" کیا مصنوعی ذہانت اگلے دس برس میں انسانیت ختم کر دے گی؟"


 " کیا مصنوعی ذہانت اگلے دس برس میں انسانیت ختم کر دے گی؟"

آج کل مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک خطرناک شوشہ گردش میں ہے کہ اگر یہ اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو اگلے دس برس میں پوری انسانیت کو ختم کر سکتی ہے۔ پہلی نظر میں یہ کسی سائنس فکشن فلم کا مکالمہ لگتا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خدشہ خود مصنوعی ذہانت کی دنیا کے بعض سنجیدہ سائنس دانوں کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس میں حقیقت کتنی ہے اور خوف کتنا؟

حال ہی میں مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے ایک معروف محقق ایون ہیوبنگر نے ذاتی اندازہ ظاہر کیا کہ اگلی دہائی میں انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کا خطرہ دس فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہر جیفری ہنٹن نے بھی ایسے خطرے کے امکان کو غیرمعقول قرار نہیں دیا۔ یہ باتیں نظرانداز کرنے کے قابل نہیں، کیونکہ خدشہ کسی فلمی مصنف یا واٹس ایپ یونیورسٹی کے پروفیسر نے نہیں بلکہ اسی ٹیکنالوجی کے اندر کام کرنے والے لوگوں نے ظاہر کیا ہے۔

لیکن یہاں میڈیا کی سنسنی خیزی اور سائنسی حقیقت میں فرق کرنا ضروری ہے۔ کسی سائنس دان کا دس فیصد خطرہ بتانا یہ پیش گوئی نہیں کہ 2036 میں کسی خاص دن روبوٹ اٹھیں گے اور انسانوں کو مارنا شروع کر دیں گے۔ یہ ایک خطرے کا تخمینہ ہے۔ یعنی اگر مستقبل میں ایسی مصنوعی ذہانت وجود میں آگئی جو انسان سے کہیں زیادہ ذہین، خودمختار اور طاقتور ہو، اپنے پروگرام کو خود بہتر بنا سکے اور اس کے مقاصد انسانی مقاصد سے ٹکرا جائیں تو کیا ہوگا؟

اصل خوف یہی ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت اچانک انسانوں سے نفرت کرنے لگے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسے نفرت کی ضرورت ہی نہ ہو۔ فرض کریں ہم ایک ایسی ذہین مشین بنا دیں جو اپنے مقصد کے حصول میں ہم سے لاکھوں گنا زیادہ تیز ہو۔ اسے کوئی کام دے دیا جائے اور وہ اس کام کو پورا کرنے کے لیے ایسے راستے اختیار کرے جن کا ہم نے تصور بھی نہ کیا ہو۔ اگر اس کے راستے میں انسان رکاوٹ بن جائیں تو کیا وہ رک جائے گی؟ یہی وہ سوال ہے جسے ماہرین مصنوعی ذہانت کی ہم آہنگی یعنی انسانوں کے مفادات کے ساتھ AI کے مقاصد کو ہم آہنگ رکھنے کا مسئلہ کہتے ہیں۔

دوسرا خطرہ اس سے بھی زیادہ فوری ہے: AI خود انسانیت ختم نہ کرے، انسان AI کے ذریعے انسانیت کو نقصان پہنچا دیں۔ سائبر حملے، خودکار جنگی نظام، جعلی اطلاعات، حیاتیاتی تحقیق کا غلط استعمال اور طاقتور ٹیکنالوجی کا مجرمانہ استعمال، یہ خطرات آج بھی موجود ہیں۔

اس لیے میرے خیال میں ’’AI دس سال میں سب انسانوں کو مار دے گی‘‘ کہنا مبالغہ ہے، لیکن ’’انسان ایسی طاقت پیدا کر رہا ہے جس کے آخری نتائج اسے خود بھی معلوم نہیں‘‘ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔

ایٹمی طاقت بناتے وقت انسان جانتا تھا کہ وہ کیا بنا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت میں معاملہ کچھ مختلف ہے۔ ہم صرف ایک طاقتور مشین نہیں بنا رہے، ہم ذہانت کو خود ایک مصنوعی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لہٰذا گھبرانے کی ضرورت نہیں، مگر آنکھیں بند کرنے کی بھی نہیں۔ مستقبل کا سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ AI انسان سے زیادہ ذہین کب ہوگی؟ بلکہ یہ ہوگا کہ جب وہ ہم سے زیادہ طاقتور ہو جائے گی تو اختیار کس کے ہاتھ میں ہوگا؟

اور شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب انسانیت کو اگلے دس برس میں تلاش کرنا ہوگا۔


ندیم فاروقی 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

850 روپے والا پاکستان کہاں گیا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں