ایران: مہذب معاشرہ، خوف زدہ ریاست اور بدلتے حالات
ایران: مہذب معاشرہ، خوف زدہ ریاست اور بدلتے حالات
ایران کو عالمی سطح پر عموماً سیاسی تنازعات، پابندیوں اور مذہبی سخت گیری کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، مگر یہ تصویر مکمل نہیں۔ جو لوگ ایران کو قریب سے دیکھ چکے ہیں، ان کے لیے یہ ملک محض خبروں کی سرخیوں کا نام نہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی روایت، منظم شہری زندگی اور شائستہ سماجی رویوں کا حامل معاشرہ ہے۔ تہران جیسے بڑے شہر میں صفائی، شہری نظم و ضبط اور عوامی رویوں میں تہذیب نمایاں نظر آتی ہے۔ بازاروں، عوامی مقامات اور تعلیمی اداروں میں گفتگو کا سلیقہ اور عمومی اخلاقی سطح اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ ایران ایک غیر مہذب یا پسماندہ سماج ہے۔ اس کے باوجود، ایک چیز جو مسلسل محسوس ہوتی ہے وہ ہے لوگوں کے چہروں پر خوشی کی کمی، ایک ایسی خاموش اداسی جو کسی بھی حساس مبصر کی نظر سے اوجھل نہیں رہتی۔
یہ کیفیت محض انفرادی یا وقتی نہیں بلکہ ایک اجتماعی نفسیاتی کیفیت ہے۔ لوگ روزمرہ زندگی گزار رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور سماجی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب کچھ ایک اندرونی دباؤ کے تحت ہو رہا ہو۔ یہ دباؤ کسی ایک معاشی مسئلے تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی اور سماجی ماحول کا نتیجہ ہے جہاں ریاست اور شہری کے درمیان تعلق اعتماد کے بجائے نگرانی پر قائم ہوتا جا رہا ہے۔ ایران میں مسئلہ مذہب کا وجود نہیں بلکہ مذہب کا ریاستی طاقت کے ساتھ جڑ جانا ہے، جہاں عقیدہ ذاتی ایمان کے بجائے سرکاری تشریح کا پابند بن جاتا ہے۔
یہی دباؤ اب کھل کر سڑکوں پر نظر آیا ہے۔ ایران کے مختلف شہروں میں عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے ہیں اور موجودہ نظام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج ابتدا میں معاشی مسائل، مہنگائی اور روزمرہ زندگی کی مشکلات کے خلاف تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ تحریک ایک وسیع سیاسی احتجاج میں تبدیل ہو گئی۔ آخری اطلاعات کے مطابق حالیہ مظاہروں میں دو سو سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ سینکڑوں زخمی اور ہزاروں گرفتار ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار خود اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال محض وقتی بے چینی نہیں بلکہ ایک گہرے بحران کی علامت ہے۔
ریاستی ردعمل سخت رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، انٹرنیٹ اور مواصلاتی ذرائع پر پابندیاں عائد کی گئیں اور احتجاج کو بیرونی سازش قرار دیا گیا۔
ایران کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو تعلیم یافتہ، باخبر اور عالمی دنیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی نوجوان اس وقت سڑکوں پر بھی نظر آتے ہیں اور خاموش گھروں میں بھی۔ ان کے اندر ایک واضح تضاد پایا جاتا ہے: وہ ایک طرف جدید دنیا سے جڑے رہنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ایک ایسے نظام میں زندگی گزار رہے ہیں جو فکری اور سماجی آزادی پر سخت حدود عائد کرتا ہے۔ یہی تضاد احتجاج، بے چینی اور ہجرت جیسے رجحانات کو جنم دے رہا ہے۔
خواتین کے حوالے سے ایران میں جاری کشمکش دراصل اختیار اور خودمختاری کی علامت بن چکی ہے۔ جب ریاست کسی فرد یا طبقے کی شناخت کو اپنی طاقت کے اظہار کا ذریعہ بنا لے تو وہ مسئلہ صرف ایک طبقے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کی ذہنی فضا کو متاثر کرتا ہے۔ ایک ایسا سماج جہاں نصف آبادی مستقل دباؤ میں ہو، وہاں مجموعی خوشی اور سماجی سکون کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔
ایران کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ خطہ فکری اور اخلاقی مباحث کا مرکز رہا ہے۔ قدیم ایرانی فکر میں انسان کو خیر اور شر کے درمیان انتخاب کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ مگر موجودہ حالات میں یہ انتخاب بتدریج محدود ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ریاست جب اخلاقیات کی واحد تشریح اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے تو اختلاف رائے شک اور سوال جرم کے دائرے میں آ جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں تہذیب اور ریاست کے درمیان فاصلہ پیدا ہونا شروع ہوتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ایران کے حالات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر کھلے الفاظ میں بیانات دیے ہیں اور ممکنہ طور پر فوجی کاروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔ اگرچہ فوری فوجی کارروائی کے کوئی واضح آثار نہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے نہ صرف ایران کے اندر حالات مزید بگڑ سکتے ہیں بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جس کے نتائج کا دائرہ ایران سے کہیں آگے جا سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں ایران کے لیے چند ممکنہ راستے نظر آتے ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ حکومت سختی کے ذریعے موجودہ نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے، جس سے وقتی کنٹرول تو حاصل ہو سکتا مگر عوامی ناراضگی مزید گہری ہو سکتی ہے۔ دوسرا امکان محدود اصلاحات اور سیاسی لچک کا ہے، جس کے ذریعے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی جائے، اگرچہ اس راستے میں بھی نظام کے اندر مزاحمت موجود ہے۔ تیسرا اور سب سے غیر یقینی راستہ یہ ہے کہ عوامی دباؤ کسی بڑے سیاسی موڑ کی شکل اختیار کر لے، جس کے نتائج کا اندازہ لگانا اس وقت مشکل ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ایران کا مسئلہ ایرانی عوام نہیں، نہ ہی ان کی تہذیب یا اخلاقی اقدار۔ مسئلہ وہ نظام ہے جو خوف کو نظم و ضبط اور طاقت کو اخلاقیات کا متبادل بنا دے۔ تاریخ بار بار یہ ثابت کر چکی ہے کہ تہذیبیں دبائی جا سکتی ہیں، مگر ہمیشہ کے لیے قید نہیں کی جا سکتیں۔ ایران آج بھی ایک زندہ، باشعور اور صلاحیتوں سے بھرپور معاشرہ ہے۔ اس کے لوگ ادب، فن، علم اور زندگی سے محبت رکھتے ہیں، مگر ایک ایسی ریاستی فضا میں سانس لے رہے ہیں جو اس محبت کو کھل کر ظاہر ہونے نہیں دیتی۔
کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کے شہریوں کے خوف میں نہیں بلکہ ان کے اعتماد اور خوشی میں ہوتی ہے۔ ایران کے موجودہ حالات اسی بنیادی حقیقت کی یاد دہانی ہیں، اور یہی وہ سوال ہے جو آنے والے دنوں میں ایران کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
ندیم احمد فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں