"ایران۔امریکہ عبوری معاہدہ: امن کی پہلی کرن یا نئے طوفان سے پہلے کا سکوت؟"


 "ایران۔امریکہ عبوری معاہدہ: امن کی پہلی کرن یا نئے طوفان سے پہلے کا سکوت؟"


ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض حلقے اسے امن کی جانب پہلا قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ 

کچھ ماہرین کے نزدیک یہ صرف ایک عارضی وقفہ ہے جو کسی بڑے تصادم سے پہلے کا سکوت بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے نے کئی ماہ سے جاری فوجی کشیدگی کو وقتی طور پر روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن بیشتر مبصرین اسے مستقل امن کی بجائے ایک عبوری جنگ بندی تصور کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ پائیدار امن کی بنیاد بنے گا یا ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوگا؟

اس معاہدے کا سب سے فوری اور مثبت پہلو فوجی کارروائیوں میں نمایاں کمی ہے۔ جس انداز سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا تھے، اس سے نہ صرف خلیجی ریاستیں بلکہ پوری عالمی معیشت خطرات سے دوچار ہو رہی تھی۔ معاہدے کے نتیجے میں تیل کی اہم بحری گزرگاہوں کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں نسبتاً استحکام آیا ہے۔ اسی طرح ایران کو اپنے بعض منجمد اثاثوں تک رسائی ملنے کی توقع ہے، جو اس کی معیشت کے لیے ایک محدود مگر اہم ریلیف ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے نے سب سے حساس اور بنیادی مسائل کو ابھی حتمی طور پر حل نہیں کیا۔ ایران کا ایٹمی پروگرام، اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، اور خطے میں اس کی حمایت یافتہ مسلح تنظیموں کا معاملہ بدستور مذاکرات کا حصہ ہے۔ مستقبل کا انحصار انہی پیچیدہ موضوعات پر ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔

اگر بعض حلقے اس معاہدے کو ایران کی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں تو اس کے خطے کے دیگر ممالک پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران اسے امریکی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود اپنی ثابت قدمی کی علامت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کا نیا حساب کتاب جنم لے سکتا ہے۔

خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اس پیش رفت نے ان ممالک کو اپنی سلامتی کی حکمتِ عملی پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ یورپی اور ایشیائی طاقتوں کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھائیں، اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید مضبوط کریں یا خطے میں نئے اتحاد تشکیل دیں۔ ایسی تبدیلیاں مستقبل کی جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف اس معاملے میں مختلف ہے۔ اسرائیلی قیادت بارہا اشارہ دے چکی ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے معاملات میں آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر یکطرفہ فوجی کارروائی سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام اور اس کی علاقائی سرگرمیوں کو اپنے لیے ایک وجودی خطرہ سمجھتا ہے، اس لیے مستقبل میں کسی بھی مرحلے پر نئی کشیدگی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس پوری صورتحال میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار کے ساتھ ابھرا ہے۔ اگرچہ اس ثالثی نے اسلام آباد کی عالمی سفارتی اہمیت میں اضافہ کیا ہے اور ایران کے ساتھ اقتصادی و توانائی تعاون کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ پاکستان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے خلیجی شراکت داروں، امریکہ اور ایران کے درمیان متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھے۔ یہی توازن مستقبل میں اس کی سب سے بڑی آزمائش ہوگا۔

مستقبل کے حوالے سے کئی امکانات موجود ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر آئندہ مذاکرات ناکام ہوئے یا کسی بھی فریق نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو دوبارہ جنگ بھڑک سکتی ہے۔ دوسرا، دونوں ممالک طویل المدت جنگ بندی پر متفق ہو جائیں مگر پراکسی محاذوں پر کشیدگی جاری رہے۔ تیسرا، ایران کی مضبوط ہوتی پوزیشن خلیجی ممالک کو نئے دفاعی اتحاد قائم کرنے پر آمادہ کرے، جہاں چین یا روس کا کردار بھی بڑھ سکتا ہے اور پاکستان ایک کلیدی ثالث کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ چوتھا، اور شاید سب سے مشکل راستہ، ایک جامع امن معاہدہ ہے جس کے لیے دہائیوں پر محیط بداعتمادی اور تنازعات کا خاتمہ ناگزیر ہوگا۔


تاریخ گواہ ہے کہ بندوقوں کی خاموشی ہمیشہ امن کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اصل امتحان مذاکراتی میز پر اعتماد، برداشت اور سیاسی بصیرت کا ہوتا ہے۔ آنے والے مہینے طے کریں گے کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی بنیاد بنتا ہے یا محض ایک ایسی مہلت ثابت ہوتا ہے جس کے بعد ایک نئی اور شاید زیادہ خطرناک کشیدگی جنم لے۔



~ ندیم فاروقی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں