہ طے کیا جائے کہ پاکستان کے لیے کون سا انتظامی ڈھانچہ زیادہ مؤثر ہے۔ چار بڑے صوبے، بارہ یا پندرہ چھوٹے صوبے، یا بااختیار مقامی حکومتوں پر مشتمل کوئی نیا ماڈل؟

کیونکہ صوبے پانچ سال کے لیے نہیں بنتے۔ صوبے نسلوں کے لیے بنتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اس مرتبہ پہلے نقشہ نہیں بنانا چاہیے۔ پہلے منصوبہ بنانا چاہیے۔ اگر نیا صوبہ بنتا ہے تو وہ نیا ہسپتال بھی بنائے، نئی یونیورسٹی بھی، نئی صنعت بھی، روزگار کے نئے مواقع بھی، بہتر سڑکیں بھی اور مضبوط مقامی حکومت بھی۔ ہمیں نئے سیکرٹریٹ سے پہلے نئی حکمرانی چاہیے۔ نئی اسمبلی سے پہلے نئی جواب دہی چاہیے۔ نئی سرحد سے پہلے نئی معیشت چاہیے۔ اور نئے صوبے سے پہلے نیا منصوبہ چاہیے۔ ورنہ خطرہ یہ ہے کہ ہم پاکستان کے نقشے پر نئی لکیریں تو کھینچ دیں گے، مگر پاکستانیوں کی زندگی میں کوئی نئی لکیر نہیں کھینچ سکیں گے۔

محسن نقوی نے نظام کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کی بات کی ہے۔ احسن اقبال نے 160 بااختیار اضلاع یا 12 سے 15 صوبوں کا راستہ دکھایا ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ بحث نعروں سے نکل کر قومی منصوبہ بندی تک پہنچے۔ آخرکار اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے کتنے شہریوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ریاست ان کے قریب ہے۔

نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں، پاکستان کو بہرحال ایک نیا انتظامی منصوبہ ضرور چاہیے۔

نئے صوبے، نئے منصوبے۔


ندیم فاروقی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

850 روپے والا پاکستان کہاں گیا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں