گندھارا کی دانش گاہ: پانینی سے چانکیہ تک علم کا سفر
گندھارا کی دانش گاہ: پانینی سے چانکیہ تک علم کا سفر گندھارا اور ٹیکسلا صرف ماضی کے نام نہیں، یہ انسانی دانش کے وہ سرچشمے ہیں جہاں سے زبان نے سائنس سیکھی اور سیاست نے نظم سیکھی۔ یہ خطہ محض ہمارا جغرافیہ نہیں، بلکہ عالمی تہذیب کی مشترکہ وراثت ہے۔ گندھارا اور ٹیکسلا کا خطہ محض بدھ خانقاہوں یا مجسمہ سازی تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ انسانی فکر کی عظیم تجربہ گاہ تھا۔ یہاں زبان کو الگورتھم ملا، سیاست کو اصول ملے، اور علم کو سوال کرنے کی آزادی ملی۔ یہ خطہ تہذیبوں کا سنگم تھا جہاں وادیٔ سندھ، وسطی ایشیا، فارس اور گنگا کے میدان ایک دوسرے سے جڑتے تھے۔ ٹیکسلا دنیا کی اولین جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ جسے بعض محققین دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی قرار دیتے ہیں، جس کی بنیاد پانچویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی ۔ یہاں فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، سیاست اور لسانیات جیسے علوم پڑھائے جاتے تھے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان مکالمہ اور تنقید کی روایت عام تھی۔ پانینی کی پیدائش تقریباً 520 قبل مسیح میں شالاتورا نامی گاؤں میں ہوئی، جو موجودہ ضلع اٹک کے قریب دریائے سندھ اور کابل کے سنگم پر واقع تھا۔ پانینی ن...