"آئی پی پیز" یعنی انکل کی بکری کا سالانہ منافع
آج بات کریں گے ملک کے اُس نایاب نظام کی، جسے ہم پیار سے "آئی پی پیز" کہتے ہیں۔ ویسے تو انگریزی میں اس کا مطلب "Independent Power Producers" ہے، لیکن میں نے اس کا زیادہ مناسب ترجمہ دریافت کیا ہے:
"انکل کی پرانی پنشن"۔
سمجھ نہیں آئی؟ تو سنیے۔
فرض کیجیے آپ کے گھر میں ایک انکل ہیں۔ انھوں نے بیس سال پہلے گھر کے لیے ایک بکری خریدی تھی کہ دودھ دے گی۔ بکری کی قیمت کا ستر فیصد آپ نے اپنی جیب سے دیا، انکل نے صرف تیس فیصد لگایا۔ مگر معاہدہ یہ ہوا کہ بکری دودھ دے یا نہ دے، انکل کو دودھ کے پیسے ملتے رہیں گے۔ دودھ کی قیمت بھی ڈالر میں طے ہوگی۔ بکری بوڑھی ہو جائے، مر جائے، تب بھی ادائیگی جاری رہے گی۔
اور اگر کبھی آپ حساب مانگ بیٹھیں تو خاندان ناراض ہو جائے گا۔
یہ ہے پاکستان کا آئی پی پیز کا نظام۔
ایسا نظام جسے سمجھنے کے لیے معاشیات کی ڈگری سے زیادہ مضبوط اعصاب کی ضرورت پڑتی ہے۔
بات 1994 کی ہے۔ اُس وقت ملک میں بجلی کا بحران تھا۔ حکومت کے پاس وسائل کم تھے، اس لیے فیصلہ ہوا کہ نجی کمپنیوں کو بجلی پیدا کرنے کی دعوت دی جائے۔ پیشکش کچھ یوں تھی:
"آپ بجلی بنائیں، ہم ہر حال میں خریدیں گے۔"
اور صرف خریدیں گے نہیں، بلکہ ڈالر میں ادائیگی کریں گے، منافع کی ضمانت دیں گے، اور اگر نقصان ہوا تو اس کی فکر بھی حکومت کرے گی۔
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا کاروبار ہو جہاں منافع پہلے سے لکھ کر دے دیا جائے۔ لیکن پاکستان میں بجلی کے شعبے میں یہ ممکن ہوا۔
پھر ہوا یہ کہ جسے موقع ملا، وہ اسی میدان میں اتر آیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں ملکیت اور اثر و رسوخ چند طاقتور کاروباری گروہوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔
اب آئیے اس نظام کے اصل شاہکار کی طرف:
"صلاحیت کی ادائیگیاں" یعنی Capacity Payments۔
سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت بعض اوقات بجلی خریدنے سے زیادہ صرف "تیار بیٹھے رہنے" کی قیمت ادا کرتی ہے۔
گویا دفتر میں ایک بابا جی بیٹھے ہیں۔ سارا دن چائے پیتے ہیں، اخبار پڑھتے ہیں، کبھی کبھار پنکھا بند کر دیتے ہیں، مگر تنخواہ پوری لیتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بابا جی کو تنخواہ روپوں میں ملتی ہے، اور یہاں ادائیگیاں ڈالروں میں ہوتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ برسوں میں Capacity Payments کی مد میں ہزاروں ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔ اور یہی وہ رقم ہے جو آخرکار عوام کے بجلی کے بلوں میں شامل ہو جاتی ہے۔
پھر آتا ہے گردشی قرضہ۔
یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ہر ادارہ اگلے ادارے کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے، اور آخر میں بوجھ عوام کے کندھوں پر آ گرتا ہے۔
بجلی بیچنے والا ادائیگی نہیں کرتا، خریدنے والا پھنس جاتا ہے، پیدا کرنے والا حکومت پر دباؤ ڈالتا ہے، حکومت نئے ٹیکس لگا دیتی ہے، اور عوام بل دیکھ کر خاموشی سے پانی پی لیتے ہیں۔
اور پھر وہ مشہور شرط:
"Take or Pay"
یعنی بجلی لو یا نہ لو، ادائیگی بہرحال ہوگی۔
گویا آپ نے ایک رکشہ کرائے پر لیا ہو، سفر کریں یا نہ کریں، کرایہ پورا دینا ہی دینا ہے۔
اس نظام کی چند خوبیاں ملاحظہ ہوں:
1۔ قیمت ڈالر میں۔
2۔ منافع کی شرح گارنٹیڈ۔
3۔ نقصان کا خطرہ عوام کے ذمے۔
4۔ اور معاہدوں پر سوال اٹھائیں تو سرمایہ کاری خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
جب فرانزک آڈٹ کی بات ہو تو خاموشی۔
جب معاہدوں پر نظرثانی کی بات ہو تو تشویش۔
اور جب یہ پوچھا جائے کہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد پلانٹ کس کا ہوگا، تو جواب کچھ یوں ملتا ہے:
"جناب، پلانٹ تو ہمارا ہے۔"
یعنی بکری مر بھی جائے تو کھال بھی ہماری۔
ادھر حکومت کی کیفیت بھی عجیب ہے۔ ایک طرف نرخ کم کروانے کے لیے مذاکرات ہوتے ہیں، دوسری طرف ہر مہینے بجلی کے بل میں نئے سرچارج شامل ہو جاتے ہیں۔
سرچارج پر سرچارج، ایڈجسٹمنٹ پر ایڈجسٹمنٹ، اور ٹیکس پر ٹیکس۔
ایسے میں عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ بجلی کا بل دے رہا ہے یا کسی پرانے قرض کی قسطیں۔
بات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے بجلی کے بل میں صرف بجلی کی قیمت شامل نہیں۔ اس میں برسوں کے معاہدے، گارنٹیڈ منافع، Capacity Payments، گردشی قرضے، اور کئی پوشیدہ اخراجات بھی شامل ہیں۔
لہٰذا اگلی بار جب گرمیوں میں اے سی چلانے کے بعد بجلی کا بل دیکھ کر دل بیٹھنے لگے، تو یاد رکھیے:
آپ صرف بجلی استعمال کرنے کی قیمت ادا نہیں کر رہے، بلکہ ایک ایسے نظام کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں جس میں بکریاں آج بھی ڈالر میں چارہ کھاتی ہیں۔
اللہ ہمیں سستی بجلی نصیب کرے، یا پھر صبر۔
دونوں میں سے جو پہلے مل جائے۔
فی الحال اجازت دیجیے۔
بجلی کا بل دیکھنے کے بعد میرا بلڈ پریشر دوبارہ چیک
کروانا ضروری ہو گیا ہے۔
خدا حافظ
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں