شدید ترین سینئر صحافی
" شدید ترین سینئر صحافی"
صحافت ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا ہے۔ صحافی کا کام خبر دینا، حقائق کی چھان بین کرنا اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنا ہے۔ لیکن برصغیر میں صحافت نے بھی ارتقا کا ایک منفرد سفر طے کیا ہے۔ اب صحافی صرف صحافی نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا عہدہ بن گیا ہے جس میں ترقی کے کئی درجات ہیں۔
پہلے زمانے میں صرف "صحافی" ہوا کرتا تھا۔ پھر "سینئر صحافی" پیدا ہوا۔ اس کے بعد "سینئر ترین صحافی" نمودار ہوا۔ پھر شاید کسی کو لگا کہ ابھی ترقی کی گنجائش باقی ہے، چنانچہ "انتہائی سینئر صحافی" سامنے آگیا۔ آج کل صورت حال یہ ہے کہ "شدید ترین سینئر صحافی" بھی میدان میں ہیں۔
اس کے ساتھ پھر آتی ہے "باوثوق ذرائع" کی پراسرار دنیا۔
یہ ایسی مخلوق ہے جسے ہر صحافی جانتا ہے، مگر کسی نے کبھی دیکھا نہیں۔ یہ ہر جگہ موجود بھی ہے اور کہیں موجود بھی نہیں۔ ہر بڑی خبر انہی کے ذریعے آتی ہے۔ اگر خبر درست نکل آئے تو صحافی تجزیہ کار سے بڑھ کر نابغہ قرار پاتا ہے، اور اگر غلط ثابت ہو جائے تو خاموشی چھا جاتی ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کبھی کبھی شک ہوتا ہے کہ کہیں "باوثوق ذرائع" کسی کوہ قاف کے جِن کا نام تو نہیں! شاید وہ ایک ایسا عظیم جِن ہے جو بیک وقت اسلام آباد، نئی دہلی، واشنگٹن، ماسکو، بیجنگ اور لندن میں موجود رہتا ہے اور ہر ٹی وی چینل کو الگ الگ خبر دیتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس بیماری کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ پہلے خبر کی تصدیق کی جاتی تھی، اب خبر کی رفتار دیکھی جاتی ہے۔ جو پہلے پوسٹ کر دے، وہی فاتح۔ سچ بعد میں آئے یا نہ آئے، اس کی فکر کم ہی کی جاتی ہے۔
پھر ٹی وی اسکرین پر ایک دلچسپ منظر شروع ہوتا ہے۔ اینکر صاحب پوری سنجیدگی سے اعلان کرتے ہیں: "ہمارے باوثوق ذرائع کے مطابق ایک بہت بڑی پیش رفت ہونے والی ہے۔" اس کے بعد دو گھنٹے تک "بڑی پیش رفت" کے بارے میں گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ پیش رفت یہ تھی کہ اگلی میٹنگ کی تاریخ طے کرنے کے لیے ایک اور میٹنگ ہوگی۔
ہم نے ایک نئی قسم کی صحافت بھی ایجاد کر لی ہے جس میں خبر سے زیادہ اعتماد لہجے پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص پوری سنجیدگی سے غلط بات بھی کر دے تو لوگ کچھ دیر کے لیے یقین کر لیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص ثبوت کے ساتھ درست بات کرے مگر آواز میں جوش کم ہو تو اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اصل صحافی وہ نہیں جو ہر گھنٹے بعد "بریکنگ نیوز" چلاتا رہے، بلکہ وہ ہے جو ایک خبر دینے سے پہلے دس مرتبہ اس کی تصدیق کرے۔ افسوس یہ ہے کہ آج تصدیق کو سستی اور سنسنی کو کامیابی سمجھ لیا گیا ہے۔
یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جتنے زیادہ القابات، اتنی زیادہ خود اعتمادی۔ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر کسی کے نام کے ساتھ پانچ مرتبہ "سینئر" لکھ دیا جائے تو خبر خود بخود مستند ہو جائے گی۔ حالانکہ صحافت میں اصل تعارف نہ "سینئر" ہوتا ہے، نہ "شدید ترین سینئر"۔ اصل تعارف صرف ایک ہے: کیا آپ کی خبر درست تھی؟
اس سب کے باوجود امید ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی ایسے صحافی موجود ہیں جو خاموشی سے تحقیق کرتے ہیں، مہینوں محنت کرتے ہیں، ہر دعوے کی تصدیق کرتے ہیں اور خبر کو امانت سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے پاس شور کم ہوتا ہے، اس لیے وہ اکثر اس ہجوم میں دب جاتے ہیں جہاں ہر شخص خود کو سب سے بڑا ماہر ثابت کرنے میں مصروف ہے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ صحافت میں ایک نیا اصول متعارف کرایا جائے۔ ہر صحافی کے نام کے ساتھ "سینئر" لکھنے کے بجائے صرف ایک جملہ لکھ دیا جائے: "آج تک کتنی خبریں درست ثابت ہوئیں؟" اگر اس سوال کا جواب سامنے آ جائے تو شاید عوام کو بھی معلوم ہو جائے کہ اصل صحافی کون ہے اور "شدید ترین سینئر صحافی" کون۔
آخر میں ایک عاجزانہ تجویز ہے کہ اگر القابات بانٹنے ہی ہیں تو ایک نیا قومی اعزاز بھی قائم کر دیا جائے: "نشانِ باوثوق ذرائع"۔ یہ اعزاز ہر سال اس شخصیت کو دیا جائے جس کے ذرائع سب سے زیادہ باوثوق ہوں، مگر جنہیں کسی نے کبھی دیکھا نہ ہو۔
شاید اس کے بعد ہماری صحافت میں کم از کم طنز نگاروں کے روزگار کی ضمانت ضرور ہو جائے گی۔
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں