اشاعتیں

فروری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

لہو رنگ پچ: آئینہ وزیر کی یتیمی اور بندوق کا پہرہ

تصویر
  چند دن پہلے سوشل میڈیا پر وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ایک چھوٹی بچی آئینہ وزیر کی ایک ویڈیو وائرل ہوگئی۔ اس ویڈیو میں وہ نہایت مہارت سے تیز باؤلنگ کرتی ہوئی نظر آئی۔ اس کے باؤلنگ کا انداز اتنا شاندار تھا کہ دیکھنے والوں کی زبان سے بے اختیار واہ واہ کی آوازیں نکلیں۔ ویڈیو اتنی وائرل ہوئی کہ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے آئینہ وزیر کو پشاور زلمی کے ویمن ونگ میں لینے اور اس کے تمام تعلیمی اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا۔ اسی دوران آئینہ وزیر کی ایک اور ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی جس میں وہ حکومت سے وزیرستان میں تعلیم کی ترقی کے لیے درخواست کر رہی تھی۔ اس ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے لانے والا نوجوان زعفران وزیر تھا، جس کی اپنی ویڈیو بھی سامنے آئی۔ مگر اگلے ہی دن خبر آئی کہ علاقے میں موجود دہشت گردوں نے زعفران وزیر کو اغوا کر لیا ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ ایک بچی کی ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا "خلافِ اسلام" ہے۔ اگرچہ مقامی عمائدین اور جرگے کی کوششوں سے زعفران وزیر رہا تو ہو گئے، لیکن ان سے زبردستی ایک اعترافی ویڈیو ریکارڈ کروائی گئی جس میں وہ نہایت کرب اور خوف کے عالم...

سانپ اور نیولے کی لڑائی کا جدید چورن

تصویر
  ​تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ "مداری" برصغیر کی تہذیب کا وہ لافانی کردار ہے جس نے کبھی ہار نہیں مانی۔ قدیم زمانے میں مداری وہ شخص ہوتا تھا جس کے پاس ایک میلا سا تھیلا، ایک  پٹاری اور لفظوں کا ایسا جادو ہوتا تھا کہ وہ تپتی دوپہر میں مجمعے کو گھنٹوں ایک پاؤں پر کھڑا رکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کی تعریف سادہ تھی، وہ شخص جو "ہونے والا ہے" کی امید بیچ کر "جو ہے" اسے لوٹ لے۔ وہ زمین پر دری بچھاتا، اپنی بین بجاتا اور دعویٰ کرتا کہ آج اس کی پٹاری سے نکلنے والا ناگ اس نیولے کے پرخچے اڑا دے گا جو اس کے دوسرے تھیلے میں بند ہے۔ لوگ کام کاج چھوڑ کر رک جاتے، سانسیں روک لیتے، کیونکہ انسانی جبلت کو تماشے اور خون خرابے سے پرانی رغبت ہے۔ مداری جانتا تھا کہ جب تک پٹاری بند ہے، اس کی اہمیت بادشاہ سے کم نہیں۔ وہ سانپ نکالنے سے پہلے ہربل ادویات، گنجے پن کے تیل اور "مردانہ کمزوری" کی دوائیں بیچتا۔ مجمع اس اشتیاق میں کہ ابھی "خونی معرکہ" شروع ہوگا، وہ بیکار قسم کی دوائیاں مہنگے داموں خرید لیتا۔ آخر میں جب مداری کی جیب گرم ہو جاتی، تو وہ کمالِ ہ...

لیکس بطور سیاسی و اقتصادی ہتھیار

تصویر
گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا نے ایسے انکشافات دیکھے ہیں جنہوں نے عالمی سیاست اور معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ محض صحافتی جرات کے مظاہر نہیں تھے بلکہ ڈیجیٹل عہد میں معلومات کی بڑھتی ہوئی طاقت کی علامت تھے۔ ہر لیک، ہر خفیہ فائل اور ہر افشا شدہ دستاویز اپنے اندر سیاسی اور اقتصادی اثرات سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ معلومات سامنے آئیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کب، کس کے ذریعے اور کس عالمی تناظر میں منظرِ عام پر لائی گئیں۔ 2010 میں جولین اسانج کی تنظیم وکی لیکس نے امریکی سفارتی کیبلز اور عراق و افغانستان جنگ سے متعلق خفیہ رپورٹس جاری کیں۔ اس اقدام نے نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا بلکہ سفارتکاری کی دنیا میں اعتماد کے بحران کو بھی جنم دیا۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ معلومات کا اجرا محض خبر نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست میں مداخلت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ 2013 میں ایڈورڈ سنوڈن نے National Security Agency کے نگرانی پروگراموں کو بے نقاب کیا۔ اس انکشاف نے امریکہ سمیت یورپ میں بھی سیاسی ردعمل پیدا کیا۔ جرمنی میں اس وقت کی چانسلر انگیلا میرکل کے فون کی نگرانی کی خبر ...

ایپسٹین فائلیں: ایک شخص، ایک نظام، اور دبائی گئی آوازیں

تصویر
جیفری ایپسٹین نہ کوئی سیاست دان تھا اور نہ کوئی نظریاتی رہنما۔ وہ ایک امیر امریکی فنانسر تھا، جس کی رسائی اقتدار کے ایوانوں، شاہی محلات اور عالمی اشرافیہ کی محفلوں تک تھی۔ تاریخ میں اس کا نام دولت یا مالی ذہانت کے سبب نہیں لکھا جائے گا، بلکہ اس لیے لکھا جائے گا کہ اس نے طاقت اور پیسے کو کم عمر بچیوں کے خلاف منظم جرائم میں بدل دیا۔ ایپسٹین کی کہانی دراصل ایک فرد سے زیادہ ایک نظام کی کہانی ہے۔ وہ نظام جو طاقتور کو تحفظ دیتا ہے اور کمزور کو شک کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ 2005 میں فلوریڈا میں پہلی بار ایپسٹین کے خلاف سنجیدہ الزامات سامنے آئے۔ ایک کم عمر لڑکی کے والدین نے پولیس سے رجوع کیا اور بتایا کہ ان کی بیٹی کو “مالش” کے بہانے ایپسٹین کے گھر بلایا گیا، جہاں اس کا جنسی استحصال ہوا۔ تحقیقات آگے بڑھیں تو ایک، دو نہیں بلکہ درجنوں کم عمر لڑکیاں سامنے آئیں، جن کی کہانیاں ایک دوسرے سے خوفناک حد تک ملتی جلتی تھیں۔ اس کے باوجود 2008 میں ایپیسٹین کو ایک غیر معمولی رعایت ملی۔ اس نے ایک محدود الزام پر اعترافِ جرم کیا اور بدلے میں سنگین وفاقی مقدمات سے بچ گیا۔ اسے صرف 13 ماہ قید کی سزا دی گئی، ...

بلوچستان: بارود، سرحدیں اور عالمی بساط

تصویر
  بلوچستان میں حالیہ دنوں پیش آنے والے منظم  حملے محض چند سیکیورٹی واقعات نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسے خطے میں رونما ہوئے جہاں جغرافیہ خود سیاست لکھتا ہے، اور سیاست خون میں ترجمہ ہو جاتی ہے۔ بارہ سے زائد مقامات پر بیک وقت حملے، سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ عام شہریوں کی ہلاکت، اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرتی ہوئی یہ کارروائیاں سوال اٹھاتی ہیں کہ آیا ہم انہیں صرف داخلی شورش کے خانے میں رکھیں، یا اس شور میں بیرونی طبلوں کی آوازیں بھی سنیں۔ بلوچستان کوئی سادہ صوبہ نہیں۔ یہ پاکستان کا وہ دروازہ ہے جو ایران، افغانستان اور بحیرۂ عرب تینوں سے جڑا ہے۔ یہاں ہر گولی صرف مقامی نہیں ہوتی، اور نہ ہی  ہر دھماکے کے پیچھے صرف مقامی کہانی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بلوچستان میں کچھ ہوتا ہے، تو اس کے سائے تہران سے لیکر مشرق وسطیٰ اور واشنگٹن کے سمندری گزرگاہوں تک پھیل جاتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد ایک کاغذی لکیر ضرور ہے، مگر زمینی حقیقت میں یہ ایک زندہ، سانس لیتی، اور اکثر زخمی رہنے والی حد بندی ہے۔ اس سرحد کے دونوں طرف بلوچ آباد ہیں، رشتے ہیں، تجارت ہے، اور ساتھ ہی محرومیاں بھی ہیں...

انتون چیخوف اور انسانی وجود کی سادہ حقیقت

تصویر
​انتون چیخوف (1860 - 1904) روس کے وہ مفکر ہیں جنہوں نے فلسفے کو محلات اور بلند بانگ دعوؤں سے نکال کر ایک عام انسان کے ڈرائنگ روم اور کچن تک پہنچا دیا۔ ان کا فلسفہ کسی بڑے "ازم"  کا پابند نہیں، بلکہ وہ زندگی کو ویسا ہی دیکھتے ہیں جیسی وہ ہے. ادھوری، تھوڑی سی مضحکہ خیز اور تھوڑی سی اداس۔ چیخوف پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے اور ان کا قول تھا کہ "میڈیسن میری قانونی بیوی ہے اور ادب میری محبوبہ"۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فلسفے میں ایک ڈاکٹر کی سی بے رحمانہ سچائی اور ایک ادیب کی سی ہمدردی بیک وقت موجود ہے۔ وہ روسی فکر کے ان خاموش فلسفیوں میں سے ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کی معنویت پر وہ کچھ لکھ دیا جو بڑے بڑے فلسفی ضخیم کتابوں میں نہ لکھ سکے۔ ​چیخوف کا فلسفہ دوستوفسکی کی طرح پرجوش نہیں اور نہ ہی ٹالسٹائی کی طرح تبلیغی ہے، بلکہ ان کا فلسفہ خردبینی ہے۔ وہ انسان کو اس کی تمام تر کمزوریوں، بوریت اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ ​چیخوف کے فلسفے کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ زندگی میں اکثر کچھ بھی بڑا نہیں ہوتا۔  ان کے کردار اکثر کسی بڑی تبدیلی کا انتظار کرتے رہتے...

سقراط — ضمیر کی عدالت اور سوال کی حرمت کا علمبردار

تصویر
​انسانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو کسی خاص عہد میں جنم تو لیتی ہیں، مگر ان کی فکر زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ابدیت اختیار کر لیتی ہے۔ قدیم یونان کی گلیوں سے اٹھنے والی ایک ایسی ہی آواز نے شہنشاہوں کے درباروں کی بجائے انسانی ذہنوں میں وہ ارتعاش پیدا کیا جس کی گونج آج ڈھائی ہزار سال بعد بھی سنائی دیتی ہے۔ وہ آواز سقراط کی تھی۔ ​سقراط کوئی روایتی فلسفی نہیں تھا جو بند کمروں میں بیٹھ کر کائنات کے اسرار و رموز پر پیچیدہ نظریات ترتیب دیتا۔ وہ ایک بیدار مغز انسان تھا جس نے ایتھنز کے پررونق بازاروں میں کھڑے ہو کر عام لوگوں سے وہ سوالات کئے جن کا جواب دینا مصلحت پسند معاشرے اور اقتدار کے ایوانوں کے لیے ہمیشہ دشوار رہا۔ اس کا حلیہ سادہ، پاؤں ننگے اور ہاتھ خالی تھے، مگر اس کے پاس "سوال" کا وہ ہتھیار تھا جس نے صدیوں سے رائج جہالت اور توہمات کے قلعوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ​سقراط کا سب سے بڑا کارنامہ 'طریقہِ سوال'  کی ایجاد ہے۔ وہ کسی کو علم کی گھٹی نہیں پلاتا تھا، بلکہ اس کا ماننا تھا کہ سچائی ہر انسان کے اندر موجود ہوتی ہے، ایک استاد کا کام صرف اسے باہر نکالنا ہے...