آئی ایم ایف کا لگان
سنیما کی تاریخ میں کچھ مناظر صرف منظر نہیں رہتے، وہ معاشروں کی ذہنیت بن جاتے ہیں۔ فلم لگان کا وہ منظر آج بھی ایک زخم کی طرح یاد رہتا ہے، جہاں خشک سالی سے جلتے ہوئے گاؤں میں کسان امید کے آخری ٹکڑے کو بھون کے گرد جمع کر لیتے ہیں۔ زمین جل رہی ہے، کنویں مر چکے ہیں، آسمان جیسے زمین کے خلاف اعلانِ جنگ کر چکا ہے، اور اسی لمحے کپتان رسل محل کے جھروکے سے حکم دیتا ہے: "لگان دگنا دینا ہوگا!"
یہ جملہ صرف ٹیکس نہیں تھا، یہ ایک تہذیب کا اعلان تھا۔ طاقت کے سامنے انسان کی بے بسی کا اعلان تھا۔
کسان ہاتھ جوڑتے ہیں، دہائیاں دیتے ہیں، مگر دربار میں گونج صرف ایک ہی ہے: حکم اوپر سے آیا ہے۔ اور حکم پر سوال نہیں ہوتا۔ اگر نجات چاہیے تو شرط سادہ ہے: غیر مساوی کھیل میں جیت کر دکھاؤ۔
آج جب مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش ہو رہا تھا، تو یوں لگا جیسے تاریخ نے خود کو ریبوٹ کر لیا ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب کپتان رسل گھوڑے پر نہیں آتا۔ اب وہ کسی جھروکے میں بھی نہیں بیٹھتا۔ اب وہ کہیں بہت دور، فائلوں، شرائط اور معاہدوں کے درمیان چھپا ہوتا ہے۔ اور یہاں نیچے اس کے فیصلوں کی گرد عام آدمی کے سانسوں میں اترتی ہے۔ اور ہمارے اپنے ایوان اب فیصلہ ساز کم اور منظوری دینے والے زیادہ لگتے ہیں۔ بجٹ اب پالیسی نہیں رہا، یہ ایک “منظور شدہ مجبوری” ہے۔
حکومت نے کم از کم اجرت میں اضافہ کیا ہے۔ کاغذ پر یہ ایک خبر ہے، حقیقت میں یہ ایک مذاق ہے۔
کیونکہ جس ملک میں روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہوں، وہاں تنخواہ میں اضافہ اکثر صرف “حسنِ انتظام” لگتا ہے، “ریلیف” نہیں۔
مزدور صبح نکلتا ہے تو صرف کام کی تلاش میں نہیں نکلتا۔ وہ بقا کے حساب کتاب میں داخل ہوتا ہے۔ اور شام کو جب واپس آتا ہے تو اس کے ہاتھ میں اکثر صرف تھکن ہوتی ہے، اجرت نہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو شہر کھڑا کرتا ہے، مگر خود ہر دن دوبارہ کھڑا ہوتا ہے۔
مڈل کلاس اس نظام کی وہ ریڑھ کی ہڈی ہے جو جھکتی ہے، مگر ٹوٹنے سے پہلے آواز نہیں دیتی۔
سرکاری ملازم ہو یا نجی شعبے کا ورکر، اس کی زندگی ریاضی کا ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کبھی نہیں نکلتا۔ آمدن ایک جگہ رک جاتی ہے، اخراجات ہر مہینے نئی بلندیوں پر چلے جاتے ہیں۔
استاد، کلرک، دفتری ملازم ، یہ سب وہ لوگ ہیں جو نظام کو سکھاتے ہیں کہ وہ کیسے چلے، مگر خود اس نظام کے اندر سانس لینے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ طبقہ غریب نہیں ہوتا، مگر ہر سال اسے غریب ہونے کے قریب ضرور دھکیل دیا جاتا ہے۔
ریٹائرڈ افراد اس ریاست کا وہ حصہ ہیں جسے اکثر “پس منظر” سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہی لوگ اس نظام کی تاریخ ہیں۔ لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے لیے زندگی ایک عجیب حساب بن جاتی ہے۔ ادویات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، علاج مہنگا ہو رہا ہے، اور آمدن وہیں رکی ہوئی ہے جہاں اسے عزت کے ساتھ روک دیا گیا تھا۔یہ وہ عمر ہے جہاں انسان کو سکون چاہیے ہوتا ہے، مگر اسے ہر مہینے قیمتوں کی نئی فہرست ملتی ہے۔
اس بجٹ کی اصل کہانی ٹیرف یا تنخواہ نہیں، بلکہ وہ خاموش ٹیکس ہے جو ہر چیز میں چھپا ہوا ہے۔ ایندھن کی قیمت بڑھے تو پورا معاشرہ ہلتا ہے، کیونکہ یہ صرف گاڑی نہیں چلاتا، یہ زندگی چلاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو سب کچھ مہنگا ہو جاتا ہے۔ روٹی بھی، دوا بھی، اور امید بھی۔
اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بوجھ سب پر برابر لگتا ہے، مگر اثر سب پر برابر نہیں پڑتا۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں مساوات صرف کاغذ پر رہ جاتی ہے۔
یہ پورا نظام ایک سادہ اصول پر چلتا ہے۔ اور وہ اصول یہ ہے کہ جہاں سے آسانی سے لیا جا سکے، وہاں سے زیادہ لیا جائے۔ اور جہاں مزاحمت ہو، وہاں نرمی اختیار کی جائے۔ اسی لیے طاقتور طبقات اکثر محفوظ رہتے ہیں، اور کمزور طبقات ہر سال نئے حساب میں داخل ہو جاتے ہیں۔
یہ کوئی حادثہ نہیں، یہ ایک ترتیب ہے۔ اور ترتیب اتفاق سے نہیں بنتی بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ بندی سے بنتی ہے۔
فلم لگان میں کم از کم ایک میدان تھا۔ ایک موقع تھا۔ ایک امید تھی۔
آج کے شہری کے پاس نہ میدان ہے، نہ کھیل، نہ شرط اور نہ موقع۔
اس کے پاس صرف بل ہیں، کٹوتیاں ہیں، قیمتیں ہیں، اور ایک مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ یہ وہ لگان ہے جس میں ہارنے کے بعد بھی کھیل ختم نہیں ہوتا، کیونکہ کھیل شروع ہی نہیں ہوا ہوتا۔
تاریخ کسی دن اس دور کو یاد کرے گی تو شاید اسے صرف اعداد و شمار کے بجٹ کے طور پر نہیں بلکہ اس سوال کے طور پر دیکھا جائے گا کہ آخر معاشی بوجھ کی آخری حد کہاں ہوتی ہے۔
کیونکہ جب عوام کے پاس صرف بقا باقی رہ جائے اور امید مسلسل کم ہوتی جائے، تو پھر کسی بھی معاشی اصلاح کا اصل امتحان صرف کاغذ پر نہیں بلکہ زمین پر ہوتا ہے
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں