چین کا طوطا اور سیاسی نسخہ


 


"چین کا طوطا اور سیاسی نسخہ"

بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی، ’’چین کا طوطا‘‘۔ اس وقت یہ صرف ایک دلچسپ حکایت لگی تھی، لیکن آج کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے بچوں کی کہانیوں میں بھی سیاسی اور دفاعی حکمتِ عملی چھپا رکھی تھی، بس ہم ہی ناسمجھ نکلے۔
قصہ کچھ یوں تھا کہ ایک تاجر کے پاس پنجرے میں بند ایک طوطا تھا۔ تاجر چین جانے لگا تو طوطے نے کہا: ’’وہاں کے طوطوں کو میرا سلام کہنا۔‘‘ تاجر نے چین پہنچ کر درخت پر بیٹھے طوطوں کو سلام پہنچایا تو ایک چینی طوطا یہ سنتے ہی نیچے گرا اور ٹھنڈا ہو گیا۔ تاجر واپس آیا تو اس نے اپنے طوطے کو یہ دلخراش واقعہ سنایا۔ واقعہ سنتے ہی اس کے طوطے نے بھی آنکھیں بند کیں، ٹانگیں اوپر کیں اور پنجرے کے فرش پر گر گیا۔
تاجر نے سوچا، طوطا صدمے سے مر گیا ہے۔ اس نے افسوس کرتے ہوئے پنجرے کا دروازہ کھول کر اسے باہر نکالنا چاہا۔ جیسے ہی تاجر کا ہاتھ ہٹا، طوطا سائیں سے اڑا، درخت کی شاخ پر جا بیٹھا اور بولا: ’’چینی طوطے نے مجھے رہائی کا نسخہ بھیجا تھا!‘‘
یعنی چینی طوطا مرا نہیں تھا، اس نے صرف یہ پیغام دیا تھا کہ جب تک مالک کو یہ یقین نہ دلاؤ کہ تم میں اب دم نہیں رہا، وہ پنجرہ کبھی نہیں کھولے گا۔
یہ کہانی آج کی پاکستانی سیاست، بالخصوص پی ٹی آئی اور عمران خان کی رہائی کی تحریک پر عجیب طرح سے فٹ بیٹھتی ہے۔
پارٹی مسلسل متحرک ہے، اسلام آباد مارچ کی کالز دی جا رہی ہیں، تاریخیں آگے بڑھ رہی ہیں، سڑکوں پر کنٹینرز کا راج ہے، گرفتاریوں کا دور چل رہا ہے اور روزانہ نعرے گونج رہے ہیں۔ یعنی پنجرہ بھی اپنی جگہ مضبوط ہے اور طوطا بھی شور مچانے سے باز آنے کو تیار نہیں۔
اب ذرا فرض کریں کہ وہ چینی طوطا اس وقت پاکستان کے کسی کنٹینر پر آ کر بیٹھ جائے، تو وہ یقیناً حیرت سے سر پکڑ کر پوچھے گا: ’’بزرگو! تمہیں واقعی رہائی چاہیے یا صرف پنجرے کے باہر کھڑے ہو کر شور مچانے کا شوق ہے؟‘‘
پی ٹی آئی کا جوشِ خطابت کہتا ہے: ’’ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، ہم اپنی طاقت دکھائیں گے!‘‘ چینی طوطا ٹھنڈی آہ بھر کر کہے گا: ’’اصل مسئلہ ہی یہی ہے!‘‘
جب تک اقتدار کے مالک کو یہ محسوس نہ ہو کہ اندر موجود طوطے کی ’’سیاسی پرواز‘‘ کا وقت ختم ہو چکا ہے، وہ پنجرے کی کنڈی کیوں کھولے گا؟ آپ جتنا پر پھڑپھڑائیں گے، جتنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے، مالک اتنے ہی ڈبل تالے لگائے گا اور کہے گا: ’’بھائی! جب اتنی جان باقی ہے تو پنجرہ بند ہی سہی۔‘‘
چینی طوطے کی دانشمندی یہ تھی کہ اس نے طاقت کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ مالک کی نفسیات سے کھیلا۔ اسے معلوم تھا کہ آزادی کی پہلی شرط یہ ہے کہ مخالف کو بے فکر کر دیا جائے۔
مگر ہمارے سیاسی طوطے بھی عجیب مخلوق ہیں۔ یہ آزادی بھی مانگتے ہیں، احتجاج بھی کرتے ہیں، اور ساتھ ہی مائیک پر چلا کر بتاتے بھی ہیں: ’’دیکھو! ہم میں ابھی کتنی جان باقی ہے!‘‘
چینی طوطا شاید افسوس سے کہے: ’’بھائی! میں نے رہائی کا طریقہ بتایا تھا، اپنی طاقت کا اشتہار لگانے کا نہیں!‘‘
اگر ہماری سیاست میں چینی طوطے والی حکمتِ عملی چل گئی، تو کہانی کا انجام کچھ یوں ہوگا: مالک سمجھے گا کہ قصہ ختم ہو گیا، وہ بے نیازی سے پنجرہ کھولے گا۔ طوطا فوراً اڑے گا، ہوا میں دو غوطے لگائے گا اور جاتے جاتے کہے گا: ’’حضور! میں سیاسی طور پر مر نہیں گیا تھا، بس ذرا آزادی کا ’چینی نسخہ‘ آزما رہا تھا!‘‘
سو اس کہانی کا حاصل یہی ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے لیے سچ مچ مرنا نہیں پڑتا، بس اقتدار کے مالک کی نظر میں خود کو ’’بے ضرر‘‘ ظاہر کرنا پڑتا ہے۔ پھر پنجرہ بھی کھلتا ہے، طوطا بھی اڑتا ہے اور مالک ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔

ندیم  فاروقی 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

850 روپے والا پاکستان کہاں گیا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں