اشاعتیں

2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

"مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: نقصان سب کا، فائدہ چند کے لیے "

تصویر
  "مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: نقصان سب کا، فائدہ چند کے لیے "   مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک مکمل جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم، جس میں اسرائیل ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، اب کسی “کشیدگی” یا “تنازع” کی حدوں سے نکل کر ایک کھلی اور ہمہ گیر جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سیاسی توازن کو شدید جھٹکے دے رہی ہے۔ ایران کے اندر صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بڑے شہروں کا انفراسٹرکچر تباہی کے دہانے پر ہے، اور ریاستی ڈھانچہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے نقصانات نے نہ صرف جنگی حکمتِ عملی کو متاثر کیا ہے بلکہ داخلی استحکام اور پہلے سے عالمی پابندیوں کے شکار معیشت کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل بھی اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اربوں ڈالر کے فوجی اخراجات، جدید اسلحے کا استعمال، اور مسلسل فوجی آپریشنز ان کی معیشت پر بوجھ بن رہے ہیں۔ خلیجی ممالک اس جنگ کے سب سے خطرناک دائرے میں آ چکے ہیں۔ سعودی عرب، قطر، کویت، بحری...

"نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں"

تصویر
  " نوروز: جب دنیا کھل اٹھتی ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں" اکیس مارچ کو ایشیاء کے ایک بڑے حصے میں ’نوروز‘ یعنی ’نیا دن‘ منایا جا رہا ہے۔ نوروز محض ایک تہوار یا مخصوص تاریخ نہیں، بلکہ تین ہزار سالہ قدیم انسانی تہذیب کا وہ استعارہ ہے جو نسل در نسل سینوں میں منتقل ہوتا آیا ہے۔ یہ جشنِ بہاراں کا وہ قصہ ہے جو بچپن کے تندور کی تپش سے شروع ہو کر وسطی ایشیا کی برفیلی شاموں اور آذربائیجان کے معطر دسترخوانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ نوروز کی جڑیں قبل از اسلام کی قدیم زرتشتی روایت اور ایرانی تاریخ کے اوراق میں پیوست ہیں۔ اسے خاص طور پر زرتشتیت سے جوڑا جاتا ہے، جہاں آگ، روشنی اور فطرت کی تجدید کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق، جب جمشید نے تخت سنبھالا تو اس دن سورج کی کرنیں پوری آب و تاب سے چمکیں، کائنات میں ایک توازن پیدا ہوا اور اس نے اس دن کو ’نوروز‘ قرار دیا۔ سائنسی طور پر یہ وہ وقت ہے جسے اعتدالِ ربیعی کہا جاتا ہے، جب دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جاتا ہے اور زمین کی کوکھ سے نئی زندگی پھوٹتی ہے۔ جدید فلکیات کے مطابق یہ لمحہ زمین کے محور کے جھکاؤ اور سورج کے گرد اس کے مدار کے ا...

" بچہ اسکول گیا، لغت بن کر واپس آیا "

تصویر
  " بچہ اسکول گیا، لغت بن کر واپس آیا " ہمارے ہاں بچے کی پیدائش پر خوشی تو بہت منائی جاتی ہے، مگر کوئی اس معصوم کو یہ نہیں بتاتا کہ میاں! تم کسی ملک میں نہیں بلکہ ایک “لسانی لیبارٹری” میں پیدا ہوئے ہو۔ یہاں تمہارا مقابلہ نصاب سے نہیں بلکہ چار زبانوں سے ہے، جو ایک دوسرے کے پیچھے لاٹھی لے کر دوڑ رہی ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ جب ایک پشتون بچہ پہلی بار اسکول کے گیٹ میں قدم رکھتا ہے تو وہ ایک ہنستا کھیلتا انسان ہوتا ہے۔ مگر جوں ہی کلاس روم میں بیٹھتا ہے، اس پر “لسانی بمباری” شروع ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلے انگریزی آتی ہے، جو ہمارے ہاں علم نہیں بلکہ شرافت اور ذہانت کا سرٹیفکیٹ سمجھی جاتی ہے۔ ٹیچر بڑے فخر سے کہتے ہیں: “بیٹا! بولو A for Apple۔” بچہ دل ہی دل میں سوچتا ہے: “یہ ایپل کیا بلا ہے؟ ہم تو اسے منڑہ کہتے ہیں۔” ابھی وہ “منڑے” اور “ایپل” کے درمیان کوئی رشتہ ڈھونڈ ہی رہا ہوتا ہے کہ اردو کی باری آ جاتی ہے۔ “نہیں بیٹا، اسے سیب کہتے ہیں۔” بچہ سر کھجاتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ چیز کھانے کی ہے یا اس کے نام یاد کرنے کی؟ اور اگر یاد ہی کرنا ہے تو تین تین نام کیوں؟ ابھی وہ اسی الجھن میں ہوتا ہے ک...

" پیٹرو ڈالر اور ہرمز کا بحران: عالمی معیشت کس سمت جا رہی ہے؟"

تصویر
  " پیٹرو ڈالر اور ہرمز کا بحران: عالمی معیشت کس سمت جا رہی ہے؟" جب دنیا کے اہم ترین تجارتی راستے بحران کی لپیٹ میں آ جائیں اور عالمی تجارت کی سب سے بڑی کرنسی اپنی بالادستی کو چیلنج ہوتے دیکھے تو یہ محض علاقائی کشیدگی نہیں رہتی بلکہ اس امر کا اشارہ بن جاتی ہے کہ عالمی معاشی نظام ایک بڑے تغیر کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیاں اور توانائی کی اہم گزرگاہوں پر منڈلاتے خطرات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ "تیل کی سیاست" دراصل "عالمی معیشت کی سیاست" ہے۔ جب توانائی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ گزشتہ نصف صدی سے عالمی اقتصادی نظام ایک خاص ڈھانچے کے تحت چلتا رہا ہے، جس کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ عالمی توانائی کی تجارت زیادہ تر ایک ہی کرنسی میں ہو، اور وہ کرنسی امریکی ڈالر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عام طور پر پیٹرو ڈالر اکانومی کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت دنیا کے بیشتر ممالک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر درکار ہوتا رہا، جس نے امریک...

" قبر ایک، بندے دو: ولی خان سے نیتن یاہو تک "

تصویر
  " قبر ایک، بندے دو: ولی خان سے نیتن یاہو تک " تاریخ خود کو دہراتی نہیں ہے، بلکہ کبھی کبھی تو بالکل "فوٹو کاپی" کر کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ 1977 میں جب فوجی مارشل لاء نافذ ہوا اور ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کو پابندِ سلاسل کیا، تو ڈرائنگ رومز میں بیٹھے دانشور کہتے تھے کہ "جی، کچھ مصلحت ہو جائے گی، بھٹو صاحب کسی خلیجی ملک چلے جائیں گے یا ضیاء صاحب پیچھے ہٹ جائیں گے"۔ مگر دور بینی نگاہ رکھنے والے خان عبدالولی خان اپنے جلسوں میں ایک ہی گردان کرتے تھے: "قبر ایک ہے اور بندے دو!" ولی خان جانتے تھے کہ جس نہج پر معاملات پہنچ چکے ہیں، وہاں اب دونوں کا بچنا ناممکن ہے۔ ایک کو تخت ملنا تھا اور دوسرے کو تختہ۔ جب دو متوازی طاقتیں ایک ہی دائرے میں سمونے کی کوشش کریں، تو تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بھٹو کی کرشماتی شخصیت اور ضیاء الحق کی خاموش مگر آہنی گرفت کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی تھی، اسے مٹانے کا کوئی درمیانی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ 1979 کی ایک منحوس رات نے ولی خان کی بات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ ولی خان کی وہ بصیرت کہ "قبر ایک ...

"ویزا، باڈی گارڈ اور 'آ بیل مجھے مار': عرب شیخوں کی تزویراتی کامیڈی!"

تصویر
  "ویزا، باڈی گارڈ اور 'آ بیل مجھے مار': عرب شیخوں کی تزویراتی کامیڈی!" دنیا کی سیاست بھی عجب تماشہ ہے، کبھی پلڑا ادھر تو کبھی ادھر۔ اصل میں ہوا یہ کہ عربوں نے دفاع کے نام پر "آ بیل مجھے مار" والا ایسا فارمولا اپنایا کہ تاریخ بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ ایک طرف ایران تھا جس نے 40 سال سوکھی روٹی کھائی لیکن اپنے ڈرونز اور میزائلوں کو "پیرو جوان" کر لیا۔ دوسری طرف ہمارے عرب شیخ تھے، جنہوں نے سوچا کہ خود محنت کون کرے، امریکہ کو "کرائے کا باڈی گارڈ" رکھتے ہیں اور اپنے ملک میں اس کے اڈے بنواتے ہیں۔ ایران کے میزائلوں نے جب انگڑائی لی، تو انہیں معلوم ہوا کہ واشنگٹن تو بہت دور ہے، لیکن پڑوس میں بنے امریکی اڈے تو بالکل "ہوم ڈلیوری" والے فاصلے پر ہیں۔ اب امریکہ بہادر دور سمندر پار بیٹھا صرف "بھاشن پہ بھاشن" دے رہا ہے، جب کہ میزائل ان کی زمین پر گر رہے ہیں جنہوں نے یہ اڈے سجائے تھے۔ امریکی تو اپنا بوریا بستر گول کر کے اڈوں سے نکل رہے ہیں، لیکن زمین تو عربوں کی ہے، وہ اسے اٹھا کر کہاں لے جائیں؟ اسے کہتے ہیں "شامتِ اعمال"۔...

​ایران، امریکہ اور اسرائیل: نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن

تصویر
" ​ ایران، امریکہ اور اسرائیل: "نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن   " آج کل ٹی وی آن کریں تو لگتا ہے دنیا کسی ایکشن فلم کے کلائمیکس پر کھڑی ہے۔ ایک طرف ایران ہے جو میزائل اور ڈرونز ایسے بانٹ رہا ہے جیسے محلے میں شادی کے لڈو تقسیم ہو رہے ہوں۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں جن کی حالت اس وقت ایسی ہے کہ "نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن"۔ یعنی نہ جنگ جیت سکتے ہیں، نہ ہار مان سکتے ہیں۔ بس بیچ میں کھڑے ہو کر حیرانی سے ڈرونز کی گنتی کر رہے ہیں۔ ادھر ہمارے پیارے پاکستان کا حال دیکھیں۔ ہم نے شروع کیا ہے "آپریشن محافظِ البحر"۔ یعنی سمندر میں اب ہماری نیوی ایسے پہرا دے رہی ہے جیسے عید کی نماز کے وقت جوتوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔ ہماری سب میرینز اور ڈرونز سمندر میں گھوم رہے ہیں، اور ہر گزرنے والے جہاز سے پوچھ رہے ہیں: "بھائی صاحب، آپ کے پاس اسرائیل کا سفیر تو نہیں؟ اگر ہے تو برائے مہربانی اپنا راستہ بدل لیں، ورنہ پڑوسی ناراض ہو جائے گا!" تیل کی قیمتوں کا تو پوچھیں ہی مت! اب تو گاڑی کی ٹنکی فل کروانے کے لیے بندے کو پہلے کڈنی سیل (Kidney Sale) کا اشتہار دینا پڑت...

سر درد، پیناڈول اور قوم کے مفت ڈاکٹر

تصویر
 ہماری قوم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں ماہرین کی کبھی کمی نہیں رہی۔ بس ایک مسئلہ ہے کہ ان ماہرین کی ڈگریاں کسی یونیورسٹی یا میڈیکل کالج سے جاری نہیں ہوتیں بلکہ زندگی کے تجربات، سنی سنائی باتوں اور محلے کی دانش گاہوں سے عطا ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کسی شادی بیاہ یا تعزیت کی محفل میں چند منٹ خاموش بیٹھے رہیں تو کچھ دیر بعد کوئی نہ کوئی ایسا موضوع چھیڑنا پڑتا ہے جس سے گفتگو کا دروازہ کھل جائے۔ سیاست بلاشبہ ہماری قوم کا سب سے پسندیدہ موضوع ہے، مگر اس میں ایک خطرہ بھی ہے۔ آپ نے اگر کسی رہنما کی تعریف کر دی تو ممکن ہے سامنے بیٹھا شخص اسے قوم کی سب سے بڑی مصیبت قرار دے دے۔ پھر گفتگو کی گاڑی اچانک بریک مار کر بحث کے گڑھے میں جا گرتی ہے۔ اس لیے میں نے ایک عرصے کے تجربے کے بعد سیاست پر گفتگو سے دور رہنے کا اصول بنا لیا ہے۔ اس مشکل کا حل میں نے ایک ایسا مجرب نسخہ ڈھونڈ لیا ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ محفل میں فوری گفتگو شروع بھی ہو جاتی ہے اور کسی کو ناراض بھی نہیں کرتی۔ نسخہ یہ ہے کہ میں خاموشی سے بیٹھے بیٹھے اچانک ایک جملہ چھوڑ دیتا ہوں: “یار، چند دن سے رات کو سر میں بڑا درد رہتا ہے۔” ب...

جب جنگ تماشا بن جائے اور انسانیت ہار جائے

تصویر
  پشتو کا ایک نہایت گہرا اور معنی خیز محاورہ ہے کہ "تماشائی کا نشانہ ہمیشہ ٹھیک بیٹھتا ہے"۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات لگتی ہے لیکن اس کے پسِ منظر میں وہ تمام تر انسانی رویے پوشیدہ ہیں جو عمل کے میدان سے دور رہ کر محض زبان کے چٹخارے لینے تک محدود رہتے ہیں۔ آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بارود کی بارش کو دیکھتے ہیں، تو یہ محاورہ ہمیں اپنے ہی عہد کے ان "ڈیجیٹل مجاہدین" کے چہروں پر ایک زوردار طمانچے کی صورت دکھائی دیتا ہے جو اس ہولناک آگ کو محض ایک تماشا سمجھ کر دیکھ رہے ہیں۔ انسانی تاریخ کا شاید یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ آج جنگیں محاذوں سے زیادہ سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز پر لڑی جاتی دکھائی دیتی ہیں، جہاں انسانی لہو کی قیمت محض چند پکسلز کی ویڈیو بن کر رہ گئی ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایک عجیب و غریب تماشہ یہ لگا ہے کہ وہ لوگ جو جنگ سے دور کسی دوسرے ملک کی پرسکون فضاؤں میں زندگی گزار رہے ہیں، کسی محفوظ گوشوں میں بیٹھ کر ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ ایران، لبنان اور غزہ کے لوگوں کو مفت مشورے بانٹ رہے ہیں۔ ان کے لیے ب...

قومِ ماہرین – مشورہ فیس 500 روپے

تصویر
ریٹائرمنٹ کے بعد جب محلے میں کریانے کی دکان کھولنے کا فیصلہ کیا تو میرا خیال تھا کہ سب سے بڑا امتحان سرمایہ، سامان اور گاہک ہوں گے۔ مگر جلد ہی احساس ہوا کہ اصل امتحان کاروبار نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو کاروبار شروع ہوتے ہی خود کو مفت کے مشیر سمجھ لیتے ہیں۔ دکان کا کرایہ طے ہوا، دیواروں پر رنگ ہونے لگا اور الماریاں لگنے کا عمل جاری تھا۔ میں اپنے حساب سے دکان بنانے میں لگا رہا۔ جیسے دکان کو سیٹ کرنا شروع کیا۔  اور مختلف ضروری اشیاء لانے لگا۔محلے میں ایک نئی قسم کی تحریک شروع ہو گئی، " مفت مشورہ تحریک"۔ ایک صاحب تشریف لائے۔ چہرے پر سنجیدگی، ہاتھ میں چائے کا کپ اور آنکھوں میں مکمل اعتماد۔ انہوں نے دکان کے اندر جھانک کر کہا، “بھائی دودھ ضرور رکھو۔ اچھا بکتا ہے۔” میں نے سوچا بات سادہ ہے، فائدہ ہو گا، رکھ لیتے ہیں۔ دودھ رکھ دیا گیا۔ یہ الگ بات کہ کبھی دودھ بیچا نہیں تھا نہ کوئی تجربہ تھا، اگلے دن سارا دودھ خراب ہوگیا۔ پہلا دھچکا مفت مشورے کا۔۔۔ اگلےدن ایک اور ماہر داخل ہوا۔ اس نے شوکیس کو غور سے دیکھا اور فوراً فتویٰ صادر کر دیا، “شیشہ ٹھیک نہیں، لکڑی کا شوکیس زیادہ مضبوط رہتا ہے۔...

لہو رنگ پچ: آئینہ وزیر کی یتیمی اور بندوق کا پہرہ

تصویر
  چند دن پہلے سوشل میڈیا پر وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ایک چھوٹی بچی آئینہ وزیر کی ایک ویڈیو وائرل ہوگئی۔ اس ویڈیو میں وہ نہایت مہارت سے تیز باؤلنگ کرتی ہوئی نظر آئی۔ اس کے باؤلنگ کا انداز اتنا شاندار تھا کہ دیکھنے والوں کی زبان سے بے اختیار واہ واہ کی آوازیں نکلیں۔ ویڈیو اتنی وائرل ہوئی کہ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے آئینہ وزیر کو پشاور زلمی کے ویمن ونگ میں لینے اور اس کے تمام تعلیمی اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا۔ اسی دوران آئینہ وزیر کی ایک اور ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی جس میں وہ حکومت سے وزیرستان میں تعلیم کی ترقی کے لیے درخواست کر رہی تھی۔ اس ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے لانے والا نوجوان زعفران وزیر تھا، جس کی اپنی ویڈیو بھی سامنے آئی۔ مگر اگلے ہی دن خبر آئی کہ علاقے میں موجود دہشت گردوں نے زعفران وزیر کو اغوا کر لیا ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ ایک بچی کی ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا "خلافِ اسلام" ہے۔ اگرچہ مقامی عمائدین اور جرگے کی کوششوں سے زعفران وزیر رہا تو ہو گئے، لیکن ان سے زبردستی ایک اعترافی ویڈیو ریکارڈ کروائی گئی جس میں وہ نہایت کرب اور خوف کے عالم...

سانپ اور نیولے کی لڑائی کا جدید چورن

تصویر
  ​تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ "مداری" برصغیر کی تہذیب کا وہ لافانی کردار ہے جس نے کبھی ہار نہیں مانی۔ قدیم زمانے میں مداری وہ شخص ہوتا تھا جس کے پاس ایک میلا سا تھیلا، ایک  پٹاری اور لفظوں کا ایسا جادو ہوتا تھا کہ وہ تپتی دوپہر میں مجمعے کو گھنٹوں ایک پاؤں پر کھڑا رکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کی تعریف سادہ تھی، وہ شخص جو "ہونے والا ہے" کی امید بیچ کر "جو ہے" اسے لوٹ لے۔ وہ زمین پر دری بچھاتا، اپنی بین بجاتا اور دعویٰ کرتا کہ آج اس کی پٹاری سے نکلنے والا ناگ اس نیولے کے پرخچے اڑا دے گا جو اس کے دوسرے تھیلے میں بند ہے۔ لوگ کام کاج چھوڑ کر رک جاتے، سانسیں روک لیتے، کیونکہ انسانی جبلت کو تماشے اور خون خرابے سے پرانی رغبت ہے۔ مداری جانتا تھا کہ جب تک پٹاری بند ہے، اس کی اہمیت بادشاہ سے کم نہیں۔ وہ سانپ نکالنے سے پہلے ہربل ادویات، گنجے پن کے تیل اور "مردانہ کمزوری" کی دوائیں بیچتا۔ مجمع اس اشتیاق میں کہ ابھی "خونی معرکہ" شروع ہوگا، وہ بیکار قسم کی دوائیاں مہنگے داموں خرید لیتا۔ آخر میں جب مداری کی جیب گرم ہو جاتی، تو وہ کمالِ ہ...

لیکس بطور سیاسی و اقتصادی ہتھیار

تصویر
گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا نے ایسے انکشافات دیکھے ہیں جنہوں نے عالمی سیاست اور معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ محض صحافتی جرات کے مظاہر نہیں تھے بلکہ ڈیجیٹل عہد میں معلومات کی بڑھتی ہوئی طاقت کی علامت تھے۔ ہر لیک، ہر خفیہ فائل اور ہر افشا شدہ دستاویز اپنے اندر سیاسی اور اقتصادی اثرات سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ معلومات سامنے آئیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کب، کس کے ذریعے اور کس عالمی تناظر میں منظرِ عام پر لائی گئیں۔ 2010 میں جولین اسانج کی تنظیم وکی لیکس نے امریکی سفارتی کیبلز اور عراق و افغانستان جنگ سے متعلق خفیہ رپورٹس جاری کیں۔ اس اقدام نے نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا بلکہ سفارتکاری کی دنیا میں اعتماد کے بحران کو بھی جنم دیا۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ معلومات کا اجرا محض خبر نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست میں مداخلت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ 2013 میں ایڈورڈ سنوڈن نے National Security Agency کے نگرانی پروگراموں کو بے نقاب کیا۔ اس انکشاف نے امریکہ سمیت یورپ میں بھی سیاسی ردعمل پیدا کیا۔ جرمنی میں اس وقت کی چانسلر انگیلا میرکل کے فون کی نگرانی کی خبر ...

ایپسٹین فائلیں: ایک شخص، ایک نظام، اور دبائی گئی آوازیں

تصویر
جیفری ایپسٹین نہ کوئی سیاست دان تھا اور نہ کوئی نظریاتی رہنما۔ وہ ایک امیر امریکی فنانسر تھا، جس کی رسائی اقتدار کے ایوانوں، شاہی محلات اور عالمی اشرافیہ کی محفلوں تک تھی۔ تاریخ میں اس کا نام دولت یا مالی ذہانت کے سبب نہیں لکھا جائے گا، بلکہ اس لیے لکھا جائے گا کہ اس نے طاقت اور پیسے کو کم عمر بچیوں کے خلاف منظم جرائم میں بدل دیا۔ ایپسٹین کی کہانی دراصل ایک فرد سے زیادہ ایک نظام کی کہانی ہے۔ وہ نظام جو طاقتور کو تحفظ دیتا ہے اور کمزور کو شک کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ 2005 میں فلوریڈا میں پہلی بار ایپسٹین کے خلاف سنجیدہ الزامات سامنے آئے۔ ایک کم عمر لڑکی کے والدین نے پولیس سے رجوع کیا اور بتایا کہ ان کی بیٹی کو “مالش” کے بہانے ایپسٹین کے گھر بلایا گیا، جہاں اس کا جنسی استحصال ہوا۔ تحقیقات آگے بڑھیں تو ایک، دو نہیں بلکہ درجنوں کم عمر لڑکیاں سامنے آئیں، جن کی کہانیاں ایک دوسرے سے خوفناک حد تک ملتی جلتی تھیں۔ اس کے باوجود 2008 میں ایپیسٹین کو ایک غیر معمولی رعایت ملی۔ اس نے ایک محدود الزام پر اعترافِ جرم کیا اور بدلے میں سنگین وفاقی مقدمات سے بچ گیا۔ اسے صرف 13 ماہ قید کی سزا دی گئی، ...

بلوچستان: بارود، سرحدیں اور عالمی بساط

تصویر
  بلوچستان میں حالیہ دنوں پیش آنے والے منظم  حملے محض چند سیکیورٹی واقعات نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسے خطے میں رونما ہوئے جہاں جغرافیہ خود سیاست لکھتا ہے، اور سیاست خون میں ترجمہ ہو جاتی ہے۔ بارہ سے زائد مقامات پر بیک وقت حملے، سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ عام شہریوں کی ہلاکت، اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرتی ہوئی یہ کارروائیاں سوال اٹھاتی ہیں کہ آیا ہم انہیں صرف داخلی شورش کے خانے میں رکھیں، یا اس شور میں بیرونی طبلوں کی آوازیں بھی سنیں۔ بلوچستان کوئی سادہ صوبہ نہیں۔ یہ پاکستان کا وہ دروازہ ہے جو ایران، افغانستان اور بحیرۂ عرب تینوں سے جڑا ہے۔ یہاں ہر گولی صرف مقامی نہیں ہوتی، اور نہ ہی  ہر دھماکے کے پیچھے صرف مقامی کہانی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بلوچستان میں کچھ ہوتا ہے، تو اس کے سائے تہران سے لیکر مشرق وسطیٰ اور واشنگٹن کے سمندری گزرگاہوں تک پھیل جاتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد ایک کاغذی لکیر ضرور ہے، مگر زمینی حقیقت میں یہ ایک زندہ، سانس لیتی، اور اکثر زخمی رہنے والی حد بندی ہے۔ اس سرحد کے دونوں طرف بلوچ آباد ہیں، رشتے ہیں، تجارت ہے، اور ساتھ ہی محرومیاں بھی ہیں...

انتون چیخوف اور انسانی وجود کی سادہ حقیقت

تصویر
​انتون چیخوف (1860 - 1904) روس کے وہ مفکر ہیں جنہوں نے فلسفے کو محلات اور بلند بانگ دعوؤں سے نکال کر ایک عام انسان کے ڈرائنگ روم اور کچن تک پہنچا دیا۔ ان کا فلسفہ کسی بڑے "ازم"  کا پابند نہیں، بلکہ وہ زندگی کو ویسا ہی دیکھتے ہیں جیسی وہ ہے. ادھوری، تھوڑی سی مضحکہ خیز اور تھوڑی سی اداس۔ چیخوف پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے اور ان کا قول تھا کہ "میڈیسن میری قانونی بیوی ہے اور ادب میری محبوبہ"۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فلسفے میں ایک ڈاکٹر کی سی بے رحمانہ سچائی اور ایک ادیب کی سی ہمدردی بیک وقت موجود ہے۔ وہ روسی فکر کے ان خاموش فلسفیوں میں سے ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کی معنویت پر وہ کچھ لکھ دیا جو بڑے بڑے فلسفی ضخیم کتابوں میں نہ لکھ سکے۔ ​چیخوف کا فلسفہ دوستوفسکی کی طرح پرجوش نہیں اور نہ ہی ٹالسٹائی کی طرح تبلیغی ہے، بلکہ ان کا فلسفہ خردبینی ہے۔ وہ انسان کو اس کی تمام تر کمزوریوں، بوریت اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ ​چیخوف کے فلسفے کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ زندگی میں اکثر کچھ بھی بڑا نہیں ہوتا۔  ان کے کردار اکثر کسی بڑی تبدیلی کا انتظار کرتے رہتے...

سقراط — ضمیر کی عدالت اور سوال کی حرمت کا علمبردار

تصویر
​انسانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو کسی خاص عہد میں جنم تو لیتی ہیں، مگر ان کی فکر زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ابدیت اختیار کر لیتی ہے۔ قدیم یونان کی گلیوں سے اٹھنے والی ایک ایسی ہی آواز نے شہنشاہوں کے درباروں کی بجائے انسانی ذہنوں میں وہ ارتعاش پیدا کیا جس کی گونج آج ڈھائی ہزار سال بعد بھی سنائی دیتی ہے۔ وہ آواز سقراط کی تھی۔ ​سقراط کوئی روایتی فلسفی نہیں تھا جو بند کمروں میں بیٹھ کر کائنات کے اسرار و رموز پر پیچیدہ نظریات ترتیب دیتا۔ وہ ایک بیدار مغز انسان تھا جس نے ایتھنز کے پررونق بازاروں میں کھڑے ہو کر عام لوگوں سے وہ سوالات کئے جن کا جواب دینا مصلحت پسند معاشرے اور اقتدار کے ایوانوں کے لیے ہمیشہ دشوار رہا۔ اس کا حلیہ سادہ، پاؤں ننگے اور ہاتھ خالی تھے، مگر اس کے پاس "سوال" کا وہ ہتھیار تھا جس نے صدیوں سے رائج جہالت اور توہمات کے قلعوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ​سقراط کا سب سے بڑا کارنامہ 'طریقہِ سوال'  کی ایجاد ہے۔ وہ کسی کو علم کی گھٹی نہیں پلاتا تھا، بلکہ اس کا ماننا تھا کہ سچائی ہر انسان کے اندر موجود ہوتی ہے، ایک استاد کا کام صرف اسے باہر نکالنا ہے...

گندھارا کی دانش گاہ: پانینی سے چانکیہ تک علم کا سفر

تصویر
  گندھارا اور ٹیکسلا صرف ماضی کے نام نہیں، یہ انسانی دانش کے وہ سرچشمے ہیں جہاں سے زبان نے سائنس سیکھی اور سیاست نے نظم سیکھی۔ یہ خطہ محض ہمارا جغرافیہ نہیں، بلکہ عالمی تہذیب کی مشترکہ وراثت ہے۔ گندھارا اور ٹیکسلا کا خطہ محض بدھ خانقاہوں یا مجسمہ سازی تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ انسانی فکر کی عظیم تجربہ گاہ تھا۔ یہاں زبان کو الگورتھم ملا، سیاست کو اصول ملے، اور علم کو سوال کرنے کی آزادی ملی۔ یہ خطہ تہذیبوں کا سنگم تھا جہاں وادیٔ سندھ، وسطی ایشیا، فارس اور گنگا کے میدان ایک دوسرے سے جڑتے تھے۔  ٹیکسلا دنیا کی اولین جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ جسے بعض محققین دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی قرار دیتے ہیں، جس کی بنیاد پانچویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی ۔ یہاں فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، سیاست اور لسانیات جیسے علوم پڑھائے جاتے تھے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان مکالمہ اور تنقید کی روایت عام تھی۔  پانینی کی پیدائش تقریباً 520 قبل مسیح میں شالاتورا نامی گاؤں میں ہوئی، جو موجودہ ضلع اٹک کے قریب دریائے سندھ اور کابل کے سنگم پر واقع تھا۔ پانینی نے سنسکرت زبان کے لیے قریب 3959 قواعدی اصول مرتب...