ہم ترقی کر رہے ہیں یا صرف تیزی سے تباہ ہو رہے ہیں؟
" ہم ترقی کر رہے ہیں یا صرف تیزی سے تباہ ہو رہے ہیں؟"
انسان نے ترقی بہت کر لی ہے۔ اتنی ترقی کہ اب اسے یہ سوچنے کے لیے بھی ایک کانفرنس بلانی پڑتی ہے کہ ترقی آخر ہوتی کیا ہے۔ ہم نے شہر بنا لیے، سڑکیں بنا لیں، بلند و بالا عمارتیں کھڑی کر دیں، جنگل کاٹ دیے، پہاڑ کھود ڈالے، دریا روک لیے اور سمندر کے کناروں پر کنکریٹ بچھا دی۔
ہماری ترقی کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ ہم مسئلہ پیدا کرنے کے بعد اس کے حل کے لیے بھی پوری سنجیدگی سے کام کرتے ہیں۔ البتہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ حل تلاش کرتے ہوئے ہم کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں کریں گے۔ ہم نے زمین کو استعمال کرنے کی بجائے اسے کھانا شروع کر دیا ہے۔جنگل ہمارے لیے لکڑی ہیں، پہاڑ پتھر ہیں، دریا پانی ہیں، زمین پلاٹ ہے اور سمندر کچرے کا آخری ٹھکانہ۔ قدرت نے ہمیں ایک خوبصورت دنیا دی تھی، ہم نے اس کا نقشہ دیکھا اور فوراً سوچا کہ یہاں کہاں کہاں ہاؤسنگ سوسائٹی بن سکتی ہے۔
ہماری معیشت کا پہیہ چلتا رہنا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں پیداوار چاہیے، پیداوار کے لیے خام مال چاہیے، خام مال کے لیے زمین چاہیے اور زمین کے لیے... خیر، زمین تو موجود ہے، فی الحال اسے استعمال کر لیتے ہیں۔ آنے والی نسلوں کا مسئلہ بعد میں دیکھا جائے گا۔ یہی وہ "بعد میں" ہے جس نے شاید انسانی تہذیب کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ پانی بچائیں۔ پھر پانی کی بوتل خریدتے ہیں، آدھی پیتے ہیں اور باقی پھینک دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں درخت لگائیں۔ پھر درخت کے سائے میں کھڑے ہو کر سوچتے ہیں کہ یہاں اگر ایک دکان بن جائے تو زیادہ فائدہ ہوگا۔
ہم واقعی بڑے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم زمین سے محبت بھی بہت کرتے ہیں، بس اس شرط کے ساتھ کہ زمین ہماری ضرورت پوری کرتی رہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہم قدرتی وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم انہیں اس رفتار سے استعمال کر رہے ہیں جس رفتار سے وہ واپس نہیں آ سکتے۔
جنگل کو بننے میں دہائیاں لگتی ہیں، مگر کاٹنے میں چند گھنٹے۔ زیرِ زمین پانی کو جمع ہونے میں برسوں لگتے ہیں، مگر اسے نکالنے میں ایک موٹر کافی ہے۔ مٹی کو زرخیز ہونے میں وقت لگتا ہے، مگر اسے خراب کرنے کے لیے ہماری رفتار حیرت انگیز ہے۔ ہم نے ترقی کا ایک آسان فارمولا دریافت کر لیا ہے۔ آج جو کچھ مل سکتا ہے، استعمال کر لو۔ کل کا مسئلہ کل کے بچوں کا ہے۔ اور ہم آنے والی نسلوں کے بارے میں بہت فکرمند ہیں۔اسی لیے ہم ان کے حصے کا پانی بھی آج ہی استعمال کر رہے ہیں، ان کے حصے کے جنگل بھی کاٹ رہے ہیں اور ان کے حصے کی زمین بھی تعمیرات کے نیچے دبا رہے ہیں، تاکہ انہیں مستقبل میں یہ زحمت نہ ہو کہ وہ خود یہ سب کام کریں۔
ہماری ترقی یہ بھی ہے کہ ہم جتنا زیادہ پیدا کرتے ہیں، اتنا ہی زیادہ پھینکتے بھی ہیں۔ ہمیں نئی چیز خریدنے کے لیے پرانی چیز کے خراب ہونے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ صرف یہ احساس کافی ہے کہ مارکیٹ میں اس سے نیا ماڈل آ گیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ زمین پر ہماری ضرورت سے زیادہ چیزیں اور ہماری ضرورت سے کم جگہ رہ گئی ہے۔ ہم گھر بڑے کرتے جا رہے ہیں، الماریاں بڑی کر رہے ہیں، گاڑیاں بڑی کر رہے ہیں، خریداری بڑھا رہے ہیں، لیکن ہماری خوشی اتنی ہی رہ گئی ہے جتنی پہلے تھی۔ اگر ترقی کا مطلب یہ ہے کہ ہم زیادہ پیدا کریں، یا زیادہ استعمال کریں اور زیادہ پھینکیں، تو پھر اس ترقی کی آخری منزل کہاں ہے؟ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا صرف اپنی تباہی کی رفتار تیز کر رہے ہیں؟
ترقی یقیناً ضروری ہے۔ انسان کو آگے بڑھنا چاہیے۔ غربت ختم ہونی چاہیے، روزگار پیدا ہونا چاہیے، شہر آباد ہونے چاہئیں اور زندگی بہتر ہونی چاہیے۔
لیکن ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے گھر کی چھت اتار کر اس لیے خوش ہوں کہ ہمیں گھر بڑا کرنے کے لیے زیادہ جگہ مل گئی ہے۔ زمین کے وسائل محدود ہیں، مگر ہماری خواہشات لامحدود ہیں۔ اور یہی اصل مسئلہ ہے۔ ہم نے ترقی کو ضرورت سے زیادہ خواہش بنا دیا ہے اور خواہش کو ضرورت کا نام دے دیا ہے۔
اب وقت یہ سوچنے کا ہے کہ ترقی کی رفتار کم نہیں، ترقی کی سمت درست ہونی چاہیے۔ کیونکہ اگر ہم اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے اور راستے میں درخت، دریا، مٹی، پانی اور ہوا سب پیچھے چھوڑتے گئے تو ایک دن ہم ایک ایسی ترقی یافتہ دنیا میں پہنچ جائیں گے، جہاں رہنے کے لیے کوئی زمین باقی نہیں ہوگی۔
اور تب ہماری اگلی کانفرنس کا موضوع ہوگا: "زمین کو دوبارہ کیسے بنایا جائے؟" مگر بدقسمتی سے اس کانفرنس میں زمین شاید شریک نہ ہو سکے۔ کیونکہ ہم نے اسے بھی پہلے ہی استعمال کر لیا ہوگا۔
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں