فٹبال ورلڈ کپ اور امن کا عالمی پیغام
دنیا اس وقت ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف جنگوں کی گھن گرج ہے، میزائلوں کی آوازیں ہیں، سیاسی اختلافات ہیں اور طاقت کی کشمکش ہے، تو دوسری طرف امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی میزبانی میں جاری فٹبال ورلڈ کپ میں دنیا کے مختلف ممالک ایک ہی میدان میں جمع ہیں۔ وہاں ہتھیار نہیں، گیند چلتی ہے؛ بارود نہیں، تالیوں کی گونج سنائی دیتی ہے؛ نفرت نہیں، کھیل کا جذبہ غالب آتا ہے۔
فٹبال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اور فیفا ورلڈ کپ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں انسانوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ یہ ایسا ایونٹ ہے جسے نسل، مذہب، زبان اور سیاست کی سرحدوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہے۔ اس بار کا عالمی کپ ایک اور وجہ سے بھی منفرد ہے کہ دنیا کے کئی ممالک باہمی سیاسی کشیدگی کے باوجود ایک ہی ٹورنامنٹ میں شریک ہیں۔
خاص طور پر ایران کی شرکت اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ کھیل بعض اوقات سفارت کاری سے بھی زیادہ طاقتور زبان بولتے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، مگر میدان میں کھلاڑی اپنے ملک کی نمائندگی کھیل کے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دنیا کو احساس ہوتا ہے کہ اختلاف کے باوجود رابطہ ممکن ہے اور مقابلے کے باوجود احترام برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
کھیل کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ثابت کیا کہ ایک میچ کبھی کبھی کئی سفارتی ملاقاتوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ کرکٹ، ہاکی، رگبی اور فٹبال نے مختلف ادوار میں ایسے مواقع پیدا کیے جہاں مخالف ممالک کے عوام نے ایک دوسرے کو دشمن کے بجائے انسان کے طور پر دیکھا۔
ورلڈ کپ کا اصل حسن بھی یہی ہے کہ یہاں ہر ملک اپنی شناخت کے ساتھ آتا ہے لیکن سب ایک ہی ضابطے کے تحت کھیلتے ہیں۔ ریفری کے فیصلے سب پر یکساں لاگو ہوتے ہیں، قوانین سب کے لیے برابر ہوتے ہیں اور کامیابی کا معیار صرف کارکردگی ہوتی ہے، طاقت یا دولت نہیں۔
یہ منظر اقوامِ عالم کے لیے ایک سبق بھی ہے۔ اگر بائیس کھلاڑی ایک میدان میں سخت مقابلہ کر سکتے ہیں، ایک دوسرے سے ہاتھ ملا سکتے ہیں اور کھیل ختم ہونے پر اپنی جرسیوں کا تبادلہ کر سکتے ہیں تو سیاست دان بھی اختلافات کے باوجود مکالمے کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔
ورلڈ کپ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ نوجوان نسل کو نفرت سے زیادہ امید کی ضرورت ہے۔ جب بچے مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کو ایک ساتھ کھیلتے دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں دشمنی نہیں بلکہ مہارت، محنت اور دوستی کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ یہی تصور مستقبل کے زیادہ پرامن معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
البتہ کھیل کو سیاست سے مکمل طور پر الگ کرنا بھی ممکن نہیں۔ دنیا کے حالات، تنازعات اور انسانی المیے اسٹیڈیم کی دیواروں سے باہر موجود رہتے ہیں اور بعض اوقات ان کی بازگشت میدان تک بھی پہنچتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود کھیل کا بنیادی مقصد انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہے۔
آج جب دنیا کے مختلف حصوں میں تنازعات جاری ہیں، ورلڈ کپ امید کی ایک ایسی کھڑکی کھولتا ہے جس سے یہ پیغام آتا ہے کہ مقابلہ دشمنی کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ فتح خوشی کا سبب بن سکتی ہے مگر شکست نفرت کی بنیاد نہیں بننی چاہیے۔
شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کھیل صرف جسم کو نہیں بلکہ معاشروں کو بھی صحت مند بناتے ہیں۔ ایک اچھی پاس، ایک خوبصورت گول اور ایک منصفانہ کھیل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعاون، نظم اور احترام ہی اصل کامیابی کی بنیاد ہیں۔
اگر عالمی رہنما کبھی فٹبال کے میدان سے یہ سبق سیکھ لیں کہ قوانین سب کے لیے برابر ہوتے ہیں، حریف کا احترام ضروری ہے اور آخری سیٹی بجنے کے بعد ہاتھ ملانا روایت ہے، تو شاید دنیا کے بہت سے تنازعات کا حل بھی آسان ہو جائے۔
ورلڈ کپ ختم ہو جائے گا، ٹرافی کسی ایک ٹیم کے ہاتھ میں چلی جائے گی اور جشن کی رونقیں ماند پڑ جائیں گی، مگر اگر اس پورے ایونٹ سے دنیا ایک سبق لے لے کہ کھیل انسانوں کو جوڑنے کی طاقت رکھتے ہیں، تو یہی اس عالمی میلے کی سب سے بڑی فتح ہوگی۔
آخرکار گیند گول ضرور ہوتی ہے، مگر اس کا سفر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زمین کے ہر کونے میں رہنے والے انسانوں کی خوشیاں، خواب اور امن کی خواہش ایک جیسی ہیں۔
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں