معاشرے کی اصلاح کا جدید نسخہ


 

معاشرے کی اصلاح کا جدید نسخہ

ہمارا معاشرہ ایک ایسا ڈرامہ تھیٹر  ہے، جہاں عقل کے نام پر حماقت، ترقی کے نام پر زوال، اور خوشحالی کے نام پر دکھ بیچا جا رہا ہے۔ ہر طرف شور ہے، ہر طرف دعوے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی ہی ایجادوں کے بوجھ تلے دب کر اب مزید چلنے کے قابل نہیں رہا۔ ایسے میں ضروری ہے کہ کوئی معقول تجویز دی جائے۔ ویسے بھی ہم من حیث القوم مفت مشورے بانٹنے کے عادی ہیں۔ اسلئے موقع سے فائدہ اٹھا کر کچھ مفت مشورے پیش خدمت ہیں۔

چونکہ پوری قوم موبائل فون  کے لت میں مبتلا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ ان سب کے دماغ کو براہِ راست موبائل سے کنکٹ کر دیا جائے۔ یوں نہ حکومت پر تنقید ہوگی، نہ جلسہ، نہ جلوس، نہ روزگار کی فکر، نہ روٹی کا غم۔ سب لوگ اپنی اسکرینوں میں گھسے رہیں گے، اور دنیا کے اصل مسائل محض "نوٹیفکیشن" کی صورت میں سامنے آئیں گے، جنہیں ایک کلک سے بند کیا جا سکے گا۔ 

اب بھوک کا علاج "فوڈ ایپ" ہوگی، بیماری کا علاج "ہیلتھ ٹریکنگ ایپ"، اور غربت کا علاج "فری وائی فائی"۔ کپڑوں اور مکان کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ ہر شخص اپنی پروفائل پکچر میں خوشحال اور ہر وقت "آن لائن" دکھائی دے گا۔ احتجاجی مظاہرے صرف "گروپ چیٹ" میں ہوں گے، جہاں لوگ ایک دوسرے کو اسٹیکر بھیج کر انقلاب برپا کریں گے۔ 

یوں ملک میں مکمل طور پر "ڈیجیٹل" مساوات قائم ہو جائے گی، جہاں سب برابر کے لت زدہ ہوں گے، اور کوئی کسی سے کم نہ ہوگا۔ 
چونکہ لوگ اپنی بدصورتی اور غربت چھپانے کے لیے انسٹاگرام فلٹر استعمال کرتے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ ہر شہری کو ایک مستقل فلٹر عطا کرے۔ جس سے بھوکا آدمی خوشحال نظر آئے گا، بیمار آدمی صحت مند دکھائی دے گا، اور مردہ آدمی زندہ لگے گا۔ اس سے معاشرہ مکمل طور پر خوشحال ہو جائے گا۔
چونکہ منافقت ہماری سب سے بڑی قومی دولت ہے۔ اسلئے حکومت کو چاہیے کہ ایک "منافق فنڈ" قائم کرے۔ اس فنڈ میں ہر شہری اپنی منافقت جمع کرائے، اور بدلے میں حکومت اسے "سوشل کریڈٹ پوائنٹس" دے۔ جو شخص زیادہ منافق ہوگا، اسے زیادہ پوائنٹس ملیں گے۔ پوائنٹس کے ذریعے وہ اپنی بدعنوانی کو قانونی بنا سکے گا۔ جو شخص منافقت میں کمزور ہوگا، اسے معاشرے سے نکال دیا جائے۔ یوں معاشرہ مکمل طور پر "منافقانہ مساوات" پر قائم ہو جائے گا، جہاں سب برابر کے جھوٹے ہوں گے اور کوئی کسی سے کم نہ ہوگا۔ 

جہالت بھی ہماری سب سے بڑی اجتماعی دولت ہے۔ یہ وہ خزانہ ہے جسے ہم نسل در نسل محفوظ رکھتے ہیں اور فخر سے آگے بڑھاتے ہیں۔ اسکولوں میں علم نہیں، بلکہ ڈگریاں بانٹی جاتی ہیں. یونیورسٹیوں میں تحقیق نہیں، بلکہ سفارش چلتی ہے۔ گھروں میں کتاب نہیں، بلکہ ٹی وی کا ریموٹ ہوتا ہے۔ جہالت کا کمال یہ ہے کہ یہ ہر شخص کو ہر کام کا ماہر بناتی ہے سوائے اس کے اپنے پیشے کے ۔  حکومت کو چاہیے کہ جہالت کو باقاعدہ قومی نصاب کا حصہ بنا دے، تاکہ بچے چھوٹی عمر سے ہی سیکھ جائیں کہ سوال کرنا جرم ہے اور سوچنا گناہ۔ اس طرح معاشرہ مکمل طور پر "جہالت کی مساوات" پر قائم ہو جائے گا۔

لالچ وہ انجن ہے جس پر ہماری پوری قوم چلتی ہے۔ یہ انجن کبھی بند نہیں ہوتا، بلکہ ہر وقت دھواں چھوڑتا رہتا ہے۔ چھوٹے دکاندار سے لے کر بڑے سرمایہ دار تک، سب کی زندگی کا ایندھن یہی ہے۔ لالچ کا کمال یہ ہے کہ یہ انسان کو کبھی مطمئن نہیں ہونے دیتا۔ جو ایک روٹی کھاتا ہے، وہ دس چاہتا ہے۔ جو دس کھاتا ہے وہ سو چاہتا ہے۔ اور جو سو کھاتا ہے، وہ دوسروں کی روٹی چھین کر بھی خوش نہیں ہوتا۔ حکومت کو چاہیے کہ لالچ کو باقاعدہ قومی کھیل قرار دے، تاکہ ہر شخص اس حریصانہ دوڑ میں حصہ لے سکے۔ یوں معاشرہ مکمل طور پر "لالچ کی مساوات" پر قائم ہو جائے گا۔

ریاکاری ہماری سب سے بڑی فیشن انڈسٹری ہے۔ یہ وہ لباس ہے جو ہر شخص روز صبح پہن کر گھر سے نکلتا ہے۔ مسجد میں عبادت کے نام پر دکھاوا، دفتر میں ایمانداری کے نام پر جھوٹ، اور سیاست میں خدمت کے نام پر لوٹ مار۔ ریاکاری انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے مگر باہر سے چمکدار بنا دیتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ریاکاری کو باقاعدہ قومی یونیفارم بنا دے، تاکہ ہر شخص ایک ہی لباس میں نظر آئے۔ یوں معاشرہ مکمل طور پر "ریاکاری کی مساوات" پر قائم ہو جائے گا، جہاں سب برابر کے جھوٹے ہوں گے اور کوئی کسی سے کم نہ ہوگا۔ 

بےحسی ہماری سب سے بڑی اجتماعی عادت ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو ہمیں دوسروں کے دکھ پر ہنسنے اور اپنی خوشی پر ناچنے کی اجازت دیتا ہے۔ سڑک پر حادثہ ہو جائے تو لوگ تماشائی بن جاتے ہیں۔ پڑوس میں کوئی بھوکا ہو تو لوگ کان لپیٹ لیتے ہیں۔ بےحسی کا کمال یہ ہے کہ یہ انسان کو ہر ذمہ داری سے آزاد کر دیتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بےحسی کو باقاعدہ قومی قانون بنا دے، تاکہ ہر شخص دوسروں کی تکالیف پر  اپنی آنکھیں بند کریں۔  جو شخص کسی مستحق یا غریب سے  ہمدردی کرے  اسے سزا دی جائے۔ کیونکہ وہ قومی رویے کے خلاف ہے۔ یوں معاشرہ مکمل طور پر "بےحسی کی مساوات" پر قائم ہو جائے گا۔ جہاں سب برابر کے پتھر دل ہوں گے اور کوئی کسی پر رحم نہیں کرے گا۔  
چونکہ خوشامد ہماری سب سے بڑی صلاحیت ہے۔ اسلئے حکومت کو چاہیے کہ اسے باقاعدہ قومی پالیسی بنا دے۔ ہر شہری کو روزانہ کم از کم دس خوشامدی جملے بولنے کا کوٹہ دیا جائے۔ جو شخص زیادہ خوشامد کرے، اسے ترقی دی جائے۔ جو کم خوشامد کرے، اسے سزا دی جائے۔ دفتر میں باس کی خوشامد، سیاست میں لیڈر کی خوشامد، اور میڈیا میں ناظرین کی خوشامد، یہی اصل ترقی کا راز ہے۔ یوں معاشرہ مکمل طور پر "خوشامد کی مساوات" پر قائم ہو جائے گا، جہاں سب برابر کے چاپلوس ہوں گے اور کوئی کسی سے کم نہ ہوگا۔ 

ندیم احمد فاروقی





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کی واپسی - ایک بات ذاتی تجربہ

پرانے وقتوں کے علاج سے آج کے مہنگے علاج تک — کیا بدلا اور کیا ویسا ہی رہا؟

سوشل میڈیا یونیورسٹی — جہاں سب پروفیسر ہیں