ٹریڈ بزوکا، سامراج کا خطرناک معاشی ہتھیار


 ٹریڈ بزوکا، سامراج کا خطرناک معاشی ہتھیار

دنیا اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگیں اب صرف میدانِ جنگ میں نہیں  بلکہ منڈیوں، بندرگاہوں، بینکوں اور تجارتی راستوں پر لڑی جا رہی ہیں۔ توپ و تفنگ کی جگہ ٹیرف، پابندیاں اور معاشی دھمکیاں لے چکی ہیں۔ ریاستیں اب اپنی معاشی قوت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں. اسی تناظر میں ایک اصطلاح عالمی صحافت اور سیاسی تجزیے کا حصہ بن چکی ہے جیسے "ٹریڈ بزوکا" کہتے ہیں۔
بزوکا دراصل ایک بھاری جنگی ہتھیار ہے جو بیسویں صدی میں ٹینک شکن ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا۔ یہ کندھے پر رکھا جانے والا راکٹ لانچر ہوتا ہے جس کا مقصد دشمن کی مضبوط دفاعی لائن، بکتر بند گاڑی یا ٹینک کو ایک ہی وار میں ناکارہ بنانا ہوتا ہے۔ بزوکا عام ہتھیار نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے اُس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب عام گولی یا ہلکا ہتھیار بے اثر ہو جائے۔ اس کی خاصیت یہی ہے کہ یہ آخری، سخت اور فیصلہ کن وار کی علامت ہے۔ اسی تصور کو عالمی تجارت میں استعارے کے طور پر اپنایا گیا اور یوں ٹریڈ بزوکا کی اصطلاح وجود میں آئی۔
ٹریڈ بزوکا کوئی باضابطہ قانونی یا معاشی اصطلاح نہیں بلکہ ایک صحافتی استعارہ ہے۔ اس سے مراد ایسے انتہائی سخت اور غیر معمولی تجارتی اقدامات ہیں جو کسی ملک یا اتحاد کو سیاسی یا اسٹریٹجک فیصلے بدلنے پر مجبور کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں۔ جب سفارت کاری ناکام ہو جائے، مذاکرات بے نتیجہ رہیں اور دباؤ ڈالنے کے دیگر تمام ذرائع کمزور پڑ جائیں، تو طاقتور ریاستیں تجارت کو ہتھیار بنا کر استعمال کرتی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ٹریڈ بزوکا میدان میں آتا ہے۔
حالیہ عالمی سیاست میں گرین لینڈ کا تنازع اسی بدلتی ہوئی سوچ کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ بظاہر گرین لینڈ ایک برف پوش، کم آبادی والا جزیرہ ہے، مگر اس کی جغرافیائی حیثیت اسے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔ آرکٹک خطے تک رسائی، نایاب معدنی وسائل، مستقبل کی تجارتی راہداریوں اور عسکری امکانات نے اسے عالمی طاقتوں کی نظر میں ایک قیمتی اثاثہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ طویل عرصے سے گرین لینڈ پر کنٹرول رکھنے کاخواہاں رہا ہے۔ جبکہ یورپی یونین اور خصوصاً ڈنمارک اسے اپنی خودمختاری اور علاقائی وقار کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔
اسی تناظر میں امریکہ کی جانب سے یورپی یونین پر حالیہ عرصے میں اضافی دس فیصد درآمدی ٹیکس عائد کرنے اور بعد ازاں جون کے بعد سو فیصد تک ٹیکس بڑھانے کی دھمکی کو محض ایک تجارتی فیصلہ سمجھنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ یہ اقدام دراصل ایک واضح سیاسی پیغام ہے جس کا مقصد یورپی یونین کو گرین لینڈ کے معاملے پر دباؤ میں لانا ہے۔ یہاں تجارت ایک ذریعہ ہے جبکہ اصل ہدف سیاسی اور اسٹریٹجک مفادات کا حصول ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں یہ ٹیرف روایتی تجارتی پالیسی سے نکل کر اقتصادی جبر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جب کوئی طاقتور ملک اپنی معاشی قوت استعمال کر کے دوسرے ممالک کو مجبور کرے کہ وہ اپنے سیاسی فیصلے اس کے مطابق ڈھالیں، تو اسے عالمی سیاسی زبان میں معاشی دباؤ یا اقتصادی بلیک میلنگ کہا جاتا ہے۔ گرین لینڈ تنازع میں امریکی اقدامات اسی زمرے میں آتے ہیں، کیونکہ ان کا مقصد تجارتی توازن نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی مفادات کا حصول ہے ۔
یورپی یونین نے بھی اس بدلتی ہوئی حقیقت کو سمجھتے ہوئے حالیہ برسوں میں ایک مضبوط تجارتی فریم ورک تیار کیا ہے جسے اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کہا جاتا ہے۔ صحافتی دنیا میں یہی آلہ یورپی ٹریڈ بزوکا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی ملک یورپی یونین یا اس کے رکن ممالک پر معاشی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے تو یورپ اجتماعی طور پر سخت اور مؤثر جواب دے سکے۔ یہ جواب تجارتی پابندیوں، جوابی ٹیرف،  یا یورپی منڈی تک رسائی محدود کرنے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ یورپی قیادت واضح کر چکی ہے کہ وہ اس آلے کو روزمرہ سیاست میں استعمال نہیں کرنا چاہتی، بلکہ اسے آخری چارہ سمجھتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے جنگ میں بزوکا کو آخری ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں عالمی سیاست میں ٹریڈ بزوکا کے کئی عملی مظاہر دیکھے جا چکے ہیں۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں بھاری ٹیرف، ٹیکنالوجی پر پابندیاں اور سپلائی چین کی رکاوٹیں اسی سوچ کی عکاس تھیں۔ چین نے آسٹریلیا کے ساتھ سیاسی اختلافات کے بعد اس کی زرعی اور معدنی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کر کے واضح پیغام دیا کہ اختلاف کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ روس اور مغربی دنیا کے درمیان یوکرین تنازع کے بعد روس پر لگنے والی مالیاتی اور تجارتی پابندیاں جدید تاریخ کی سب سے بڑی اقتصادی کارروائی سمجھی جاتی ہیں، جسے کئی ماہرین معاشی بزوکا قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح کا ایک نمایاں اور معنی خیز واقعہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں بھی دیکھنے کو ملا، جہاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر ٹیرف کے نفاذ اور اس کی دھمکی کو محض تجارتی پالیسی کے طور پر نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی دباؤ کے طور پر دیکھا گیا۔ اس دباؤ کا اصل مقصد یہ تھا کہ بھارت روس سے سستا تیل خریدنے کا سلسلہ محدود یا بند کرے۔ کیونکہ روسی توانائی کی فروخت یوکرین جنگ کے تناظر میں مغرب کی پابندیوں کو کمزور کرتی ہے۔ امریکہ نے بالواسطہ طور پر یہ پیغام دیا کہ اگر بھارت نے اپنی توانائی پالیسی میں امریکی اور مغربی مؤقف کے مطابق تبدیلی نہ کی تو اسے تجارتی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ یہاں بھی تجارت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، جہاں ٹیرف کا مقصد معاشی توازن نہیں بلکہ خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہونا تھا۔ یہ مثال اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ ٹریڈ بزوکا اب صرف دشمن ریاستوں کے خلاف نہیں بلکہ شراکت دار ممالک کو لائن میں رکھنے کے لیے بھی استعمال ہونے لگا ہے۔
اس رجحان کے عالمی نظام پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی تجارت میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے، چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک بڑی طاقتوں کی کشمکش میں پس رہے ہیں، اور عالمی ادارے جیسے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن بتدریج کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔ طاقت اور دباؤ پر مبنی فیصلے قانون اور اصولوں پر سبقت لے رہے ہیں، جو مستقبل کے لیے ایک تشویشناک اشارہ ہے۔

ندیم احمد فاروقی 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں