جذباتی ذہانت ، انسان کا باطنی کمپاس
جذباتی ذہانت انسان کا باطنی کمپاس
انسان کی روزمرہ زندگی میں جذبات وہ خاموش لہریں ہیں جو اس کے رویّے، سوچ، فیصلوں اور رشتوں کو اندر ہی اندر متحرک رکھتی ہیں۔ مگر ہر انسان ان لہروں کو محسوس کرنے، سمجھنے اور درست سمت دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہی صلاحیت جذباتی ذہانت کہلاتی ہے، ایک ایسی قوت جو عقل، تدبّر اور دل کی گہرائی کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔ جذباتی ذہانت کی اصطلاح بظاہر نئی دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کا تصور انسان جتنا قدیم ہے۔ صوفیا جب باطنی نظر کی بات کرتے ہیں، بدھا جب خود آگاہی کو نجات کا راستہ قرار دیتے ہیں، اور رومی جب دل کی زبان کو سمجھنے کی تاکید کرتے ہیں، تو وہ دراصل اسی ذہانت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جدید نفسیات نے اسی قدیم حکمت کو سائنسی زبان میں شناخت دی ہے۔
جذباتی ذہانت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات کی اصل وجہ کو پہچان سکے، ان جذبات کو بے قابو ہونے کے بجائے انہیں اپنی قوت میں بدل سکے، دوسروں کے احساسات کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھے اور رشتوں میں نرمی، حکمت اور احترام برقرار رکھ سکے۔ جب انسان اپنے جذبات کا مالک بن جاتا ہے تو پھر وہ حالات کا غلام نہیں رہتا۔ یہی جذباتی ذہانت ہے، اپنے اندر کے موسموں کو پڑھ لینا اور پھر انہیں بہتر موسموں میں تبدیل کر لینا۔
جذباتی ذہانت کا پہلا ستون خود آگاہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خود سے آنکھ نہ چراتا ہو بلکہ اپنے اندر جھانک کر دیکھ سکے کہ میں اس وقت کیوں ناراض ہوں؟ یہ غصہ واقعی اسی لمحے کا ہے یا ماضی کا کوئی زخمی سایہ ہے؟ میری بے چینی کس خوف سے جنم لیتی ہے؟ جو انسان ان سوالوں کے جواب ڈھونڈ لیتا ہے وہ آدھی منزل پا لیتا ہے۔ خود آگاہی انسان کو وہ اندرونی نظر عطا کرتی ہے جو بیرونی شور میں بھی اپنی آواز سن سکتی ہے۔
اس کے بعد خود نظم و ضبط آتا ہے۔ جذبات کو دبانا ذہانت نہیں، انہیں منظم کرنا ذہانت ہے۔ غصہ آئے مگر ہاتھ نہ اٹھے۔ دل دکھے مگر زبان کا نشتر نہ بنے۔ خوف آئے مگر فیصلہ کمزور نہ پڑے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان جذبات کے ہاتھوں کنٹرول ہونے کے بجائے انہیں اپنے قابو میں رکھتا ہے۔ یہی ضبط شخصیت کو باوقار اور مزاج کو خوبصورت بناتا ہے۔
پھر دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کی صلاحیت آتی ہے، جسے سماجی شعور یا انسانی ہم آہنگی کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ قوت ہے جس سے انسان کسی کی آنکھوں کے پیچھے چھپا ہوا دکھ، تھکن یا خوشی محسوس کر لیتا ہے۔ یہ صرف نرمی نہیں بلکہ گہری شعوری سمجھ ہے۔ ایسے لوگ کشیدگی میں پل کا کردار ادا کرتے ہیں دیوار کا نہیں۔
جذباتی ذہانت کا آخری ستون تعلقات کی حکمت ہے۔ رشتے صرف محبت سے نہیں چلتے، انہیں بصیرت، شائستگی اور تحمل بھی درکار ہوتا ہے۔ جذباتی ذہانت انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ کب بولنا ہے، کب خاموش رہنا ہے، کب سمجھانا ہے اور کب چھوڑ دینا ہے۔ یہی حکمت گھر سے دفتر تک ہر جگہ سکون اور اعتماد پیدا کرتی ہے۔
جذباتی ذہانت کی اہمیت بے حد وسیع ہے۔ یہ ذہنی سکون عطا کرتی ہے کیونکہ جو شخص اپنے جذبات کو پہچان لیتا ہے وہ اندر ہی اندر نہیں جلتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ دکھ کہاں سے اٹھ رہا ہے اور اسے کیسے شانت کرنا ہے۔ رشتوں میں جذباتی ذہانت غلط فہمیوں کے زخموں کو جگہ نہیں دیتی۔ ایک باشعور شخص فاصلوں کو بڑھنے نہیں دیتا بلکہ بات کو بروقت اور عمدگی سے سلجھا لیتا ہے۔ ذمہ داری اور رہنمائی میں بھی یہ صلاحیت کلیدی کردار ادا کرتی ہے کیونکہ بہترین رہنما وہ ہے جو انسانوں کو ان کی پوری انسانیت کے ساتھ سمجھ سکے۔ فیصلہ سازی میں بھی جذباتی ذہانت روشنی کا کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ غصے، خوف یا حد سے زیادہ خوشی میں کیے گئے فیصلے اکثر انسان کو بھاری قیمت ادا کراتے ہیں۔
جذباتی ذہانت بڑھانے کے لیے چند نرم مگر طاقتور عادتیں کافی ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ ردعمل سے پہلے ایک لمحہ رک جانا۔ یہ مختصر وقفہ کئی پچھتاووں سے بچا لیتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اپنے جذبات کا نام لینا؛ جب احساسات واضح ہو جاتے ہیں تو وہ مبہم نہیں رہتے۔ تیسری بات یہ ہے کہ دوسروں کے احساسات کو سنجیدگی سے سننا اور انہیں سمجھنے کی کوشش کرنا۔ اور چوتھی بات یہ کہ اپنے اندر کی گفتگو کو مثبت، امید بھری اور مہربان بنانا۔ اندرونی گفتگو ہی انسان کی اصل شخصیت بناتی ہے۔
جذباتی ذہانت انسانیت اور انسان کے درمیان ایک مضبوط پل ہے۔ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے چہرے میں نہیں بلکہ اس کی نرمی، اس کی ہمدردی، اس کی بردباری اور اس کے حسنِ سلوک میں ہے۔ جذباتی ذہانت انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں وہ خود کو بھی سمجھتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی آسانی کا سبب بنتا ہے۔ وہ مشکل حالات کو سطحی نظر سے نہیں بلکہ گہرائی سے دیکھتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، وہ انسان بن جاتا ہے، پورا اور مکمل انسان۔
دنیا کی تیز رفتار زندگی میں جذباتی ذہانت وہ خاموش روشنی ہے جو نہ شور مچاتی ہے اور نہ دکھاوے کی محتاج، مگر راستہ ہمیشہ منور رکھتی ہے۔
ندیم فاروقی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں