حیاتیاتی گھڑی اور انسانی زندگی



 انسان کی زندگی میں وقت ہمیشہ ایک بنیادی قوت رہا ہے۔ سورج کا طلوع و غروب، دن اور رات کا تسلسل اور موسموں کی آمد و رفت ہماری حیات کے دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔ مگر وقت صرف باہر نہیں، ہمارے اندر بھی دھڑکتا ہے۔ جسم کے اندر ایک ایسی گھڑی موجود ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ کب جاگنا ہے، کب سونا ہے، کب بھوک لگنی ہے اور کب توانائی کے چشمے پھوٹنے ہیں۔ اسی کو سائنس کی زبان میں سرکیڈین ردھم یا حیاتیاتی گھڑی کہا جاتا ہے۔ یہ گھڑی دماغ کے ایک حصے میں موجود دماغی حیاتیاتی گھڑی کا مرکز ہے، جو روشنی اور اندھیرے کے اشاروں سے پورے جسم کو ہدایت دیتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں "میلاٹونن" نامی ہارمون بڑھتا ہے اور ہمیں نیند آنے لگتی ہے، صبح کے وقت "کارٹیسول" زیادہ ہوتا ہے جو دن کے آغاز کے لیے توانائی بخشتا ہے۔ جسم کا درجہ حرارت دن میں بلند اور رات کو کم ہو جاتا ہے، اور ہاضمہ بھی اسی تال کے مطابق چلتا ہے۔ یہ اندرونی نظام اگر بگڑ جائے تو نیند کی کمی، یادداشت کی کمزوری، موٹاپا، ذیابیطس اور ڈپریشن جیسی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان اس نظام کو سمجھنے پر زور دیتے ہیں تاکہ انسان اپنی زندگی کو زیادہ متوازن بنا سکے۔انسانی وجود میں وقت کی یہ اندرونی گردش ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی محض گھڑی کی سوئیوں کا کھیل نہیں بلکہ ہمارے خون، ہڈیوں اور خوابوں میں بھی بہتی ہے۔ اگر ہم اپنی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق چلیں تو زندگی زیادہ صحت مند اور پُرسکون ہو سکتی ہے۔ صبح سورج کی روشنی میں وقت گزارنا، رات کو اندھیرے میں سکون پانا، کھانے کے اوقات کو منظم رکھنا اور نیند کو ترجیح دینا ۔ یہ سب ہماری اندرونی گھڑی کو درست رکھتے ہیں۔زندگی ایک مسلسل سفر ہے اور اس سفر میں وقت کا کردار بنیادی ہے۔ سرکیڈین ردھم ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ وقت صرف باہر کی دنیا میں نہیں بلکہ ہمارے اندر بھی ایک مسلسل دھڑکن ہے۔ اگر ہم اس دھڑکن کو سمجھ لیں تو نہ صرف صحت مند رہ سکتے ہیں بلکہ اپنی زندگی کو زیادہ ہم آہنگ اور بامعنی بنا سکتے ہیں۔ وقت کی اصل طاقت ہماری اندرونی گھڑی میں چھپی ہے۔ جو شخص اس گھڑی کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے، وہی اپنی زندگی کو صحت، سکون اور معنویت کے ساتھ گزار سکتا ہے۔


 ~ندیم فاروقی 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں