ریاستی یا سیاسی مفادات کے لیے مذہبی جذبات کا استعمال کرنا


 ریاستی یا سیاسی مفادات کے لیے مذہبی جذبات کا استعمال کرنا


پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذہب ہمیشہ ایک  اہم اور طاقتور عنصر رہا ہے۔ اور تقریباً ہر  سیاسی پارٹی اور مختلف گروہوں نے اپنے مفادات کیلئے مذھب کارڈ کا  حتی الامکان استعمال کیا پے۔  مذہب کی سیاست صرف انتخابات جیتنے یا ووٹ بینک بنانے تک محدود نہیں۔  بلکہ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں عوامی جذبات، روایتی عقائد اور اخلاقی اصول سب ایک ہی وقت میں کھیل کے حصے بن جاتے ہیں۔ جب مذہبی اصول ریاستی فیصلوں یا سیاسی مقاصد کے تابع ہو جاتے ہیں، تو نہ صرف مذہبی وقار مجروح ہوتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کی بنیادیں بھی متزلزل ہو جاتی ہیں۔

پاکستان میں مذہب اور سیاست کا یہ تعلق قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں سے قائم رہا۔ ایک طرف عوام میں دینی شناخت اور عقائد کی مضبوطی تھی، اور دوسری طرف ریاست کو اپنے وجود کی حفاظت کے لیے ایک مربوط نظریاتی بنیاد کی ضرورت تھی۔ وقت کے ساتھ مذہبی جذبات کو جمہوری یا آمرانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا عمل معمول بن گیا۔ مذہبی جماعتیں سیاسی قوتوں کی پشت پناہی حاصل کر کے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتی رہیں۔ 

 جب مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں مذہبی نعروں کا استعمال شروع کیا تو اس سے عوام کی توجہ اصلاح یا معیارِ زندگی کی بجائے مذہب اور  فرقہ وارئیت کی جانب ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں سیاست نے مذہب کو ایک ہتھیار کی شکل میں ڈھالا، جس کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا اور برقرار رکھنا تھا۔ عوامی مسائل، تعلیم، صحت اور معاشی بحران جیسے اصل مسائل اس دوران پس منظر میں رہ گئے کیونکہ سیاسی طاقت کے حصول کی دوڑ میں مذہبی جذبات سب سے طاقتور ذریعہ بن گئے۔

پاکستان میں مذہب کی سیاست کے اثرات صرف انتخابی میدان تک محدود نہیں رہے۔ یہ ریاستی سطح پر بھی گہرائی کے ساتھ محسوس کیے گئے۔ قوانین اور آئینی ترامیم کبھی کبھار مذہبی تشخص کی بنیاد پر بنائے گئے، جس سے معاشرے میں تقسیم اور اختلاف کی فضا مضبوط ہوئی۔ 

ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1974 میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے مذہبی اور سیاسی دونوں سطحوں پر تنازعہ پیدا کیا۔ یہ اقدام نہ صرف قادیانی کمیونٹی کے لیے ایک صدمہ تھا بلکہ اس سے معاشرے میں فرقہ وارانہ تقسیم بھی بڑھ گئی۔ اس فیصلے سے  مذہب کو ایک مضبوط سیاسی آلے کے طور پر استعمال کرنے کی روایت قائم ہوئی۔

اسی دوران جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران مذہبی جذبات کو ریاستی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی مثالیں بھرپور انداز میں سامنے آئیں۔ ضیاء الحق نے اپنی پالیسیوں میں مذہبی جماعتوں کو شامل کر کے اقتدار کو مضبوط کیا اور مذہبی جذبات کے نام پر قوانین اور اقدامات کی بنیاد رکھی۔ تعلیمی نصاب میں مذہبی مواد کو لازمی قرار دیا گیا۔ عدالتی فیصلوں میں مذہبی اصولوں کو مقدم رکھنے کی کوشش کی گئی، اور سیاسی مخالفین کو مذہبی تنقید یا الزام کے ذریعے کمزور کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ مثال کے طور پر، مختلف فقہی اصولوں اور مذہبی تعلیمات کو نصاب میں لازمی شامل کر کے نوجوان نسل کے ذہنوں میں مخصوص مذہبی تشخص کو فروغ دیا گیا۔ یہ سب کچھ ایک واضح پیغام تھا کہ اقتدار کے حصول کے لیے مذہبی جذبے کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے، چاہے اس کے لیے معاشرتی ہم آہنگی قربان کیوں نہ کرنی پڑے۔

اس دوران مذہبی جماعتیں بھی اپنی سیاست کے لیے مذہبی جذبات کا بھرپور استعمال کرتی رہیں۔ ووٹ بینک کے حصول کے لیے انتخابات میں مذہبی نعرے لگائے گئے، اور سیاسی رہنماؤں نے مذہبی شناخت کے نام پر عوام کی وفاداری حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس سے نہ صرف سیاسی حریف کمزور ہوئے بلکہ عوام میں مذہبی اور سیاسی وابستگی کو ایک دوسرے کے تابع کر دیا گیا، جس نے معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا۔

مذہب کی سیاست میں عدلیہ اور انتظامی اداروں کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ جب طاقتور طبقہ مذہبی جذبات کے نام پر اپنی پوزیشن مضبوط کرتا ہے تو قانون اور انصاف کے ادارے اکثر دباؤ کے سامنے خاموش ہو جاتے ہیں یا نرمی دکھاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف انصاف متاثر ہوتا ہے بلکہ مذہب کی حقیقی روح بھی مجروح ہوتی ہے۔ عوام دیکھتے ہیں کہ مذہبی اصول عدالتی فیصلوں میں کیسے استعمال یا نظرانداز کیے جاتے ہیں، اور یوں ان کے دل میں ریاست اور مذہب دونوں کے لیے اعتماد کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔

تعلیم، میڈیا اور عوامی مکالمے میں بھی مذہب کی سیاست نے ایک خاص تاثر قائم کیا۔ نوجوان نسل میں مذہبی جذبات کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان بڑھا، اور وہ اکثر اپنے حقوق یا ذمہ داریوں کے بجائے جماعتی یا مذہبی وابستگی کے تحت فیصلے کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی شعور اور سیاسی شعور میں ایک تضاد پیدا ہوا، جس نے سیاست کو جذباتی اور معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کیا۔

اس پورے عمل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ مذہب کا استعمال طاقت کے لیے کیا جائے تو اس کے اثرات صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی بھی ہوتے ہیں۔ مذہبی شعور کو سیاست کے تابع کر کے معاشرتی اقدار میں الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔ عوام اپنے مذہبی اصولوں کے ساتھ سیاسی مفادات کو جوڑنے لگتے ہیں، اور یوں مذہب کی روحانی اور اخلاقی اہمیت کمزور ہو جاتی ہے۔ ریاست اور سیاستدان ایک جانب اقتدار کی دوڑ میں رہتے ہیں، اور دوسری جانب مذہب کے نام پر عوامی وفاداری اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان میں مذہب کی سیاست کے اثرات اب بھی واضح ہیں۔ انتخابات میں مذہبی نعرے، سیاسی حکمت عملی میں مذہبی جذبات کا استعمال، اور عوام میں مذہبی تشخص کے ساتھ سیاسی وابستگی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام میں شعور اور سوال کرنے کی صلاحیت بڑھ رہی ہے۔ لوگ مذہبی اصولوں کے نام پر کیے جانے والے سیاسی فیصلوں کو زیادہ غور و فکر کے ساتھ پرکھنے لگے ہیں۔  یہی وہ بنیاد ہے جس پر مستقبل میں مذہب اور سیاست کے تعلق کو درست سمت میں لے جایا جا سکتا ہے۔


مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مذہب کی سیاست نہ صرف ریاست کی اخلاقی بنیادوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ مذہبی جذبات کو عوامی خدمت اور اخلاقی اصولوں کے بجائے طاقت اور اقتدار کے لیے استعمال کرنا معاشرت میں تقسیم پیدا کرتا ہے، عوامی اعتماد کمزور کرتا ہے، اور قانونی و اخلاقی نظام کی مضبوطی کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے اہم چیلنج یہ ہے کہ مذہب کو سیاست سے الگ رکھتے ہوئے اس کی حقیقی روحانی اور اخلاقی اہمیت کو بحال کیا جائے، تاکہ ریاست، عوام، اور مذہب سب کے لیے ایک پائیدار اور شفاف نظام قائم ہو سکے۔


ندیم احمد فاروقی 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں